Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / نظام دور حکومت سے حیدرآباد کو کاسمو پولیٹن شہر کا موقف

نظام دور حکومت سے حیدرآباد کو کاسمو پولیٹن شہر کا موقف

ٹی آر ایس حکومت کے 100 دن میں حیدرآباد برانڈ کمزور، ایس جئے پال ریڈی کا بیان

ٹی آر ایس حکومت کے 100 دن میں حیدرآباد برانڈ کمزور، ایس جئے پال ریڈی کا بیان
حیدرآباد /12 ستمبر ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ کے سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے آج الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے اپنے پہلے 100 دن میں حکمرانی کے دوران حیدرآباد کے برانڈ امیج کو کمزور کردیا ہے ۔ مسٹر جئے پال ریڈی نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ 100 دن کے بعد خود چیف منسٹر کے سی آر نے یہ اعتراف کیا ہے کہ 100 دن کے دوران انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حیدرآباد کا برانڈ کمزور ہوگیا ہے ۔ حیدرآباد نظام دور حکومت سے ایک کاسموپولیٹن برانڈ کا حامل تھا ‘‘ ۔ مسٹر جئے پال ریڈی نے کہا کہ ’’ نہ صرف تلگو بولنے والے عوام بلکہ مراٹھی اور کنڑا بولنے والے عوام ، مارواڑی دوست اور گجراتی بھائی بھی اُس دور سے یہاں رہ رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس حکومت نے اس ساکھ کو متاثر کیا ہے ‘‘ ۔ مسٹر جئے پال ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کو چاہئے کہ وہ کوئی منفی کام نہ کریں بجائے اس کے ان وعدوں پر عمل آوری کی کوشش کی کی جائے جو وعدے حکمراں جماعت نے عوام سے کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ جمہوریت میں سب سے اہم چیز صحافت کی آزادی ہے ۔ 100 دن کے دوران انہوں (ٹی آر ایس حکومت ) نے میڈیا کو دھمکیاں دی اور چند چیانلس بند کرچکی ہیں ۔ تلنگانہ کو ایک نئی ریاست بنایا گیا ہے ۔ اس کی نیک نامی متاثر ہوئی ہے ۔ ہم کے سی آر سے صرف یہ درخواست ہی کرسکتے ہیں کہ وہ ایسے منفی کام نہ کریں اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرنے کی کوشش کریں ‘‘ ۔ مسٹر جئے پال ریڈی نے کہا کہ اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی جیسے جھوٹے وعدوں کے ذریعہ ٹی آر ایس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے حالانکہ ریاست تلنگانہ کے عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی بدولت ہی علحدہ ریاست کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوا ہے ۔ نریندر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے جئے پال ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے ہندوستانیوں کی جانب سے بیرونی ممالک میں پوشیدہ رکھے گئے کالے دھن کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب مرکزی وزراء اس مسئلہ پر مختلف آوازوں میں باتیں کر رہے ہیں ۔ مسٹر جئے پال ریڈی نے کہا ہے کہ ’’ انتخابات سے قبل مودی کہا کرتے تھے کہ ملک کی دولت بیرونی ممالک میں ہے وہ اس کی گنتی کر چکے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ کالا دھن 84 لاکھ کروڑ روپئے پر مشتمل ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے اندرون 3 ماہ ہم یہ کالا دھن ملک واپس لائیں گے اور دیانتدار ٹیکس دہندگان میں تقسیم کریں گے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی یہ کہہ رہے ہیں ایسا کرنا مشکل ہے بیرونی ملک سے کالا دھن لانا ممکن نہیں ہے ۔ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ کس کے نام پر یہ رقم جمع ہے ۔ 100 دن کے اندر بی جے پی قائدین اپنے ایک انتہائی اہم وعدہ سے مکر گئے ہیں ۔ اس حکومت کو پہچاننے کیلئے یہ ایک مثال کافی ہے ‘‘۔ جئے پال ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ ، مودی کے انتہائی اہم سیاسی ساجھیدار ہیں اور جہاں کہیں بھی وہ جاتے ہیں وہاں فسادات ٹوٹ پڑتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT