Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / نظام آباد میں زیرزمین ڈرینج کا تعمیری کام ادھورا

نظام آباد میں زیرزمین ڈرینج کا تعمیری کام ادھورا

نظام آباد:24؍ جولائی ( محمد جاوید علی)شہر نظام آباد میں انڈر گرائونڈ ڈرینج کی تعمیر کیلئے 7 سال قبل کام شروع کیا گیا تھا عہدیداروںکے عدم تعاون کی وجہ سے اراضی کے حصول نہیں ہوسکی اور زیر زمین تعمیر ڈرینج کے کام ادھورے ہوگئے اور اس اسکیم کی تعمیر کیلئے کیا گیا تخمینہ دو گنا اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے یہ اسکیم ادھوری ہوگئی ہے۔ اس اسکیم کی

نظام آباد:24؍ جولائی ( محمد جاوید علی)شہر نظام آباد میں انڈر گرائونڈ ڈرینج کی تعمیر کیلئے 7 سال قبل کام شروع کیا گیا تھا عہدیداروںکے عدم تعاون کی وجہ سے اراضی کے حصول نہیں ہوسکی اور زیر زمین تعمیر ڈرینج کے کام ادھورے ہوگئے اور اس اسکیم کی تعمیر کیلئے کیا گیا تخمینہ دو گنا اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے یہ اسکیم ادھوری ہوگئی ہے۔ اس اسکیم کی تکمیل کیلئے شہریان کی جانب سے گذشتہ کئی سالوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے مرکزی حکومت کے فنڈس کی منظوری سے اس اسکیم کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے لیکن عہدیداروں کی دلچسپی بھی ناگزیر ہے عہددیاروں کی دلچسپی سے ہی سرکاری اسکیمات کی عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 23؍ مئی 2007 ء میں انڈر گرائونڈ ڈرینج کی تعمیر کیلئے حکومت کی جانب سے منظوری دیتے ہوئے جی او نمبر 357 اربن ڈیولپمنٹ کی جانب سے جی او جاری کیا گیا اور 7؍ اگست 2007 میں ٹکنیکل اڈمنسٹریشن سکشن کیا گیا اور 94.44 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ 2036 تک آبادی کے تناسب سے 5.77 لاکھ آبادی کی ضرورتوں کی تکمیل کے مطابق اس اسکیم کو ترتیب دیا گیا ۔ اور24؍ مارچ 2008 ء میں ایل این ٹی کمپنی سے معاہد ہ کرتے ہوئے 2010 ء میں تکمیل کرنے کی وضاحت کی گئی ۔ پبلک ہیلت آراینڈ بی سائوتھ سنٹرل ریلوے اور گتہ دار کے درمیان عدم تعاون کی وجہ سے یہ کام آج تک بھی تکمیل نہیں ہوسکے۔ تخمینہ کے مطابق 55 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے لیکن شہر میں انڈ گرائونڈ ڈرینج کے کام تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے شہریان کی مصیبتوں میں اور بھی اضافہ ہوگیا اور آہستہ آہستہ تخمینہ کی رقم سے کئی گنا زیادہ رقم بڑھ گئی اب تک شہر میں 305 کیلو میٹر پائپ لائن کے کام تکمیل کئے گئے 12742 مین ہولس تعمیر کئے گئے ۔ شہر میں جملہ 3 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی تعمیر کیلئے فیصلہ کیا گیا تھا ایس ٹی پی کے ذریعہ انڈر گرائونڈ کے ذریعہ آنے والا گندہ پانی پمپمنگ کے ذریعہ شہر کے 3 علاقوں میں پانی کو چھوڑنے کیلئے ایس ٹی پی کی تعمیر کیلئے پبلک ہیلت کے ذریعہ دبہ کے علاقوں میں 88 ایکر آرمور روڈ سکجیت فیکٹری کے قریب 17 ایکر اور ایلمہ گٹہ میں 53 ایکر پر ایس ٹی پی کی تعمیر کیا جانا چاہئے تھا لیکن ایلمہ گٹہ کے علاقہ میں اور آرمور روڈ کے علاقہ میں ایس ٹی پی کی تعمیر نہیں ہوسکی اور یہ کام آج بھی ادھورے ہیں ۔ دبہ کے علاقہ میں ایس ٹی پی قائم کیا گیا اور 38 کروڑ روپئے سے ایس ٹی پی قائم کیا گیا اور اس کا آغاز کرنا بھی ضروری ہے دبہ کے علاقہ میں تعمیر کئے جانے والی ایس ٹی پی کے ذریعہ شہرکا 65 فیصد زیر زمین کا پانی باہر نکالا جاتا ہے اگر اس ایس ٹی پی کو شروع کیا گیا تو عوام کا اعتماد بحال ہونے کے امکانات ہیں اس ایس ٹی پی کے تحت مالاپلی، کھوجہ کالونی، برکت پورہ، آٹو نگر، قلعہ ، نامدیواڑہ اور کنٹیشور کا نصف علاقہ اور دیگر کالونیوں اس کے تحت جملہ 17 کیلو میٹر کا علاقہ ہے شہر نظام آباد میں اب تک 305 کیلو میٹر زیر زمین میں پائپ لائنوں کی تنصیب کی گئی ہے جبکہ مزید 45 کیلو میٹر پائپ لائن کی تکمیل باقی ہے اور 2442 مین ہولس کی تعمیر باقی ہے ۔ سکجیت اسٹارچ میل کے قریب ایس ٹی پی کی تعمیر کیلئے اراضی کا حصول کا مسئلہ زیر التواء ہے یہاں پر کسانوں کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے یلمہ گٹہ اور سکجیت فیکٹری کے ایس ٹی پی او کے حصول اراضی کیلئے کی وجہ سے اسکیم کی تعمیر میں دن بہ دن تاخیر ہوتی جارہی ہے اور عہدیدار اس مسئلہ کے حل کیلئے پلان کی تبدیلی بھی ناگزیر ہے اور عہدیدار کی جانب سے اس معاملہ میں دلچسپی دکھانے کی ضرورت میں یہ کاموں کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔94.44 کروڑ روپئے سے شروع کردہ یہ اس اسکیم کا تخمینہ کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے موجودہ تخمینہ کے تحت 203.62 کروڑ روپئے درکار ہے اس کیلئے آندھرا پردیش اربن ڈیولپمنٹ منیجنگ ڈائریکٹر نے مرکزی حکومت کو تحریر کرتے ہوئے فنڈس کی منظوری کی خواہش کی تھی۔ موجودہ رقم کے ٹنڈرس طلب کرتے ہوئے ایس ٹی پی کی تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے عہدیداروں کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی صورت میں یہ کام آگے بڑھنے کے امکانات ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT