Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / نظام اوقاف کمیٹی کے ساتھ منگل کو وقف بورڈ کا اجلاس، شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ اور دیگر اراضیات کی بازیابی کا جائزہ

نظام اوقاف کمیٹی کے ساتھ منگل کو وقف بورڈ کا اجلاس، شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ اور دیگر اراضیات کی بازیابی کا جائزہ

حیدرآباد۔ 13 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں نظام کی وقف کردہ اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں منگل 17 اپریل کو صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے نظام اوقاف کمیٹی کے ساتھ اجلاس طلب کیا ہے۔ نظام دور حکومت میں حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں کئی قیمتی جائیدادیں اور اراضیات وقف کی گئی تھیں جن پر حکومت یا غیر مجاز قابضین نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کی اراضی نظام اوقاف کمیٹی ملکیت ہے جس کا مقدمہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اوقاف کمیٹی کے صدرنشین اور ارکان سے مشاورت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ طور پر قانونی جدوجہد کی جائے تاکہ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ اور دیگر اراضیات کا تحفظ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر نامور وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں پیروی کی جائے گی۔ درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ پہاڑی شریف کے تحت موجود وقف راضی کو حکومت نے انٹرنیشنل ایرپورٹ اور دیگر اداروں کے لیے الاٹ کردیا ہے۔ نظام اوقاف کمیٹی نے وقف ٹربیونل میں مقدمہ دائر کیا تھا لیکن انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے ٹربیونل کی کارروائی پر ہائی کورٹ میں حکم التوا حاصل کرلیا۔ اس معاملہ میں وقف بورڈ اور اوقاف کمیٹی مشترکہ طور پر عدالت سے رجوع ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کمیٹی سے نظام کی جانب سے وقف کردہ جائیدادوں اور اراضیات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ تاکہ ان کے موجودہ موقف کا جائزہ لیا جاسکے۔ آصف جاہی حکمرانوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کئی جائیدادوں کو وقف کردیا۔ وقف بورڈ میں بعض جائیدادوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ وقف بورڈ کے ریکارڈ سے نظام کی وقف کردہ جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور دونوں کے ریکارڈ کا منگل کے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر نظام کی جائیدادوں کو بچانے کے لیے چیف منسٹر سے نمائندگی کی جائے گی۔ اسی دوران عیدگاہ گٹلا بیگم پیٹ کے مقدمہ کے سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ نے لیگل ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں سے مشاورت کی۔ غیر مجاز قابضین نے وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کیا گیا جس کی سماعت جاریہ ماہ کے اواخر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی اور پولیس اور ریونیو حکام کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT