Monday , November 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نظام شوگر فیاکٹری مسئلہ پراسمبلی کو گمراہ کرنے کا چیف منسٹر پر الزام

نظام شوگر فیاکٹری مسئلہ پراسمبلی کو گمراہ کرنے کا چیف منسٹر پر الزام

حکومت کو مزدور اورکسانوں کے مفادات سے دلچسپی نہیں‘ نظام آباد میں جے اے سی قائدین کا بیان
نظام آباد:22؍ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے جاریہ اسمبلی اجلاس میں نظام شوگر فیکٹری کو دوبارہ آغاز کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کو گمراہ کرنے اور غلط بیانی سے کام لینے کے سنگین الزامات عائدکرتے ہوئے نظام آباد ضلع جے اے سی چیرمین گوپال، شرط ایڈوکیٹ نے چیف منسٹر کے بیان کی شدید مذمت کی او رکہا کہ نظام شوگر فیکٹر ی دور نظام حکومت میں آغازہوکر 70 سالو ںسے کامیابی سے چلائی جارہی تھی ٹی آرایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد مکمل طور پر بند ہوگئی شرمناک بات ہے۔ ضلع جے اے سی چیرمین گوپال شرما آج نظام آباد پریس کلب میں صحافتی کانفرنس سے مخاطب تھے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اتنی بڑی نظام شوگر فیکٹری کو کوآپریٹیو سسٹم کے تحت چلانے کی بات کرتے ہوئے تلنگانہ تحریک کید وران اور انتخابات میں 100 دنوں میں نظام شوگر فیکٹری کو حکومت کے تحت چلانے کا اعلان کرتے چلے آرہے تھے آج اپنے عہد سے منحرف ہوکر تلنگانہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ گوپال شرما نے کہا کہ سارنگ پور شوگر فیکٹری کو کوآپریٹیو سیکٹر کے تحت چلانے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے تو کس طرح تنی بڑی نظام شوگر فیکٹری کو کوآپریٹیو سیکٹر کے تحت چلانے کی بات کرتے ہوئے اپنے وعدہ سے مکرر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام شوگر فیکٹری میں ریاستی حکومت 49 فیصد شیئر ہے جبکہ خانگی طور پر 51 فیصد شیئر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظام شوگر فیکٹری کو چلانے کیلئے ہاؤز کمیٹی پر مشتمل کل جماعتی قائدین ٹی آرایس ، کانگریس ، تلگودیشم ،باجی ریڈی گوردھن، پدما دیویندر ریڈی، چنا ریڈي، کلاوینکٹ ریڈی ودیگر پر مشتمل ارکان اسمبلی نے مثبت انداز میں رپورٹ پیش کی تھی ۔ تلنگانہ حکومت اس رپورٹ پر کیوں عمل کرنے سے گریز کررہی ہے اور چیف منسٹر کے سی آر کو شوگر فیکٹری ملازمین اور نیشکر کاشتکاروں کے مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نظام شوگرفیکٹری کے تحت تقریباً 400 ملازمین وابستہ ہیں اور ان ملازمین کو حکومت گذشتہ 10 مہینوں سے تنخواہ سے محروم کر رکھی ہے جبکہ نظام شوگر فیکٹری میں49 فیصد حصہ داری کے لحاظ سے ملازمین کو تنحواہ 2.50 کروڑ روپئے ادا کرسکتی ہے۔ ضلع چیرمین جے اے سی گوپال شرما نے تلنگانہ حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نظام شوگر فیکٹری کو دوبارہ آغاز کرے اور ملازمین وکسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ملازمین کے بقایاجاتا فوری اداکرنے کے عملی اقدامات کرے۔ا س سلسلہ میں نظام آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر، ارکان پارلیمنٹ واسمبلی بھی اس سلسلہ میں حکومت پر ڈباؤ ڈالے۔ انہوں نے بتایاکہ نظام شوگر فیکٹری کا دوبارہ آغاز کرنے کیلئے بودھن شہر میں گذشتہ 8 مہینوں سے مسلسل زنجیری بھوک ہڑتال کیاجارہا ہے۔ نظام شوگر فیکٹری کے مسئلہ پر دو ایک دنوں حیدرآباد جے اے سی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی۔ نظام آباد ضلع جے اے سی چیرمین گوپال شرما نے بتایاکہ نظام آباد میں 24 ڈسمبر 2016 کو نظام آباد شہر میں نزد نشیتا ڈگری کالج وجئے ٹاکیز کے پاس نظام آباد ضلع جے اے سی آفس کا قیام عمل میں لایاجارہا ہے اور صبح 10.30 بجے جے اے سی مستقل افس کا افتتاح ہوگا جس میں تمام جے اے سی کو مدعو کیاجائے گا ۔ اس صحافتی کانفرنس میں رتن راؤ، بھاسکر، نذیر الدین، مجید لوہیا، انور علی بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT