Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / نماز کی پرسش

نماز کی پرسش

محمد قیام الدین انصاری کوثر

حضرت عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بیمار اور حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کیا اور فرمایا: ’’قیامت کے روز ایک شخص اپنی بیماری کا عذر پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا: یاالہٰی! میں بیمار تھا اور تکلیف کی وجہ سے نماز پڑھنے سے قاصر تھا‘‘۔ ارشاد ہوگا: ’’بلاؤ حضرت ایوب علیہ السلام کو‘‘۔ حضرت ایوب علیہ السلام حاضر ہوں گے تو ارشاد ہوگا: ’’اے بیمار! تو زیادہ بیمار تھا یا ایوب علیہ السلام؟ برسوں ان کے بدن میں کیڑے پڑے رہے، مگر ایک سانس بھی یاد الہٰی سے غافل نہ ہوئے۔ اگر بیماری یاد الہٰی سے روکتی تو ہمارے ایوب کو بھی روکتی۔ تو جھوٹا ہے جو بیماری کا بہانہ کرتا ہے۔ نماز نہ پڑھنا تیری غفلت اور کاہلی کا نتیجہ ہے‘‘۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ’’اسے لے جاکر جہنم میں ڈال دو‘‘۔
اسی طرح ایک بے نمازی عورت دربار الہٰی میں حاضر ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ ’’تونے نماز کیوں ترک کی؟‘‘۔ عورت عرض کرے گی کہ ’’الہٰی! مجھے خاوند کی خدمت سے فرصت نہیں ملتی تھی اور وہ بہت ظالم و جابر تھا، اس کے خوف سے یہ فرض ادا نہیں کرسکتی تھی‘‘۔ حکم ہوگا کہ ’’فرعون کی بیوی آسیہ کو حاضر کرو‘‘۔ حضرت آسیہ حاضر ہوں گی تو بے نمازی عورت سے پوچھا جائے گا کہ ’’تیرا خاوند زیادہ ظالم تھا یا آسیہ کا خاوند‘‘۔ عورت کہے گی: ’’یااللہ! فرعون زیادہ ظالم تھا‘‘۔ ارشاد ہوگا: ’’آسیہ بہت ہی جابر شخص کی بیوی تھی، مگر اسی طرح عبادت گزار بھی تھی۔ اے بے نمازی عورت! خاوند کا عذر غلط ہے، دراصل تو غافل تھی‘‘۔
یہ کہہ کر حضرت عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ پر رقت طاری ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ ادھر حاضرین بھی زار و قطار رو رہے تھے۔ جب حضرت کو افاقہ ہوا تو حاضرین سے خطاب فرمایا کہ ’’اب تک تمہاری روزی برکت سے خالی تھی، نماز کی برکت سے نہ صرف روزی میں پاکی آجائے گی، بلکہ روزی میں مزید اضافہ بھی ہوگا۔ وہ دولت حرام ہے جو اس گھر میں جائے، جہاں یاد الہٰی نہ ہو۔ تم نماز پڑھتے ہوئے دولت کماؤ، دین کے ساتھ دنیا کو ہاتھ میں لو‘‘۔
احکام خداوندی ہے: ’’اور قائم رکھو نماز اور زکوۃ دیا کرو اور نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ جھکو‘‘۔ ’’نماز پڑھو اور مشرک لوگوں میں شامل نہ ہو‘‘۔ ’’اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو‘‘۔ ’’نماز کو میری یاد کے لئے ذریعہ بناؤ‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’نماز دین کا ستون ہے، جس نے نماز کو ترک کیا اس نے اپنے دین کو خراب کیا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT