Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / نلگنڈہ انکاونٹر میں زخمی سب انسپکٹر ڈی سدیا کا انتقال

نلگنڈہ انکاونٹر میں زخمی سب انسپکٹر ڈی سدیا کا انتقال

مکمل پولیس اعزازات کے ساتھ آخری رسومات کا اعلان ‘جڑچرلہ میں آج نماز جنازہ و تدفین

مکمل پولیس اعزازات کے ساتھ آخری رسومات کا اعلان ‘جڑچرلہ میں آج نماز جنازہ و تدفین

حیدرآباد ۔ /7 اپریل (سیاست نیوز) نلگنڈہ میں ہفتہ کو سیمی کے مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ انکاونٹر میں زخمی سب انسپکٹر دودے کُلا سدیا آج زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور انہوں نے آج شام ہاسپٹل میں اپنی آخری سانس لی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر ڈی سدیا کی آج شادی کی پہلی سالگرہ تھی اور ان کی بیوی بھی اسی ہاسپٹل میں زیر علاج ہے جس نے گذشتہ روز لڑکے کو جنم دیا ۔ سب انسپکٹر سدیا کی نماز جنازہ اور تدفین کیلئے سرکاری طور پر بھی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ 8 اپریل کو بعد ظہر مکہ مسجد بادے پلی جڑچرلہ میں نماز جنازہ اور کی جائے گی ۔ سب انسپکٹر سدیا کی تدفین پولیس تمام پولیس اعزازات کے ساتھ حلیم شاہ کلیم شاہ قبرستان میں عمل میں آئے گی ۔ جیسے ہی آج سدیا کی موت کی اطلاع عام ہوئی ان کے افراد خاندان پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ جڑچرلہ میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔ دودے کلا دستگیری کے بیٹے دودے کلا سدیا نے سال 2012 میں محکمہ پولیس میں بہ حیثیت سب انسپکٹر مقرر ہوئے اور ان کی شادی ہوئے آج سے ٹھیک ایک سال قبل 7 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کی صحت کیلئے کافی لوگ نیک تمناوں کا اظہار کررہے تھے ۔ سدیا جمعہ کو نلگنڈہ ضلع میں پیش آئے انکاونٹر میں مشتبہ دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے اور گولیوں سے شدید زخمی ہوگئے تھے جن کی حالت تشویشناک تھی ۔ محکمہ پولیس اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس زخمی سب انسپکٹر کی صحت یابی کیلئے کوششیں جاری تھیں۔ جس روز سدیا انکاونٹر میں زخمی ہوئے تھے اسی دن ان کی بیوی نے مرد بچے کو جنم دیا تھا ۔ دونوں اتفاقاً ایل بی نگر کے ایک ہی ہاسپٹل میں شریک تھے ۔ ایک طرف موت و زندگی کی کشمکش میں جوج رہا تھا تو دوسری طرف بیٹے نے جنم لیا تھا تاہم بدنصیب سب انسپکٹر نے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا وہ اس حالت میں نہیں تھا کہ اپنی اولاد کو دیکھ سکے اور محسوس کرسکے ۔ سدیا نے ایک سال قبل کڑپہ ضلع کی متوطن لڑکی سے شادی کی تھی ۔ سدیا کا آبائی مقام کرنول بتایا گیا ہے ۔ تاہم 20 سال قبل وہ جڑچرلہ منتقل ہوگئے تھے ۔ سب انسپکٹر سدیا کی ابتدائی تعلیم سے لیکر روزگار اور پولیس کے عہدہ پر تقرر اور پھر موت تک سفر جڑچرلہ سے وابستہ رہا ۔ ان کے والد دستگیر چاندی کا کاروبار کرتے ہیں ۔ سدیا کا تعلق مسلمانوں کے دودے کُلا طبقہ سے ہے جو بی سی زمرہ میں درج ہیں ۔ اس طبقہ کونور کہا جاتا ہے ۔ سدیا کے تعلق سے کئی افراد کو غلط فہمیاں تھیں۔ زخمی سب انسپکٹر کی موت کی تصدیق کے بعد سارے محکمہ میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT