Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / نفقۂ عدت کا شرعی حکم

نفقۂ عدت کا شرعی حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شوہر بکر نے اپنی زوجہ ہندہ کو تین طلاق دیکر اپنی زوجیت سے خارج کردیا اور زوجہ ہندہ کا نفقۂ عدت بھی اداکردیا۔ اس کے باوجود زوجہ ہندہ شوہر بکر سے مزید نفقہ کا مطالبہ کررہی ہے۔
ایسی صورت میں کیا مطلقہ زوجہ ہندہ بکر سے مزید نفقہ پانے کی حقدار ہے یا نہیں؟    بینوا توجروا
جواب: بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں ہندہ اپنے شوہر بکر سے طلاق کے بعد اپنی عدت (تین حیض) تک نفقہ پانیکی حقدار تھی، شوہر کے عدت کا نفقہ ادا کرنے کے بعد مزید نفقہ پانیکی حقدار نہیں۔
لہذا اس کا مطالبہ شرعا غیر درست ہے۔ المبسوط جلد ۵ ص ۲۰۱ میں ہے:  قال لکل مطلقۃ بثلاث أو واحدۃ السکنی والنفقۃ مادامت فی العدۃ۔
عاق کرنے سے نہ نسب ختم ہوتا ہے
اور وراثت سے محروم ہوتے ہیں
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ابوبکر نے اپنے فرزندزید کو عاق کردیا تھا۔ بعد میں ابوبکر کا انتقال ہوگیا۔
ایسی صورت میں کیا زید عاق کردہ فرزند اپنے مرحوم والدابوبکر مرحوم کا وارث ہوگا یا نہیں  ؟بینوا توجروا
جواب: بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیں شرعا عاق والدین کی نافرمان اولاد کو کہتے ہیں۔ والد ابوبکر نے اپنے فرزندزید کو نافرمانی کی بناء عاق کیا ہے ، تو والد کا نسب ایک بار اولاد سے ثابت ہونے کے بعد اس کی نفی درست نہیں اور عاق کرنے سے اولاد ، والد کے نسب سے خارج نہیں ہوتی، بلکہ انہی کی اولاد رہ کر انکی وارث بھی ہوگی۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلد ۴ ص ۴۹۶ میں ہے :  لوقال الصبی ھذا الولد ثم قال لیس منی لا یصح نفیہ لأن بعد الاقرار بہ لا ینتفی بالنفی فلا حاجۃ الی الاقرار بہ ثانیا۔
لہذا  ابوبکر مرحوم کے اپنی لڑکے زید کو عاق کرنے کے بعد بھی وہ انکا وارث ہے۔ اور وراثت میں حقدار ہے۔
شرعًا قبور پر چلنا منع ہے
سوال:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک پہاڑ پر درگاہ واقع ہے، جسکی آمد و رفت کا ایک مستقل راستہ موجود بھی ہے، اس کے علاوہ قدیم موقوفہ قبرستان کے درمیان سے اسکی بونڈری وال کو توڑ تے ہوئے ایک راستہ بنانا چاہ رہے ہیں۔ اگر یہ راستہ بنایا جائے تو بہت ساری قبور کو مسمار کرنا پڑے گا۔
ایسی صورت میں قبور کو توڑ کر راستہ بنانا شرعا جائزہے یانہیں  ؟بینوا توجروا
جواب:بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیں شرعا قبور پر چلنا منع ہے۔ نیز موقوفہ قبرستان میں قبورکو منہدم کرکے راستہ بنانا جائز نہیں، اور نہ ہی ایسے راستہ پر چلنے کا حکم ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۱۹۶ میں ہے :  ویکرہ أن یبنی علی القبرأو یقعد أو ینام علیہ أو یوطأ علیہ ۔ اور جلد ۵ ص ۳۵۱ میں ہے :  رجل وجد طریقا فی المقبرۃ یتحری ، فان وقع فی قلبہ ان ھذا طریق أحدثوہ علی القبور لا یمشی فیہ۔
لہذا قبور کو توڑکر راستہ نہ بنایا جائے۔                       فقط واللّٰہ أعلم

TOPPOPULARRECENT