Wednesday , December 19 2018

نواز شریف وزیراعظم نہیں لیڈر بنیں

محمود شام، کراچی (پاکستان) فارسی کا ایک شعر ہے ؎ ہرچہ دانا کند کند ناداں لیکن بعد از خرابیٔ بسیار

محمود شام، کراچی (پاکستان)

فارسی کا ایک شعر ہے ؎
ہرچہ دانا کند کند ناداں
لیکن بعد از خرابیٔ بسیار
پریشان مت ہوں اس کا مطلب بھی میںآسان لفظوں میں بتائوںگا۔ ایک عقلمند جو کرتا ہے وہ ایک نادان یعنی بیوقوف بھی کرتا ہے لیکن بہت زیادہ خرابی کے بعد۔یہ شعر مجھے یاد آیا جب ہمارے وزیر داخلہ شیر راولپنڈی چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں سیکورٹی پالیسی پیش کی اور پھر اس پر داد طلب نظروں سے ادھر ادھر دیکھا بھی۔وزیر اعظم نواز شریف نے کمال مہربانی کی اور ایوان میں خاص طور پر تشریف لائے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کو اب آٹھ مہینے ہو رہے ہیں دہشت گردی اور عدم سلامتی ملک کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ہے اور برسوں سے ہے۔ مسلم لیگ ن کو یہ اندازہ بھی تھا قومی اور بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ نے یقین بھی دلا دیا تھا کہ اب کے اس کی باری ہے اس لئے دانشمندی کا تقاضا تھا کہ سب سے بڑے خطرے کے مقابلے کی تیاری کی جائے سیکورٹی پالیسی پہلے سے مرتب کی جائے۔ اس وقت یہ ترجیح نہیں سمجھی گئی،اب آٹھ ماہ گزرنے کے بعد بیوروکریسی کی تیارکردہ دستاویز چوہدری صاحب نے اپنے نام سے کابینہ کے سامنے رکھ دی ۔بیوروکریسی کہیں کی ہو اس کے پاس ہر شعبے کی پالیسیاں مختلف الماریوں میں کروٹیں بدل رہی ہوتی ہیں صرف مناسب موقع کا انتظار رہتا ہے،اس پالیسی کا بغور مطالعہ کیا جائے اس میں ایسا کچھ نیا نہیں ہے مشرف دور میں اسی قسم کی اصطلاحات ،عنوانات اور ذیلی سرخیوںکے ساتھ ایک پالیسی نائن الیون کے بعد بھی آئی تھی اس میں امریکہ کی پالیسیوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے کیونکہ خطرات ایک سے ہی ہیں ،دہشت گردی اب پوری دنیا کا مسئلہ ہے سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے اس الجھن میں نہیں پڑنا چاہئے کہ یہ جنگ کس کی جنگ ہے ،انتہا پسند مسلح تنظیمیںہر ملک کی سلامتی کے لئے سنگین چیلنج بن چکی ہیں کُل عالم پوری انسانیت خوف زدہ ہے ۔

ہم امریکہ کو اٹھتے بیٹھتے سخت تنقیدکا نشانہ بناتے ہیں لیکن ان کے ہاں جو نظام ہے وہ حقیقت میں لائق تقلیدہے ،سب کچھ پہلے سے طے شدہ اور متعین ہے ۔الیکشن سال شروع ہوتے ہی تمام تھنک ٹینک اپنے اپنے شعبوں میں تحقیق اور جائزہ لینے لگتے ہیں انتخابی مہم کے دوران تھنک ٹینکوں کی رپورٹیں عام کردی جاتی ہیں جب صدر منتخب ہو جاتا ہے یعنی نومبر میں تو نومنتخب صدر یہ رپورٹیں ممکنہ وزیروں کے حوالے کردیتے ہیں بیس جنوری سے پہلے ان تازہ ترین رپورٹوں کی بنیاد پر معیشت ،قانون ،داخلہ، خارجہ،زراعت،خوراک وغیرہ کے لئے آئندہ چار سال کا روڈ میپ تشکیل دے دیا جاتاہے ،بیس جنوری سے نیا صدارتی عرصہ شروع ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ہر وزارت میں کام کا آغاز ہو جاتا ہے متعلقہ وزیر اور اس کا سٹاف واضح طور پر جانتا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ آگے کیسے بڑھنا ہے کوئی ابہام نہیں ہوتا ۔ہمارے ہاں کی طرح بیان نہیں سنائی دیتے کہ ہمیں ابھی معلوم نہیں کہ مسائل کتنے پیچیدہ ہیں ابھی ہمیں حکومت میں آئے وقت ہی کتنا ہوا ہے ۔

وزیر اعظم ابھی کشمکش میں ہیں لیکن ہماری فوج کا وژن واضح ہے وہ طالبان کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے ان کو پاکستان کا دشمن جان لیا گیا ہے کور کمانڈرز کی میٹنگ میں بھی آپریشن کو ہی واحد راستہ قرار دیا گیا ہے اس لئے طالبان کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک حملے کئے جارہے ہیں ۔ فوج کی کارروائی کو پاکستان بھر میں قبولیت مل رہی ہے صرف جماعت اسلامی کی طرف سے ان کا رروائیوں کی مخالفت کی گئی ہے ۔سب سے قابل رحم حال طالبان کمیٹی کے ارکان کا ہے جو درمیان میں معلق ہوگئے ہیں۔ طالبان کی طرف سے ان پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ مذاکرات شروع کروائیں ۔حکومتی کمیٹی بھی اعتماد کھو چکی ہے۔

ہم نے کچھ ہفتے قبل یہ کہا تھا کہ موسم آپریشن کے لئے موزوں ہے فیصلہ مذاکرات کا کیا گیا ، اب حالات اس کی توثیق کر رہے ہیں کہ برف پگھل چکی ہے فوج کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ،پھر فوج کی کارروائی کے نتیجہ خیز ہونے کی وجہ سے عوامی حلقوں میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ہماری افواج دہشت گردوں اور باغیوں کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ابھی یا کبھی نہیں ۔علما کے زیادہ تر گروپ بھی فوجی پالیسی کے حق میں ہیں لیکن ایم کیو ایم واحد سیاسی جماعت ہے جس نے کھل کر پاکستان کی مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی صرف ایم کیو ایم کے لیڈر اور کارکن ہی نہیں مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیتوں نے بھی حصہ لیا اور ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر منتخب حکومت دہشت گردوں کے خاتمے میں بھر پور کردار ادا نہ کرے تو ٖفوج ملک کا انتظام سنبھال لے ۔امید ہے کہ فوجی کارروائی کے حق میں اور آوازیں بھی بلند ہونگی ،فوجی حلقوں کی طرف سے یہی کہا جارہا ہے کہ وہ یہ فرض اسی صورت میں زیادہ موثر انجام دے سکتے ہیں جب انہیں سول حکومت ،عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں کی مکمل حمایت حاصل ہو ۔اب یہ آپریشن شروع ہو چکا ہے متعلقہ علاقوں سے عام لوگوں کو دوسرے شہروں میں منتقل کیا جارہا ہے ،اپنے ہی وطن میں بیدخلی اور بے گھری کا کرب دیکھنے کا تجربہ پھر ہو رہا ہے لیکن یہ امید اور یقین ہے کہ حالات بہتر ہونگے بم دھماکے نہیں ہونگے بے گناہوں کا خون نہیں بہے گا۔ اسکولوں میں بم نہیں پھٹیں گے ۔وزیر اعظم نے بجا طور پر یہ ہدایت کی ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران یہ احتیاط لازمی رہے کہ نشانہ صرف دہشت گرد ہوں پرامن شہری خواتین بچے ہدف نہ بنیں ۔

نوازشریف حکومت کے لئے یہ ایک نازک وقت ہے۔ کڑی آزمائش ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے دائیں بازو کے مرکزی دائرے میں رہنا چاہتی تھی لیکن اسے حالات کا دھارا بالکل مخالف سمت میں لے گیا ہے ا ب وہ واپس بھی نہیں ہو سکتے ۔ پاکستان کو درپیش چیلنج تقاضا کررہے ہیں کہ ملک کو ایک لیڈر چاہئے جو اس خطے کی ضرورتوں کا ادراک کرتے ہوئے ایک واضح سمت اختیار کرے۔ پارٹی مفادات ذاتی ترجیحات اور اپنے دوستوں کی خواہشات کو سامنے نہ رکھے۔آپ کا کیا خیال ہے
[email protected]
صرف ایس ایم ایس کے لیے:92-3317806800

TOPPOPULARRECENT