Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / نقاب و حجاب کے قیود اور شرعی حدود میں خواتین کو چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت

نقاب و حجاب کے قیود اور شرعی حدود میں خواتین کو چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت

موسیقی بذات خود بُری نہیں لیکن موسیقی میں فحاشی و گناہی کی دعوت اور کفریہ کلام حرام ہے: الشیخ احمد الغامدی

جدہ  /6 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعوی عرب کے ایک جید عالم دین اور ان کی اہلیہ نے بہ تدریج پر تشدد خیالات ترک کرکے ہوئے اعتدال پسندانہ طرز فکر اپنایا۔ آج سے 35 سال قبل ان کے خیالات دیکھ کر یہ کہنا ممکن نہ تھا کہ وہ کبھی تبدیل ہوں گے مگر انہوں نے کئی سالہ علمی سفر کے دوران کئی ایسے فتاویٰ بھی صادر کیے جو عموماً علمائے اکرام کی طرف سے کم ہی جاری کیے جاتے ہیں۔ الشیخ ڈاکٹر احمد الغامدی نے بہ تدریج اپنے شدت پسندانہ نظریات تبدیل کیے اور ان کی اہلیہ نے چہرے کا نقاب ترک کیا۔چونکہ ڈاکٹر الغامدی نے اپنے ایک سابقہ فتوے میں موسیقی کو جائز قرار دیا تھا۔ اس ضمن میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے استفسار کیا کہ آیا انہیں موسیقی کے جواز میں قرآن و احادیث مبارکہ سے کیا دلیل ملی؟اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے کئی بار سوشل میڈیا پر موسیقی کے حوالے سے اپنی رائے ظاہر کی۔ یہ رائے آج کی نہیں بلکہ 20 سال پرانی ہے۔ میرا خیال ہے کہ موسیقی فی نفسہ کوئی بْری چیز نہیں۔ اس میں برائی اس وقت شامل ہوتی ہے جب اس میں فحاشی، گناہ کی دعوت یا کفریہ کلام شامل ہوتے ہیں۔ میں نے موسیقی اور گانے بجانے کی حرمت کے حوالے سے جتنا بھی مطالعہ کیا تو اس میں موسیقی کو حرام قرار دینے کی وجہ اس کی فسق وفجور کی طرف دعوت یا فحش کلامی ہے۔ الشیخ احمد الغامدی سے پوچھا گیا کہ آپ کی طرح آپ کی اہلیہ کے طرز زندگی اور فکرمیں بھی غیرمعمولی تبدیلی آئی۔ انہوں نے چہرے کا نقاب ترک کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیلیوں کو بھی کھلا رکھنا شروع کیا۔ آپ کے خیال میں چہرے کا کھلا رکھنے کا شرعی جواز موجود ہے۔اس پر الغامدی نے کہا کہ میری اہلیہ علمی شخصیت ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ اسلام کی شرعی حدود کیا ہیں؟ اسلامی پردے اور نقاب وحجاب کی قیود کس حد تک ہیں۔ جب ہم دونوں [میاں بیوی] گھر سے باہر نکلتے ہیں تو وہ چہرے کا نقاب نہیں کرتی۔ میں نے اسے کبھی ایسا کرنے سے منع نہیں کیا۔ جمہور علماء چہرے کو کھلا رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ خواتین پر زبردستی حجاب مسلط کرنے کے بجائے انہیں خود اس کا فیصلہ کرنیکا موقع دینا چاہیے۔ اس سے خواتین میں خود اعتمادی پیدا ہوگی اور غور فکر کے کئی دریچے کھلیں گے۔مسجد میں با جماعت نماز کی ادائی کے وجوب یا مسنون ہونے سے متعلق سوال کے جواب مین الغامدی نے کہا کہ جمہور علماء کا خیال ہے کہ نماز کا اہتمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فریضہ ہے تاہم اگر یہ فریضہ اجتماعی شکل میں ادا کیا جائے تو یہ سنت ہے۔ میں اسے فرض یا واجب کے درجے میں نہیں سمجھتا۔ تاہم اس حوالے سے اگر کوئی شخص مزید دلائل معلوم کرنا چاہے تو سوشل میڈیا پر موجود میری اور دوسرے علماء کی بحث کا مطالعہ کرسکتا ہے۔۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر الغامدی سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے اپنی کبھی اپنی کسی رائے کو بعد میں غلط تسلیم کرتے ہوئے اس پر ندامت کا اظہار کیا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے سات سال کا عرصہ شدت پسندی میں گذرا۔ سات سال کے بعد میں  ے علم کی روشنی میں اپنا طرز فکر بدلا۔ گذشتہ 35 سال کا عرصہ اس بات کا گواہ ہے کہ میں نے اس سے قبل گذارے سات سال کے بیشترفیصلوںاورخیالات کو ترک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کا حصول میرا شعار ہے۔ میں اپنے آراء  اور خیالات پر مکمل طور پرمطمئن ہوں۔

TOPPOPULARRECENT