Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / نظام کالج سے متصل ’’یادگار میر سلطان علی خاں وقف‘‘ پر اے پی کوآپریٹیو یونین کا قبضہ

نظام کالج سے متصل ’’یادگار میر سلطان علی خاں وقف‘‘ پر اے پی کوآپریٹیو یونین کا قبضہ

حیدرآباد ۔ 24 جنوری ۔ تاریخی فتح میدان کے قریب ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا تاریخی مدرسہ عالیہ (عالیہ ہائی اسکول) اور ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں منفرد اہمیت رکھنے والے تاریخی نظام کالج اور شہر کی وسیع و عریض مساجد میں شامل مسجد عالیہ کے قریب اگر کوئی ہزاروں مربع گز اراضی کا ذکر کرتے ہوئے کہے کہ یہ جس کی اراضی ہے وہ اس بات سے

حیدرآباد ۔ 24 جنوری ۔ تاریخی فتح میدان کے قریب ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا تاریخی مدرسہ عالیہ (عالیہ ہائی اسکول) اور ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں منفرد اہمیت رکھنے والے تاریخی نظام کالج اور شہر کی وسیع و عریض مساجد میں شامل مسجد عالیہ کے قریب اگر کوئی ہزاروں مربع گز اراضی کا ذکر کرتے ہوئے کہے کہ یہ جس کی اراضی ہے وہ اس بات سے واقف ہی نہیں تو سب کو حیرت ہوگی اورایک دوسرے سے یہ سوال کرنے لگیں کہ آخر کیا بات ہے کہ اس علاقہ میں اتنی قیمتی جائیداد رکھنے کے باوجود حقیقی مالکین ناواقف ہیں۔ روزنامہ سیاست میں موقوفہ جائیدادوں، مساجد اور دیگر اہم موضوعات پر خصوصی رپورٹس سے متاثر ہوکر شہر کی دو بزرگ شخصیتوں نے 85 سالہ جناب عمر علی خاں ساکن بشیر باغ اور جناب حسن الدین احمد آئی اے ایس (ریٹائرڈ) نے راقم الحروف کو فون کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں نظام کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں اور دوران تعلیم وہ کالج سے متصل وسیع و عریض ایک عمارت کو دیکھا کرتے تھے جس پر یادگار میر سلطان علی خاں وقف کا بورڈ ہوا کرتا تھا لیکن آج اس تاریخی عمارت سے نہ صرف وہ بورڈ نکال دیا گیا ہے بلکہ اس عمارت میں آندھراپردیش اسٹیٹ کوآپریٹیو یونین کا دفتر اور ایک حصہ میں ہینڈلوم ہینڈی کرافٹس کا شوروم کام کررہا ہے۔ ملت کے ان دو فکرمند حضرات کی توجہ دلانے پر نظام کالج سے متصل اس عظیم الشان عمارت کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ اس عمارت سے حقیقت میں ’’یادگار میر سلطان علی خان‘‘ کا یادگار و قدیم بورڈ غائب تھا۔ ہم نے انٹرنیٹ پر اس عمارت کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو اس کا پتہ اس طرح دیا گیا جوبلی بلڈنگ 5-9-343۔ راقم الحروف نے آندھراپردیش کوآپریٹیو یونین کے ارکان عملہ سے بات کی، جس پر اسٹاف نے دیانتداری کے ساتھ اعتراف کیا کہ اس عمارت پر ایک قدیم بورڈ ضرور ہوا کرتا تھا لیکن ایک گتہ دار نے داغ دوزی کے موقع پر اسے نکال دیا۔ یہ بورڈ غلطی سے نکالا گیا یا جان بوجھ کر نکلوایا گیا۔ اس بارے میں چھان بین کی ضرورت ہے۔

ہم نے اس عمارت کے اندرونی حصہ کا جائزہ لینے کے دوران ایک بند دروازہ کے اوپری حصہ میں ایک قدیم تختی دیکھی جس پر ’’فضل نواز جنگ ہال‘‘ تحریر ہے۔ ہم نے اس عمارت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تب اس بات کا بھی پتہ چلا کہ 27 نومبر 1955ء کو اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر بی رام کرشنا نے یہ عمارت حکومت کی جاگیر سمجھ کر اے پی کوآپریٹیو یونین کے حوالے کی تھی اور 16 اکٹوبر 1958ء کو چیف منسٹر مسٹر نیلم سنجیوا ریڈی کے ہاتھوں افتتاح عمل میں آیا۔ اسٹاف کے مطابق میر سلطان علی خاں نے اس عمارت میں ایک کتب خانہ بھی قائم کیا تھا، جس میں اردو، انگریزی اور فارسی کی کم از کم 5000 قیمتی کتب رکھی گئی تھیں لیکن افسوس صد افسوس کہ اردو اور فارسی سے نابلد عناصر نے ان قیمتی کتابوں کو دو کمروں میں پھینک دیا ہے اور عین ممکن ہیکہ ان کمروں میں اردو اور فارسی کتب دیمک کی غذا میں تبدیل ہورہی ہیں۔ عہدیداروں کی اردو دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ انگریزی کتابوں کو بہت ہی سلیقہ سے سجا کر رکھا گیا ہے۔ جناب حسن الدین احمد کا کہنا ہیکہ جسٹس سردار علی خاں مرحوم کے والد محترم صوبیدار امیر علی خاں اس عمارت میں لکچرس دیا کرتے تھے، جس میں شہر کے معززین کی ایک کثیر تعداد شریک ہوتی تھی۔ حد تو یہ ہیکہ 2000 مربع گز اراضی پر محیط اس عمارت کے ایک حصہ میں ایک مندر بھی تعمیر کرلی گئی۔ اگر اس علاقہ میں سڑکوں کو چوڑا کرنے کے کام کا آغاز ہونا ہے تو مندر سڑک پر آجائے گی۔ جناب حسن الدین احمد اور جناب محمد عمر علی خاں کا یہ بھی کہنا ہیکہ ایک قیمتی موقوفہ جائیداد کا برسوں سے بیجا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس انکشاف کے بعد ریاستی وقف بورڈ کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ تحقیقات کرتے ہوئے اس جائیداد کے بارے میں ملت کو واقف کروائے۔

TOPPOPULARRECENT