Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / نقل مکانی ، آسودہ حالی اور امن کی تلاشی

نقل مکانی ، آسودہ حالی اور امن کی تلاشی

کے این واصف
سعودی عرب میں بسے کوئی 7 تا 8 ہزار این آر آئیز کے شدید قسم کے مسائل سے دوچار ہونے کی خبریں پچھلے دو ہفتے سے میڈیا میں گرم ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کی پراثر نمائندگی اور مملکت سعودی عرب کے بھرپور تعاون کے ساتھ دیئے گئے تیقن سے این آر آئیز نے اطمینان کی سانس لی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے موقع نہ ہوگا کہ سعودی عرب کی سماجی تنظیموں نے ایک بار پھر انڈین ایمبسی ریاض کے شانہ بشانہ ہوکر مالی پر یشانیوں میں گھرے این آر آئیز کی مدد کی اور انہیں بنیادی ضروریات مہیا کرائیں۔ ادھر مملکتی وزیر خارجہ ہند جنرل وی کے سنگھ کے دورہ سعودی عرب نے ابتر حالات پر تیزی سے قابو پانے اور مسائل کے حل کئے جانے کا تیقن حاصل کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔ ویسے انڈین ایمبسی ریا ض بھی ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کا ساتھ دینے میں کبھی پیچھے نہیں رہتی۔ تین سال قبل جب مملکت کی جانب سے نطاقات قانون لاگو کیا گیا تھا تب لاکھوں کی تعداد میں مملکت میں کام کرنے والے غیر ملکی افراد اس نئے قانون سے متاثر ہوئے تھے جس میں بہت بڑی تعداد این آر آئیز کی بھی تھی اور تب بھی سفارت خانہ ہند ریاض نے سماجی کارکنان کے تعاون سے تمام مسائل کی یکسوئی میں مدد کی تھی ۔ فی الحال متذکرہ ان 7 تا 8 ہز ار ہندوستانی باشندے جن کی بنیادی ضروریات کے مسائل حل کردیئے گئے لیکن باقی رہے اہم مسائل جن میں اول جو این آر آئیز خروج Exit پر جارہے ہیں متعلقہ کمپنی سے ان کے حقوق کا حاصل ہونا، دوسرے جو لوگ مملکت چھوڑ کر جانے کی بجائے دیگر کمپنی میں ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں حقوق ، نقل کفالہ وغیرہ کے معاملات کو تیزی سے نمٹانے میں مدد کرنا جس میں سفارت خانہ ہند کی مدد بے حد ضروری ہے ۔ تیسرے یہ کہ جو این آر آئیز وطن واپس ہورہے ہیں ان کی بازآبادکاری سے متعلق ملک کی متعلقہ ریاستی حکومتوں سے انہیں مدد حاصل ہونی چاہئے ۔ ویسے مملکت سعودی عرب یا دیگر خلیجی ممالک سے وطن واپس ہونے والوں کا سلسلہ تو مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ یہ ایک بے حد سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر مرکزی حکومت کو کچھ ٹھوس اقدام کرنے چاہئے۔ حالیہ متاثرین میں اکثریت کا تعلق سعد گروپ ، سعودی اوجیر کمپنی اور بن لادن گروپ سے ہے ۔ یہ مملکت کی بہت بڑی اور نامور کمپنیاں ہیں ۔ ان پر تھوڑا سا دباؤ ڈالا جائے تو غیر ملکی باشندوں کے مسائل جلد حل ہوسکتے ہیں۔ پچھلے پیر کو فرما نروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزارت لیبر کو ہدایات جاری کی کہ وہ غیر ملکی باشندوں خصوصاً ہندوستانی اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے ورکروں کے مسائل فوری حل کئے جائیں۔ اب متعلقہ سفارت خانوں کا کام ہے کہ وہ سعودی وزارت لیبر سے تال میل کے ساتھ اپنے ہم وطنوں کے مسائل حل کرائے۔

سعودی عرب میں مشکل حالات سے دوچار ہندوستانی باشندوں نے آسودہ حالی کی خاطر اپنا ملک چھوڑا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ یہاں بھی مسائل میں پھنس گئے ۔ ویسے انسان کیلئے نقل مکانی کا عمل انسانی تاریخ جتنا ہی پرانا ہے، ہر دور میں نقل مکانی کرنے والوں کے پاس ان کی ا پنی وجوہات رہی ہوں گی لیکن پچھلی صدی میں غریب اور ترقی پذیر ممالک سے فنی ، غیر فنی مزدور ، ہنرمند اور اعلیٰ تعلیمی یافتہ افراد کی نقل مکانی کا سبب صرف آسودہ حالی حاصل کرنا اور ایک پرامن ماحول میں زندگی بسر کرنا رہا ہے ۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا بھی جاچکا ہے اور جس طرح نقل مکانی کا سلسلہ بتدریج جاری ہے اسی طرح اس موضوع پر مزید لکھا بھی جارہا ہے ۔ ہمیں یاد ہے ایک عرصہ قبل اس موضوع پر دبئی کے حکمراں کا لکھا ایک مضمون ’’الجزیرہ‘‘ میں شائع ہوا تھا جس کا ترجمہ دیگر اخبارات نے بھی شائع کیا تھا ۔ ہم یہاں اس مضمون کے چند اقتباسات قارئین کی نذر کرنا چاہیں گے ۔ مضمون نگار نے اپنے مضمون کا آغاز یوں کیا تھا۔
’’1968 ء کی بات ہے جب میں مونز ملٹری کالج میں زیر تعلیم تھا ۔ مجھے کسی تکلیف کے باعث ایک خانگی اسپتال سے رجوع ہونا پڑا ۔ وہاں میرا معالج ڈاکٹر عربی زبان سے واقف تھا ۔ معلوم ہوا کہ اس نے کسی عرب ملک سے تعلق رکھتا ہے اور حال ہی میں برطانیہ نقل مکانی کی ہے۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ برطانیہ میں ان کا پروگرام کیا ہے اور کب تک وطن واپسی کا ارادہ ہے ۔اس پر ڈاکٹر نے جو جواب دیا وہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے ۔ اس نے کہا ’’میرا وطن وہ ہے جہاں میری روزی روٹی ہے‘‘ یہ تیسری دنیا کے باشندوں کا عمومی حال ہے جو نہایت کربناک حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل حالات اور ابتر معاشی کیفیت وہ بنیادی سبب ہے جو عرب اور اسلامی ملکوں کے ہنر مندوں اور باصلاحیت افراد کو مغرب کی طرف نقل مکانی پر مجبور کیا ۔ وہ صرف مغرب بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بہتر حالات ہوں ، وہاں جاکر بہتر مستقبل کی تلاش کرتے ہیںاور نیا وطن بسا لیتے ہیں ۔

انہوں نے آگے لکھا کہ عرب ممالک اپنے بہترین وسائل صرف کر کے اپنے نوجوانوں کو تیار کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ یہ ہنرمند اور اعلیٰ صلاحیت کے مالک افراد ملک کے بہتر مستقبل کا اثاثہ بنیںگے ۔ مگر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ابتر معاشی حالات کے باعث یہی ہنرمند اور باصلاحیت لوگ مغرب کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتر معاشی حالات سے تنگ آکر جو لوگ مغرب کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں ان کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ وہ اپنی صلاحیتوں ، اپنی استعداد اور اپنی ہنرمندی کا بہتر مصرف مغرب کو سمجھتے ہیں۔ ہم مغربی ممالک کو بھی قصوروار نہیں ٹھہراسکتے جنہوں نے اپنے صنعتی کارخانوں ، تجارتی مراکز ، اسپتالوں وغیرہ کے دروازے ان نقل مکانی کرنے والوں کیلئے کھول رکھے ہیں۔ د نیا کے ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بہتر مستقبل کی خاطر اعلیٰ صلاحیت رکھنے والوں کیلئے ایک محفوظ ٹھکانہ فراہم کرے۔

امریکہ کے ایک نجی ادارے نے دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والوں کا جائزہ لیکر بتایا کہ اس سلسلے میں کونسے ممالک ایسے ہیں جونقل مکانی کرنے والوں کی وجہ سے فائدے میں رہے اور کن ممالک کو اس ضمن میں نقصان پہنچا۔ جب اس تحقیق کے نتائج سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ موجودہ دور میں دنیا کے مستحکم اقتصادی ممالک میں امارات کا بھی شمار ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد نقل مکانی کر رہی ہے ۔ اس فہرست میں برازیل ، ہندوستان ، جنوبی افریقہ اور سعودی عرب کو شامل کیا گیا ہے ۔ تحقیق کے مطابق نقل مکانی سے سب سے زیادہ نقصان اسپین ، برطانیہ ، امریکہ ، اٹلی اور آئرلینڈ کا ہوا جہاں بڑی تعداد میں ہنرمندوں نے نقل مکانی کی ہے۔
بہتر معیشت اور پرامن ماحول میں زندگی بسر کرنے کی خواہش میں ہندوستان سے بھی ہنرمندوں اور باصلاحیت افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ لمبے عرصہ سے جاری ہے ۔ ہندوستان میں سستی اور اچھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے مغربی ممالک کا رخ کرنا اور وہاں مستقل طورپر آباد ہوجانا تو برسوں سے جاری تھا ۔ پھر کم پڑھے لکھے لوگ بھی امریکہ منتقل ہونے لگے اور وہیں کے ہورہے ۔ پھر جب خلیجی ممالک کے دروازے کھلے تو لاکھوں کی تعداد میں ہندوستانی قافلوں کی شکل میں آنے لگے۔ یہاں ملازمتیں حاصل کیں اور اسے اپنا وطن ثانی بنالیا۔ آج صرف سعودی عرب میں تقریباً 30 لاکھ ہندوستانی برسرکار ہیں۔ اس طرح سعودی عرب دنیا کا وہ ملک ہوگیا جہاں سب سے بڑی تعداد میں ہندوستانی باشندے کام کرتے ہیں لیکن ان میں چھوٹی ملازمتیں کرنے والوں یا لیبر طبقہ کے افراد کی اکثریت ہے جو ایک دن وطن واپس آئیں گے کیونکہ یہاں خارجی باشندوں کو قومیت نہیں دی جاتی۔ چاہے وہ کتنا ہی طویل عرصہ یہاں گزاریں۔ مغربی اور دیگر ممالک میں بھی ہندوستانیوں کی بڑی تعداد آباد تھی لیکن ان کی اکثریت وہاں کی شہریت حاصل کئے ہوئے ہے۔ مختصر یہ کہ ملک سے باہر نکلنے کا مقصد صرف آسودہ حالی ہی نہیں ہوتا بلکہ انسان ہمیشہ ایک پرامن ماحول میں رہنے کو بھی ترجیح دیتا ہے ۔ آج ہندوستان میں بھی ملٹی نیشنل کمپنیاں بڑی بڑی تنخواہوں پر نوجوانوں کو ملازمت فراہم کر رہی ہیں لیکن پھر بھی ان باصلاحیت نوجوانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کسی مغربی ملک میں ملازمت حاصل ہوجائے اور وہاں جابسیں۔ اس خواہش کا مقصد اپنوں سے دوری اختیار کرنا یا اپنی مٹی سے عدم دلچسپی نہیں بلکہ اس کے پیچھے آسودہ حالی کے ساتھ پرسکون اور پرامن ماحول میں زندگی بسر کرنے کی تمنا ہوتی ہے۔

دو سال قبل ہندوستانی عوام کو ایک پرکشش نعرے کے ذریعہ تبدیلی کی پیشکش ہوئی ۔ نعرہ تھا ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ جس پر عوام نے اپنے اعتماد کی مہر لگائی ۔ نئی حکومت قائم ہوئی۔ حکومت کیلئے ملک میں امن و امان کا ماحول پیدا کرنا تو کوئی اتنا بڑا کام نہیں تھا ۔ صرف فرقہ پرستی ، دنگے فساد، بین مذہبی رنجشوں سے ملک کو پاک کرنے کی ضرورت تھی ۔ اگر نئی حکومت واقعی اچھے دن لانے میں سنجیدہ ہوتی تو سب سے پہلے سارے ملک میں مکمل طور پر ایک پرامن ماحول پیدا کرتی کیونکہ یہی چیز ملک کی ترقی اور اچھے دنوں کی ضامن ہوسکتی ہے نہ کہ فجر کی اذان پر پابندی عائد کرنا ، نصاب تعلیم کو نیا رنگ دینے کی کوشش کرنا ، آرٹیکل 370 کو ختم کرنا ، اقلیتوں کے مراعات پر قدغن لگانا ، گاؤ رکھشا کے نام پر اقلیتوں اور دلتوں پر ظلم کرنا جیسے ایجنڈے پر عمل کرنا ، ملک کی اقلیتوں اور دلتوں کے ووٹ کی آپ کے پاس کوئی اہمیت نہیں، نہ سہی ۔ مگر آپ کو ان کے وجودکو تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کیونکہ ملک کی اقلیتوں اور دلتوں کو نظرانداز کر کے ملک کی ترقی کا تصور ادھورا ہے۔ نئی حکومت نے پرامن ماحول مہیا کرنا توکجا امن و امان خراب کرنے اور ماحول کو مکدر کرنے کیلئے حکومت کے زیر سائیہ نئی نئی سینائین (فوج) قائم ہو کر الٹا ملک کے ماحول کو خراب کر رہے ہیں ۔ سنگھ پریوار کے ان کارکنان کو مزید تقویت حاصل ہوئی جب پچھلے اتوار کو حیدرآباد میں وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی کے یوتھ کیڈر سے کہا کہ وہ ملک میں ’’زعفرانی کلچر‘‘ عام کریں۔ خدا خیر کرے وزیراعظم کا یہ نیا پیام ملک میں کیا گل کھلائے گا۔ بی جے پی کو صرف اپنے ووٹ بینک کی حفاظت نہیں بلکہ ملک کی حفاظت اور ترقی کی فکر کرنی چاہئے ۔ ملک میں امن ہوگا تو ترقی ہوگی ۔ باہر کے ملکوں سے ہماری دولت واپس آئے یا نہ آئے ، کم از کم بڑے پیمانے پر سرمایہ کار ملک میں اپنا سرمایہ تو لگائیں گے اور ہمارے ہنرمند اور باصلاحیت افراد ملک میں کام کرنے کو ترجیح دیں گے تو ملک میں اچھے دن تو اپنے آپ ہی آئیں گے۔ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے تو نوجوانوں کو کام ملے گا اور خلیجی یا دیگر ممالک میں روزگار سے محروم ہوکر وطن لوٹنے والوں کو بھی روزگار فراہم ہوگا ۔ اس کیلئے شرط صرف ملک میں قیام امن ہے اور ملک میں امن و امان کی فضاء قائم کرنا حکومت کیلئے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT