Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / نماز جنازہ میں تکبیرات کے بعد ہاتھ چھوڑنا

نماز جنازہ میں تکبیرات کے بعد ہاتھ چھوڑنا

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک امام صاحب نے ایک مقام پر نماز جنازہ پڑھائی اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے تک ہاتھ باندھے رکھا ۔ بعض اصحاب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ نماز نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں شرعاً نماز جنازہ ہوئی یا نہیں ؟

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک امام صاحب نے ایک مقام پر نماز جنازہ پڑھائی اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے تک ہاتھ باندھے رکھا ۔ بعض اصحاب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ نماز نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں شرعاً نماز جنازہ ہوئی یا نہیں ؟
جواب : نماز جنازہ میں دو فرض ہیں۔ (۱) چار تکبیرات یعنی چار مرتبہ اللہ اکبر کہنا (۲) قیام یعنی کھڑے ہوکر نماز پڑھنا، نماز جنازہ میں تین امور مسنون ہیں۔ پہلی تکبیر کے بعد حمد و ثناء پڑھنا، دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھنا، تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کرنا۔ اس کے علاوہ جو امور ہیں وہ مستحبات و آداب سے تعلق رکھتے ہیں، فرائض کی تکمیل سے نماز ادا ہوجاتی ہے ۔

فقہاء کرام نے کن مواقع پر ہاتھ باندھے رہنا چاہئے اور کن مواقع پر ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے، اس سلسلہ میں ایک قاعدہ بیان کیا ہے ، وہ یہ کہ ہر وہ قیام جس میں کوئی ذکر مسنون ہو ہاتھ باندھے رہیں اور جس قیام میں کوئی ذکر مسنون نہ ہو اس میں ہاتھ چھوڑدیں ، ذکر سے مراد ذکر طویل ہے ورنہ تحمید و تسمیع یعنی سمع اﷲ لمن حمدہ ، ربنا لک الحمد بھی ذکر ہے ۔ اس کے باوجود قومہ میں ہاتھ باندھنا نہیں ہے۔ … و یضع یمینہ علی شمالہ تحت سرتہ کالقنوت و صلوٰۃ الجنازۃ و یرسل فی قومۃ الرکوع و بین تکبیرات العیدین فالحاصل ان کل قیام فیہ ذکر مسنون ففیہ الوضع و کل قیام لیس کذا ففیہ الارسال (شرح و قایہ جلد اول ص ۱۴۴) اس کے حاشیہ میں ہے… فان قلت یخرج عنہ القومۃ لان فیھا ذکر امسنونا وھوالتحمید والتسمیع قلت المراد بالذکر الذکر الطویل۔
مذکورہ در سوال صورت میں خاص طور پر امام صاحب کو اور ان کی اقتداء کرنے والوں کو نماز کے ارکان و شرائط مستحبات و آداب کی رعایت رکھتے ہوئے نماز ادا کرنا چاہئے۔ مذکورہ صورت میں نماز ادا ہوگئی تاہم خلاف استحباب عمل ہوا ہے۔ مصلیوں کا اعتراض صحیح نہیں۔

نکاح کے بعد دوبارہ نکاح کی محفل منعقد کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بغرص تعلیم و ملازمت میں کینیڈا میں مقیم ہے۔ اس کی شادی بکر کی لڑکی سے طئے پائی ہے ۔ عاقدین ہندوستانی شہری ہیں اور ہندوستانی پاسپورٹ رکھتے ہیں مگر دونوں مختلف شہر والے ہیں ۔ بعض ناگزیر وجوہات کی بناء زید ہندوستان آکر شادی کرنے سے قاصر ہے اس لئے اس نے ہندوستان میں مقیم اپنے ایک عزیز کو وکالت نامہ نکاح دیکر نکاح کا خواہشمند ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی محفل نکاح کیلئے لڑکے کے وکیل کے علاوہ بغرض ایجاب و قبول عاقد سے ٹیلیفون پر ربط پیدا کرنا ضروری ہے اور کیا وکیل بناتے وقت گواہ ضروری نہیں ؟ براہ کرم یہ بھی رہبری کیجئے کہ کیا اس طرح نکاح منعقد ہوجانے کے بعد ، دلہا و دلہن کے متعلقین کی خواہش پر دوسرے شہر میں اور ایک مرتبہ مذکورہ عاقد و عاقدہ کی وداعی سے قبل نئے قاضی سے دو گواہوں کے روبرو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ؟
جواب : مرد کا اصالۃً یعنی بذات خود موجود رہ کر جس طرح نکاح کرنا جائز ہے اسی طرح وکالۃً یعنی عاقد کی اپنی عدم موجودگی میں کسی کو وکیل بناکر نکاح کرنا بھی جائز ہے۔ صورت مسئولہ میں زید عاقد نے کسی متعین لڑکی سے نکاح کا اپنے عزیز کو وکیل بنایا ہے تو وہ مہر کی رقم بھی متعین کردے ۔ اس طرح وکالۃً نکاح جائز ہے ۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۹۵ میں ہے: واذا وکل رجلا ان یزوجہ امرأۃ بعینھا ببدل سماہ فزوجھا الوکیل لنفسہ بذلک البدل جاز النکاح للوکیل کذا فی المحیط۔ نکاح کے لئے وکیل بناتے ہوئے گواہوں کی ضرورت نہیں تاہم بنالینا بہتر ہے تاکہ اختلاف کی صورت میںثبوت رہے۔ البتہ مذکورہ متعینہ لڑکی سے مخاطبت کے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ تاتار خانیہ ج ۳ ص ۶۹ میں ہے : و یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود وانما یکون الشھود شرطا فی حال مخاطبۃ الوکیل المرأۃ ۔
وکالۃً جس محفل میں نکاح ہوگا وکیل اور عاقدہ اور گواہوں کی موجودگی میں عاقدہ کا اور وکیل کا اپنے مؤکل کی طرف سے ایجاب و قبول کافی ہے ۔ ٹیلیفون پر بغرض ایجاب و قبول عاقد سے ربط پیدا کرنا ضروری نہیں ۔ مذکورہ طریقہ وکالت پر نکاح کے انعقاد کے بعد دوبارہ نکاح کا انعقاد بے محل ہے کیونکہ اب دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اگر دوبارہ نکاح کیا جائے تو ایک لغو عمل ہے ۔ البتہ وداعی وغیرہ کے عنوان سے رشتہ داروں اور دوست احباب کو مدعو کرنا درست ہے۔ فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT