Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / نقدی کی قلت: بینک یونینس کا احتجاجی مظاہرہ کرنے کا انتباہ

نقدی کی قلت: بینک یونینس کا احتجاجی مظاہرہ کرنے کا انتباہ

اترپردیش ‘ مدھیہ پردیش ‘ راجستھان‘ گجرات ‘ تلنگانہ ‘ آندھراپردیش اور کرناٹک میں خصوصی طور پر شدید قلت

وڈودرہ ۔19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا بینکس ایمپلائیز اسوسی ایشن (AIBEA) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت بینکوں اور اے ٹی ایمز میں نقدی کی قلت کی وجہ سے بینک اسٹاف کو عوامی برہمی کا سامنا ہے اور اب ان کے پاس سوائے اس کے کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں احتجاجی مظاہرہ کریں کیونکہ حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے ہی موجودہ صورتحال کو پیدا کیا ہے ۔ ایسی صورتحال کیلئے بھلا بینک ایمپلائیز کیونکر ذمہ دار ہوسکتے ہیں ۔ حکومت اور آر بی آئی نے صورتحال کو سنگین کردیا ہے اور ایسے میں عوام کا برہم ہونا فطری بات ہے ۔ اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ بینک اسٹاف کا کوئی قصور نہیں ہے ‘ اس کے باوجود انہیں عوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ گاہک ان پر غصہ کررہے ہیں ‘ فحش کلامی کررہے ہیں ۔ انہوں نے فون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محض بیانات جاری کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ کرنسی کی فوری سربراہی کو یقینی بنانا ہوگا اور حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں ۔ لوگ آج بھی نومبر 2016ء کو نہیں بھولے ہیں اور انہیں خوف طاری ہے کہ صورتحال ایک بار پھر کہیں ویسی ہی شدت نہ اختیار کرلے ۔ اگر صورتحال پر عاجلانہ قابو نہیں پایا گیا تو ملک گیر سطح پر بینک یونینس احتجاجی مظاہرہ کرے گی ۔ البتہ انہوں نے احتجاجی مظاہروں کی کوئی مخصوص تاریخ یا دن نہیں بتایا ۔ گذشتہ ہفتوں سے ملک کی مختلف ریاستوں خاص طور پر اترپردیش ‘ مدھیہ پردیش ‘ راجستھان ‘ گجرات ‘ تلنگانہ ‘ آندھراپردیش اور انتخابات کیلئے تیار کرناٹک میں نقدی کی قلت پیدا ہوگئی ہے جہاں اے ٹی ایم ٖر نقدی نہیں ہے کے بورڈ لگادیئے گئے ہیں جبکہ بینکوں میں چیکس کے ذریعہ رقم نکالنے والوں پر بھی نوٹ بندی کے زمانے میں ایک مقرر کردہ رقم نکالنے کی اجازت دی جارہی ہے ۔ بعض بینکوں میں روزانہ صرف 4000/- روپئے نکالنے کی اجازت دی جارہی ہے جو یقیناً مشکلات کا باعث ہے ۔ وینکٹ چلم کا ماننا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد 2000/-روپئے کے نئے نوٹس چھاپنے کے فیصلہ نے ہی سب سے زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں ۔اگر کالا دھن اور نوٹوں کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے 1000/-روپئے کے نوٹوں کا چلن بند کیا گیا تھا تو 2000/-روپئے کے نئے نوٹوں کے ساتھ تو یہ دونوں کام اور زیادہ آسان ہوگئے ۔ انہوں نے ریزرو بینک کے علاوہ سنٹرل بینک کو بھی موجودہ نقدی کی قلت کا ذمہ دار قرار دیا ۔ آر بی آئی گورنر کہتے ہیں کہ نئے نوٹوں کی قابل لحاظ مقدار میں چھپائی ( پرنٹ) کی گئی ہے تو پھر آخر یہ نئے نوٹ گئے کہاں ؟ کیا اس بات کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیئے ؟ کیا ملک کی تمام بینکوں کو قابل لحاظ نقدی فراہم نہیں کی جانی چاہیئے تاکہ بینکس آنے والے عوام کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے ۔

TOPPOPULARRECENT