Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نواحی علاقوں میں خشک بندرگاہوں کا قیام

نواحی علاقوں میں خشک بندرگاہوں کا قیام

حمل و نقل کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی کوشش ، ریاستی وزیر کے ٹی آر کا بیان
حیدرآباد۔22ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے شہر کے اطراف موجود نواحی علاقوں میں خشک بندرگاہوں کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ ریاست میں ساحل نہ ہونے کے سبب شہر کے نواحی علاقوں میں خشک بندرگاہیں قائم کرتے ہوئے ریاست میں حمل و نقل کی سہولتوں میں بہتری پیدا کرنے کے متعلق منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و انڈسٹریز مسٹر کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ ریاست میں 1000تا 2000ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ ان خشک بندرگاہوں کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ انہوںنے بتایا کہ اس سلسلہ میں ماہرین سے مشاورت کے بعد جو نکات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق شہر کے مشرقی یا جنوب مشرقی علاقوں میں ایک خشک بندرگاہ قائم کی جائے گی اور دوسری بندرگاہ کا قیام شہرکے مغربی حصہ میں موجود نواحی علاقہ میں عمل میں لایا جائے گا۔ ریاستی وزیر کے بموجب حکومت کی ترجیحات میں جو علاقے ہیں ان میں قومی شاہراہ نمبر 65کے قریب بھونگیر ۔چٹیال۔چوٹ اپل ‘ جڑچرلہ۔شادنگر (بنگلور ہائی وے) ‘ ظہیر آباد صنعتی راہداری‘ مریال گوڑہ ۔ سوریا پیٹ۔ دامیچرلہ جو گنٹور اور حیدرآباد کو مربوط کرتی ہے ان مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہریانہ میں 1000ایکڑ پر موجود خشک بندرگاہ کے نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سے بہتر بندرگاہ کی تیاری پر مشاورتی عمل جاری ہے۔ ریاست میں خشک بندرگاہوں کی تعمیر کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے مرکز سے امداد اور مشاورت کے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔ بندرگاہ کی تعمیر کیلئے تین علحدہ طریقہ کار اختیار کئے جا سکتے ہیں جن میں خانگی عوامی شراکت داری‘ مشترکہ ترقیاتی پراجکٹ اور مکمل سرکاری سطح پر پراجکٹ تیار کئے جاسکتے ہیں ۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے اس منصوبہ کے انکشاف کے بعد مذکورہ علاقوں کے اطراف و اکناف کی جائیدادوں کو کافی فائدہ حاصل ہونے کے امکان ہیں کیونکہ خشک بندرگاہوں کی تعمیر کے بعد ان علاقوں کی مصروفیات میں اضافہ ہونے کے سبب علاقہ کی اراضیات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کی توقع کی جارہی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبہ کوبڑی حد تک قطعیت دے دی گئی ہے اور حکومت نے اس سلسلہ میں اراضیات کی نشاندہی کا عمل بھی مکمل کرلیا ہے۔ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کے بموجب ریاست میںخشک بندرگاہوں کی تعمیر سے ریاستی صنعتوں اور تیارکردہ اشیاء کی منتقلی میں حائل دشواریاں دور ہو جائیں گی اور سامان روانہ کرنے والوں کو ساحل تک جانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی بلکہ وہ اپنے صنعتی اداروں کے قریب ترین موجود خشک بندرگاہ کے ذریعہ اپنا سامان روانہ کر پائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT