Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / نظام دور حکومت کے خلاف کانگریس و تلگودیشم کی زہر افشانی

نظام دور حکومت کے خلاف کانگریس و تلگودیشم کی زہر افشانی

حیدرآباد۔20جنوری ( سیاست نیوز) ریاستی اسمبلی میں آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2013ء پر مباحث آج اصل موضوع سے ہٹ کر سابق حکمران نظام دکن پر مرکوز ہوگئے ۔ ایوان میں سیما آندھرا و تلنگانہ قائدین مسرس پی کیشو سیما آندھراقائد و رکن تلگودیشم ‘ڈاکٹر ایس شیلجا ناتھ سیما آندھرا قائد و وزیر اُمور مقننہ کے علاوہ ایم نرسمہلو ‘ و رکن اسمبلی تلگودیش

حیدرآباد۔20جنوری ( سیاست نیوز) ریاستی اسمبلی میں آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2013ء پر مباحث آج اصل موضوع سے ہٹ کر سابق حکمران نظام دکن پر مرکوز ہوگئے ۔ ایوان میں سیما آندھرا و تلنگانہ قائدین مسرس پی کیشو سیما آندھراقائد و رکن تلگودیشم ‘ڈاکٹر ایس شیلجا ناتھ سیما آندھرا قائد و وزیر اُمور مقننہ کے علاوہ ایم نرسمہلو ‘ و رکن اسمبلی تلگودیشم نے سابق نظام حکومت کے خلاف زہر افشانی کی ۔ سابق نظام حکومت کے خلاف ریمارکس پر مجلس ارکان نے برہمی کا اظہار کرکے اسپیکر پوڈیم کے پاس پہنچ کر احتجاج کیا ۔ علاوہ ازیں نظام حکومت کے خلاف زہر افشانی پر ٹی آر ایس ارکان اسمبلی نے سخت احتجاج کیا ۔ دونوں ہی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے مذکورہ قائدین کے ریمارکس کو حذف کرنے کے علاوہ معذرت خواہی کا مطالبہ کیا

جس پر اسپیکر نے ریکارڈ کا جائزہ لیکر قابل اعتراض ریمارکس کو حذف کرنے کا تیقن دیا ۔ تلگو دیشم رکن مسٹر پی کیشو نے اپنی بحث میں سابق نظام حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نظام حکومت میں صرف اردو اور فارسی زبان کے سوا تلگو زبان کا رواج نہیں تھا جس کے خلاف آندھرا مہا سبھا نے راست تلگو زبان کے سلسلہ میں تحریک نہ چلاکر بالواسطہ تلگو زبان کو فروغ دینے گاؤں گاؤں میں ’’ لائبریری مومنٹ شروع کیا اور کہا کہ نظام حکومت میں تلگوزبان کے تعلق سے’’ تلنگی ۔ بے ڈھنگی ‘‘ جیسے ریمارکس کئے جاتے تھے ۔ کیشو نے کہا کہ نظام حکومت میں حیدرآباد کو ترقی دینے تعمیری کاموں میں محنت مزدوری کرنے والے رائلسیما کے افراد تھے ۔ وزیر مقننہ ایس شیلجا ناتھ نے سابق نظام حکومت کے خلاف زہرافشانی کرتے ہوئے نظام کے ترقیاتی کاموں کی ٹی آر ایس کی جانب سے ستائش کرنے پر کہا کہ ایک آمرانہ حکومت و ظالم حکمران کی تائید میں بات کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہے ۔ علاوہ ازیں ملک کے خلاف بات کرنے سے تعبیر کیا جس کے خلاف فوری مجلس کے ارکان نے برہمی کا اظہار کیا اور اسپیکر پوڈیم کے پاس پہنچ کر احتجاج کیا اور اسپیکر سے الجھ گئے ۔ اسی دوران تلنگانہ تلگودیشم فورم قائد و رکن اسمبلی تنگا ترتی مسٹر ایم نرسمہلو نے کہا کہ سابق نظام حکومت میں ورنگل کے مقام پر بتکماں کھیلنے والی خواتین کے ملبوسات اتارکر بتکماں کھیلنے پر مجبور کرنے والی سابق نظام حکومت کی ہرگز تائید نہیں کی جانی چاہیئے بلکہ اس کی مخالفت کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے درحقیت ٹی آر ایس فلور لیڈر مسٹر ای راجندر کی جانب سے سابق نظام حکومت کی ستائش پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ مسٹر نرسمہلو و دیگر ارکان کے نظام حکومت کے خلاف ریمارکس کے پس منظر میں قائد مجلس اکبر الدین اویسی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’جو بھی سابق نظام کا نام غلط انداز میں لیں گے تو انہیں ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے زخموں کو کرید کر تازہ کرنے کی کوشش نہ کریں اگر ان زخموں کو کرید کر تازہ کرنے پر خون رسے گا جس سے ہر ایک کو ( سیما آندھرا و تلنگانہ قائدین کو ) تکلیف اٹھانی پڑے گی ۔

انہوں نے قائد اپوزیشن و صدر تلگودیشم مسٹر چندرا بابو نائیڈو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یاد دلایا کہ مسٹر نائیڈو نے سابق میں بی جے پی سے مفاہمت ناکام ہوجانے پر اقلیتوں سے معذرت خواہی کی تھی اور بی جے پی سے مفاہمت کی غلطی کا اعتراف کر کے اقلیتوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ بی جے پی سے مفاہمت کرنے کی کبھی دوبارہ غلطی نہیں کریں گے لیکن مسٹر نائیڈو نے محض اقتدار کے ہوس میں تمام وعدوں کو فراموش کردیا اور پھر ایک بار بی جے پی کے وزارت عظمی امیدوار و چیف منسٹر گجرات مسٹر نریندر مودی سے ملاقات کر کے ان کی گود میں بیٹھ گئے ہیں ۔ انہوںنے ان سے دریافت کیا کہ آیا یہ مسٹر نائیڈو کا دوہرا معیار نہیں ہے ۔ اس طرح آج اسمبلی میں ہوئے مباحث سے یہ بات صاف واضح ہوچکی ہیکہ سیما آندھرا قائدین کے ساتھ بعض تلنگانہ تلگودیشم قائدین کی ذہنیت کا اندازہ ہوا اور ان کے اصلی چہرے بے نقاب ہوگئے ۔ یہاں تک کہ سابق نظام حکومت کی تعمیر کردہ اسمبلی عمارت میں بیٹھ کر ان قائدین نے سابق نظام حکومت کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کئے ۔

TOPPOPULARRECENT