Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / نفرت پر اُکسانے کی کسی بھی مذہبی گروپ کو اجازت نہیں

نفرت پر اُکسانے کی کسی بھی مذہبی گروپ کو اجازت نہیں

نئی دہلی 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) گرجا گھروں پر حالیہ حملوں کے بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ حکومت کسی بھی مذہبی گروپ کو نفرت پر اُکسانے کی اجازت نہیں دے گی اور مذہبی تشدد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم پر اپوزیشن اور عیسائی گروپس نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ پانچ گرجا گھروں اور دہلی کے ای

نئی دہلی 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) گرجا گھروں پر حالیہ حملوں کے بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ حکومت کسی بھی مذہبی گروپ کو نفرت پر اُکسانے کی اجازت نہیں دے گی اور مذہبی تشدد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم پر اپوزیشن اور عیسائی گروپس نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ پانچ گرجا گھروں اور دہلی کے ایک کرسچن اسکول پر حملوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت تمام مذاہب کا مساوی احترام کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ میری حکومت اِس بات کو یقینی بنائے گی کہ عقیدہ کی مکمل آزادی ہو اور ہر شخص کو کوئی بھی مذہب اختیار کرنے کا ناقابل انکار حق حاصل رہے۔ کوئی بھی مرد یا عورت کسی بھی خوف یا غیر واجبی اثر و رسوخ کے بغیر اپنے مذہب کا انتخاب کرسکتا؍کرسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت اقلیت یا اکثریت سے تعلق رکھنے والے کسی بھی مذہبی گروپ کو نفرت پر اُکسانے کی اجازت نہیں دے گی،

چاہے یہ اعلانیہ ہو یا پوشیدہ طور پر۔ وزیراعظم مودی پوریاکوز ایلیاس چاوارا اور مدر یوفریسیا کو ’سینٹ ہوڈ‘ کا درجہ دینے کی قومی تقریب سے یہاں وگیان بھون میں خطاب کررہے تھے۔ شرپسند عناصر کو سخت انتباہ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ ہم کسی بھی مذہب یا کسی بھی بہانے سے تشدد کو قبول نہیں کرسکتے۔ ایسے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت اِس سلسلہ میں سخت کارروائی کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ دنیا بھر میں انتشار اور نفرت مذہبی خطوط پر بڑھتے جارہے ہیں اور یہ مسئلہ عالمی فکرمندی کی وجہ بن گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ قدیم ہندوستانی فلسفہ تمام عقائد کا یکساں احترام اب عالمی نظم کا دستور بنتا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دنیا چوراہے پر کھڑی ہے، اگر چوراہا مناسب لفظ نہ سمجھا جائے تو ہم تاریخ کے تاریک دور میں واپس چلے جائیں گے جہاں جنون اور خونریزی ہوا کرتی تھی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ہم آہنگی پر مبنی باہمی تعلقات اب دنیا کیلئے اہم ترین معاملہ بن چکا ہے۔ مہاتما گوتم بدھ اور مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہاکہ تمام مذاہب کا یکساں احترام ہر ہندوستانی کے ’ڈی این اے‘ میں ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے تمام مذہبی گروپوں سے اپیل کی کہ صبر و تحمل، باہمی احترام اور رواداری کے سچے جذبہ کا مظاہرہ کریں جو کسی قدیم قوم کا منشور ہوتا ہے۔ دستور ہند میں بھی جو دی ہیگ اعلامیہ سے ہم آہنگ ہے، یہی اُصول مقرر کئے گئے ہیں۔

وزیراعظم کا یہ تبصرہ صدر امریکہ براک اوباما کے اِس بیان کے بعد منظر عام پر آیا ہے کہ ’’عدم رواداری کی حرکتیں‘‘ گزشتہ چند برسوں سے مہاتما گاندھی کو صدمہ پہنچائی ہوں گی کہ بقائے باہم کا وجود اب ہندوستان میں باقی نہیں رہا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دنیا بھر میں انتشار اور دشمنی مذہبی وجوہات کی بناء پر بڑھتی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ عالمی فکرمندی کی وجہ ہے۔ اِس پس منظر میں قدیم ہندوستانی نظریہ بقائے باہم تمام مذاہب کے لئے ایک منشور کے آغاز کا تقاضہ کرتا ہے اور اِسے عالمگیر سطح پر نافذالعمل کیا جانا چاہئے۔ مودی نے کہاکہ عرصہ سے باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ وہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ کوئی بین مذاہب کانفرنس ’’مذہب: انسانی حقوق میں‘‘ کے موضوع پر منعقد کی جائے، جیسا کہ ڈسمبر 2008 ء میں دی ہیگ میں منعقد کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT