Tuesday , September 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / نظام آباد میں غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کا سلسلہ جاری

نظام آباد میں غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کا سلسلہ جاری

نظام آباد:25؍ مارچ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار گذشتہ دو دنوں سے غیر مجاز اراضیات پر قائم قبضوں کو برخواست کردینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج شہر کے ڈیویژن نمبر 36 دوڈو کمریا نگر میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ جات کو برخواست کراتے ہوئے محکمہ ریونیو،میونسپل کارپوریشن اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔ تفصیلا

نظام آباد:25؍ مارچ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار گذشتہ دو دنوں سے غیر مجاز اراضیات پر قائم قبضوں کو برخواست کردینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج شہر کے ڈیویژن نمبر 36 دوڈو کمریا نگر میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ جات کو برخواست کراتے ہوئے محکمہ ریونیو،میونسپل کارپوریشن اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔ تفصیلات کے مطابق شہر کے مضافات میں واقع ڈیویژن نمبر 36 کے دوڈو کمریا میں گذشتہ چند سالوں سے بعض قائدین اور درمیانی افراد کی جانب سے غریب عوام سے خطیر رقم وصول کرتے ہوئے بے سہارا افراد کو پلاٹس فراہم کرنے کے نام پر قبضہ کروایا۔ غریب بے گھر عوام کی کثیر تعداد اس علاقہ میں جھونپڑیوں، ٹین پوش اور پختہ دیوار کے ذریعہ مکانات قائم کرنے پر ریونیو عہدیداروں کی جانب سے آج کارروائی کرتے ہوئے ان قبضہ جات کو برخواست کروایا گیا۔ بعض سیاسی قائدین اور درمیانی افراد اس علاقہ میں غریب عوام سے 15 تا 20 ہزار روپئے فی کس حاصل کرتے ہوئے 70 فٹ پر مشتمل امکنہ اراضی کے نام پر ایک موظف ریونیو ملازم کے ساز باز سے جعلی پٹہ سرٹیفکٹ تیار کرتے ہوئے ان افراد کو دھوکہ دیا جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس موقع پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تحصیلدار نظا م آباد راجندر نے کہا کہ گذشتہ ہفتہ اس علاقہ میں غیر مجاز قبضہ کرتے ہوئے مکانات قائم کرنے کی اطلاع پر دورہ کرتے ہوئے معائنہ کیا گیا تھا اور قبضہ داروں کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ کی گئی تھی جس میں زائد از جعلی پٹہ سرٹیفکٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور اس خصوص میں مبینہ طور پر ایک محکمہ ریونیو کے موظف ملازم کا ہاتھ ہونے کا بھی اظہار کیا گیاجن کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی اس طرح آج ان قبضہ جات کو برخواست کرنے کی کارروائی کی گئی۔اس کارروائی کے موقع پر تحصیلدار راجندر کے علاوہ ملکارجن، رورل سرکل انسپکٹر کے علاوہ پولیس کی بھاری جمعیت موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT