Tuesday , January 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / نظام شوگر فیاکٹری کو حکومت کے زیر انتظام لینے کا مطالبہ

نظام شوگر فیاکٹری کو حکومت کے زیر انتظام لینے کا مطالبہ

بودھن /18 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نظام شوگرس فیاکٹری شکرنگر یونٹ کو گنا سربراہ کرنے والے کسانوں کی کثیر تعداد اور NSF یونٹ شکرنگر کے قائدین و سابقہ ملازمین نے آج دفتر RDO بودھن پہونچر NSF شکرنگر یونٹ کی حکومت حسب وعدہ اپنے زیر انتظام لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شید احتجاج منظم کیا اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو چیف منسٹر تلنگانہ کے خل

بودھن /18 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نظام شوگرس فیاکٹری شکرنگر یونٹ کو گنا سربراہ کرنے والے کسانوں کی کثیر تعداد اور NSF یونٹ شکرنگر کے قائدین و سابقہ ملازمین نے آج دفتر RDO بودھن پہونچر NSF شکرنگر یونٹ کی حکومت حسب وعدہ اپنے زیر انتظام لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شید احتجاج منظم کیا اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو چیف منسٹر تلنگانہ کے خلاف نعرے بلند کئے ۔ اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی کے قائد کامریڈ ملیش نے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ صدر ٹی آر ایس پارٹی مسٹر کے سی آر نے عام انتخابات سے قبل انہوں نے پارٹی اقتدار پر آنے کے بعد NSF کو بلاتاخیر حکومت کے زیر انتظام لینے کا عوام سے وعدہ کیا تھا لیکن ٹی آر ایس پارٹی تلنگانہ ریاست میں برسر اقتدار آئے ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ گذرا لیکن تاحال NSF کو حکومت اپنے زیر انتظام لینے میں کوئی پہل نہیں کی قبل ازیں سی آئی ٹی یو قائد کمار سوامی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ ملازمین NSF طویل عرصہ سے بے روزگاری کے سبب فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہیں ۔ سی پی آئی قائد گنگادھر اپا نے کہا کہ موجودہ NDSF خانگی انتظامیہ کسانوں کو تقریباً 18 کروڑ روپئے گنے کے بلس کی رقم واجب الادا ہے ۔ اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی کے قائدین کی ایک وفد معافی مشکلات کے سبب موت کے مونہ میں پہونچ جانے والے سابقہ ملازمین و کسانوں کے ناموں کی فہرست کے ساتھ فیاکٹری کو حکومت کے زیر انتظام لینے کے مطالبے پر مبنی یادداشت آر ڈی او بودھن مسٹر شیام لعل پرساد کو پیش کی ۔ اس موقع پر کامریڈ حلیم قریش کے علاوہ سائی بابو کمار سوامی اور سابقہ و موجودہ فیاکٹری ملازمین و کسانوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ کمیونسٹ پارٹیوں کی جانب سے دو دن قبل ہی آج پیر کے روز RDO آفس کا گھیراؤ کرنے کے تعلق سے اعلان کیا گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے صبح سے ہی دفتر RDO کے قریب پولیس نے زائد پولیس دستے تعینات کردئے تھے اور آر ڈی او آفس و تحصیل آفس کے گیٹوں پر پولیس کا سخت پیرا لگادیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT