Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / نلگنڈہ میں کانگریس کی موروثی سیاست سے کئی قائدین ناراض

نلگنڈہ میں کانگریس کی موروثی سیاست سے کئی قائدین ناراض

نلگنڈہ ۔21مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) موروثی سیاست کا دوسرا نام کانگریس پارٹی کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ خاندانی حکمرانی دہلی سے لیکر ضلع تک کے قائدین کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایک طویل عرصہ سے اہم عہدوں پر فائز رہنے والے پانچ خاندان جو ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ضلع کے 12اسمبلی ‘2پارلیمنٹ کے محفوظ حلقوں کو چھوڑ کر اپنے ساتھ ساتھ اپ

نلگنڈہ ۔21مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) موروثی سیاست کا دوسرا نام کانگریس پارٹی کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ خاندانی حکمرانی دہلی سے لیکر ضلع تک کے قائدین کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایک طویل عرصہ سے اہم عہدوں پر فائز رہنے والے پانچ خاندان جو ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ضلع کے 12اسمبلی ‘2پارلیمنٹ کے محفوظ حلقوں کو چھوڑ کر اپنے ساتھ ساتھ اپنے موروثین کو انتخابی میدان میں اتارنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ صدر ضلع کانگریس کمیٹی ٹی دیویندر ریڈی نے تلنگانہ پی سی سی کو روانہ کردہ امیدواروں کے ناموں پر غور کرنے کی فہرست میں ایک ہی طبقہ کے نام کو پیش کیا ہے ۔ پہلے ہی اندرونی خلفشار آپسی رشتہ کشی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں ضلع کانگریس پارٹی قائدین 4گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ پارٹی اعلیٰ کمان کی جانب سے ٹی پی سی سی کی تشکیل میں سینئر کانگریسی قائد کے جانا ریڈی کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک اور سینئر قائد و رکن اسمبلی حضورنگر این اتم کمار ریڈی کو کارگذار صدر کی حیثیت سے مقرر کرنے کے اعلان پر برہم سابق وزیر کے جانا ریڈی نے شدید ناراضگی کا اظہار کیاہے ۔ ایکاور سابق وزیر و رکن اسمبلی نلگنڈہ کے وینکٹ ریڈی جو تلنگانہ جدوجہد کے دوران کابینہ سے مستعفی ہوئے نے بھی کہا کہ وہ کانگریس پارٹی اور سونیا گاندھی کی قیادت کو مستحکم کرنے کو ہی ترجیح دیں گے ۔ پی سی سی کارگذار صدر سے ناراض یہ دو قائدین اپنی ناراضگی کو دور کرتے ہوئے ایک جوٹ ہورہے ہیں جس کی تمام سیاسی حلقوں میں اطلاعات گشت کررہی ہیں ۔ ضلع کانگریس کے تمام قائدین پہلے کوئی ۔۔۔۔۔ کو سیاسی میدان سے دور کرنے کی ممکنہ کوشش کررہے تھے لیکن ان کی قربت سے یہ ناممکن نظر آرہے ہے ۔ ضلع میں تمام سینئر قائدین رہنے کی وجہ موروثی سیاست کے فروغ دیا جارہا ہے ۔ صدر ضلع کانگریس کی جانب سے ٹی پی سی سی کو روانہ کردہ فہرست میں سابقہ ریاستی وزیر پنچایت راج جو کہ حلقہ چلکورتی اور ناگرجنا ساگر سے 7مرتبہ انتخابات میں حصہ لیکر 6دفعہ کامیابی حاصل کی ۔ کے جانا ریڈی کو پھر ایک موقع فراہم کیا گیا ہے کہ ان کیف رزند کے رگھوویر ریڈی کو حلقہ اسمبلی مریال گوڑہ یا لوک سبھا نلگنڈہ سے امیدوار بنانے کی سفارش کیگئی ہے یا پھر کے جانا ریڈی کو ہی لوک سبھا نلگنڈہ کا ٹکٹ دینے پر غور کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ اسی طرح ایک اور سینئر قائد و سابق وزیر رکن اسمبلی سوریا پیٹ آر دامودھر ریڈی نے اپنے بھائی ضلع کھمم سے تعلق رکھنے والے سابق ریاستی وزیر آر وینکٹ ریڈی جو انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں جس کی وجہ ان کے فرزند آر سروتم ریڈی کوپارلیمانی حلقہ بھونگیر سے امیدوار بنانے کا مطالبہ کررہیہیں وہ بھی 6مرتبہ انتخابات میں حصہ لیکر کامیابی حاصل کی ہے

اور ان کی خدمات پارٹی کیلئے اہم ہیں جس کی بنیاد پر یہ مطالبہ کیا جارہے ہے کہ ایک اور سابق وزیر موجودہ کارگذار صدر ٹی پی سی سی کیپٹن اتم کار ریڈیجو تین مرتبہ ان حلقوں ایوان میں نمائندگی کی ہے نے بھی ان کی اہلیہ شریمتی اتم پدماوتی کو حلقہ اسمبلی نلگنڈہ کے وینکٹ ریڈی جو آنجہانی چیف منسٹر کے دست راست بتائے جاتے تھے نے گذشتہ انتخابات میں ہی اپنے بھایئی کے راج گوپال ریڈی کو حلقہ پارلیمنٹ سے کامیاب بنایا تھا پھر ایک دفعہ اپنے بھائی کو ہی لوک سبھا بھونگیر حلقہ سے امیدوار بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ضلع کے سینئر و بزرگ قائد و سباق ریاستی وزیر موجودہ راجیہ سبھا رکن بی گووردھن ریڈی نے گذشتہ بھی اپنی بیٹی کو امیدوار بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس دفعہ وہ ان کی بیٹی پی شیراونتی ریڈی کو منوگوڑ سے پارٹی امیدوار بنانے کی سفارش کی ہے ۔ واضح رہے کہ ضلع کے 12اسمبلی حلقوں میں دیوم کنڈہ ایس ٹیطبقہ ‘نکریکل اور تنگاترتی ایس سی کیلئے محفوظ قرار دیئے گئے ہیں جبکہ آلیر سے بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائد بی بھکشمیا گوڑ نمائندگی کررہے ہیں ۔صدر ضلع کانگریس کی سفارش کردہ فہرست کے مطابق صرف ایک حلقہ سے ایک مسلم امیدوار کے طور پر نام پیش کیا گیا ہے ۔ اقلیتی قائدین کو کوداڑ ‘ بھونگیر‘ مریال گوڑہ اور نلگنڈہ جہاں پر اقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی ہے سے نمائندگی دی تھی لیکن صرف ایک نام کوپیش کرتے ہوئے صدر ضلع کانگریس اقلیتوں کی ہمدردی حاصل کرنیکی کوشش کی ہے ۔ ضلع کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ فہرست کو ریاستی انچارج کانگریس پارٹی امور ڈگ وجئے سنگھ اور پی ای سی میں غور کیا جائے گا ۔ گذشتہ میں کوداڑ سے مسلم امدیوار کو میدان میں اتارا گیا لیکن ضلعی قائدین کی غیر سنجیدگی کی وجہ شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔ پارٹی اعلیٰ کمان کے قائدین فہرست میں روانہ کردہ نام پر غور کر کے انتخابی میدان میں اتار اور کامیاب بنانے کی ذمہ دار تمام سینئر قائدین پر عائد کرتے ہوئے اقلیتوں کو پارٹی سے قریب کرتے ہوئے ان کی ہمدردی حاصل کرے ۔

TOPPOPULARRECENT