Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / نندیال سے تلگودیشم کی شاندار کامیابی ‘ وائی ایس آر کانگریس کو شکست

نندیال سے تلگودیشم کی شاندار کامیابی ‘ وائی ایس آر کانگریس کو شکست

بھوما برہمانند ریڈی نے 27 ہزار سے زائد ووٹوں سے شلپا موہن ریڈی کو شکست دی ‘ کانگریس کو 1382 ووٹس
حیدرآباد 28اگست ( سیاست نیوز) آندھراپردیش کے حلقہ اسمبلی نندیال کے ضمنی انتخاب میں تلگودیشم امیدوار مسٹر بھوما پربھانند ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ۔ حلقہ اسمبلی نندیال میں 23اگست کو منعقدہ رائے دہی کے بعد آج نندیال میں واقع پالی ٹیکنک کالج میں صبح 8بج سے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوا ۔ ووٹوں کی گنتی جملہ 19راؤنڈز میں مکمل کرلی گئی ۔ گنتی کے آغاز سے اختتام تک مسلسل تلگودیشم کو وائی ایس آر کانگریس امیدوار کے مقابلہ میں سبقت حاصل رہی ۔ ووٹوں کی گنتی کے اختتام پر تلگودیشم امیدوار کوابتدائی موصولہ اطلاعات کی روشنی میں جملہ 97,076 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ وائی ایس آر کانگریس امیدوار مسٹر شلپا موہن ریڈی کو جملہ 69,610 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اس طرح وائی ایس آر کانگریس امیدوار کے مقابلہ میں تلگودیشم امیدوار مسٹر بھوما برہمانندا ریڈی کو 27,466 ووٹوں کی اکثریت سے شاندارکامیابی حاصل ہوئی ۔ رٹرننگ آفیسر حلقہ اسمبلی نندیال نے یہ بات بتائی اور کہاکہ ووٹوں کی گنتی کے موقع پر سخت صیانتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ بتایا جاتا ہیکہ ڈالے گئے جملہ ووٹوں کے منجملہ تلگودیشم پارٹی کو 56فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور وائی ایس آر کانگریس کو 40 فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور ووٹوں کی گنتی کے دوران ہر راونڈ میں تلگودیشم امیدوار مسٹر برہما نندا ریڈی کو سبقت حاصل رہی اور وائی ایس آر کانگریس امیدوار شلپا موہن ریڈی کو کسی راؤنڈ میں بھی تلگودیشم امیدوار پر سبقت حاصل نہیں ہوئی ۔ کانگریس امیدوار مسٹر عبدالقادر کو صرف 1382 ووٹ حاصل ہوئے ۔ بتایا جاتا ہیکہ حلقہ اسمبلی نندیال کے ضمنی انتخاب کو ایک طرف برسراقتدار تلگودیشم کے وقار کا مسئلہ بتایا تھا تو دوسری طرف اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس نے بھی تلگودیشم سے کہیں زیادہ وقار کا مسئلہ بتاتے ہوئے انتخابی مقابلہ میں قسمت آزمائی کی تھی جس کے باعث نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک تلگو عوام میں اس حلقہ کے نتائج سے متعلق دلچسپی و تجسس تھا اور اس ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے برسراقتدار تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس نے عوامی تائید حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا اور بالخصوص قائد اپوزیشن و صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے 13دن تک حلہ اسمبلی نندیال میں قیام ( کیمپ ) کر کے اپنے امیدوار مسٹرشلپا موہن ریڈی کی انتخابی مہم چلائی تھی اور چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے انتخابی مہم کے اختتام سے دو دن قبل ہی حلقہ اسمبلی نندیال میں مسٹر بھوما برہمانند ریڈی کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے عوام سے نندیال کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے تلگودیشم امیدوارکو کامیاب بنانے کی اپیل کی تھی ۔ بہرصورت حلقہ اسمبلی نندیال کا ضمنی انتخاب پارٹی امیدوار کے مابین نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کے مابین دکھائی دے رہا تھا ۔ مسٹر نائیڈو نے ضمنی انتخابات کے اعلامیہ سے قبل اور اعلامیہ کے بعد یعنی انتخابی مہم کے دوران اقلیتی ووٹوں کے حصول کیلئے کئی اہم اقلیتی قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے ترجیح دی اور ساتھ ہی اقلتیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی کئی تیقنات بھی دیئے جس کے نتیجہ میں حلقہ نندیال میں اقلتیوں نے تلگودیشم پارٹی کو ووٹ دینے پر ترجیح دی ۔

TOPPOPULARRECENT