Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / نماز کا حکم اور ترکِ نماز پر وعید

نماز کا حکم اور ترکِ نماز پر وعید

مولانا ازہار احمد امجدی ازہری

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، پھر اسے اس بات کی تلقین فرمائی کہ وہ اس کی ذات والا صفات ہی کی عبادت کرے، کیونکہ اللہ جل شانہ نے انسان و جن کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ ایمان کی تلقین کے بعد اللہ جل شانہ نے اپنی حکمت بالغہ کے پیش نظر مسلمانوں کو متعدد عبادات کا مکلف بنایا اور ان عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ پانچ وقت کی نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، اللہ جل شانہ اسی فرضیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘ (سورۂ بقرہ۔۴۳) دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ’’اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں، بے شک نیکیاں برائیوں مٹا دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لئے‘‘۔ (سورۂ ہود۔۱۱۴)
اسی عظیم فرضیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص اپنے گھر میں طہارت حاصل کرکے فرض ادا کرنے کے لئے مسجد میں جاتا ہے تو ایک قدم پر ایک گناہ محو ہوتا ہے، دوسرے پر ایک درجہ بلند ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم، بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
اس امر میں کسی صاحبِ ایمان کا اختلاف نہیں کہ پانچ وقت کی نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض اور ان کی ادائیگی ان کے اوقات میں ضروری ہے، مگر آج عوام و خواص اس فرض کی ادائیگی سے بے اعتنائی برت رہے ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ جمعہ تک نہیں پڑھتے اور بعض جمعہ تو پڑھ لیتے ہیں، مگر انھیں پانچ وقت نماز پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ نماز تو پڑھتے ہیں، مگر ان میں التزام نہیں پایا جاتا، کبھی پڑھی اور کبھی بلاعذر شرعی چھوڑ دی، بلکہ بعض کی حالت اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ انھیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ نماز کا وقت کب شروع اور کب ختم ہو رہا ہے۔ نماز کے لئے اذان ہوتی ہے تو کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بعض افراد بہت ہی پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں، یقیناً ایسے لوگ قابل مبارکباد ہیں کہ ان کی دنیاوی مصروفیات ان کے اس عمل خیر اور اہم فریضہ کی ادائیگی میں مانع نہیں ہوتیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگ صرف جمعہ کی نماز ادا کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور پنجوقتہ نماز کی ادائیگی کا ان کے دل میں خیال تک نہیں آتا۔
آج مسلمانوں کا شکوہ یہ ہے کہ دینی، ملی، اقتصادی اور اخلاقی ہر جہت سے ہم پریشان ہیں، لیکن ہمارا عمل یہ بتاتا ہے کہ ہمیں اس طرح کے شکوہ اور شکایت کا حق نہیں ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے فرض کی گئی نعمت عظمیٰ نماز سے ہم پہلو تہی کر رہے ہیں، روزہ سے بے اعتنائی ہماری عادت بن چکی ہے، حج فرض کی عدم ادائیگی اور زکوۃ نہ ادا کرنا ہماری سرشت میں شامل ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں اُلٹی سیدھی تاویل ہمارا طرۂ امتیاز، قول و عمل میں تضاد ہماری فطرت ثانیہ اور غیبت و چغلی ہماری روش بن چکی ہے۔ ان حالات میں اگر ہم غیر یقینی حالات کا شکار ہیں تو پھر شکوہ اور شکایت کیسی؟۔ یقیناً جو لوگ احکامِ خدا و رسول سے دُور ہیں، انھیں زبوں حالی کا شکار ہونا بھی چاہئے، مزید یہ کہ انھیں شکوہ و شکایت کا حق بھی نہیں پہنچتا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے عمداً نماز چھوڑی، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو برباد کردے گا اور اللہ تعالیٰ اس شخص سے بری الذمہ ہوگا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرکے توبہ کرے‘‘۔ (الترغیب والترھیب، بحوالہ اصبہانی)
نماز کو فرائض اعتقادیہ میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی ادائیگی عاقل و بالغ مسلمان پر فرض عین ہے۔ بلاعذر شرعی ایک بار بھی نماز ترک کرنا جائز نہیں۔ جس نے ایک مرتبہ بھی قصداً فرض نماز کو چھوڑا، وہ فاسق، گنہگار اور مستحق عذاب ہے۔ جو شخص نماز نہ پڑھتا ہو اسے قید کرنے کا حکم ہے، یہاں تک کہ توبہ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز باجماعت کا پابند بنائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT