Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / نواز شریف پر تاحیات انتخابات لڑنے پر امتناع سپریم کورٹ کا فیصلہ ، سیاسی مستقبل تاریک

نواز شریف پر تاحیات انتخابات لڑنے پر امتناع سپریم کورٹ کا فیصلہ ، سیاسی مستقبل تاریک

اسلام آباد ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے معزول وزیراعظم نواز شریف پر سپریم کورٹ نے انتخابات لڑنے پر تاحیات امتناع عائد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملک کے دستور کے مطابق کسی بھی قانون ساز کو نااہل قرار دیئے جانے کا فیصلہ مستقل نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس تاریخی فیصلہ کے بعد پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہے نواز شریف کا سیاسی مستقبل اب تاریک ہوگیا ہے۔ اس فیصلہ پر بنچ کے تمام پانچ ججس کا فیصلہ اتفاق رائے پر مبنی تھا جہاں انہوں نے ملک کے دستور کے مطابق کسی بھی قانون ساز کو نااہل قرار دیئے جانے سے متعلق داخل کردہ ایک عرضداشت کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس تعلق سے دستور کے آرٹیکل 62(1)(f) کا بھی حوالہ دیا جس میں صرف اتنی وضاحت کی گئی تھی کہ کسی مخصوص صورتحال میں ایک قانون ساز کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تاہم اس کی صراحت نہیں کی گئی ہیکہ نااہل قرار دینے کی مدت کیا ہوگی جبکہ دستور کا آرٹیکل (62) کے تحت ایک رکن پارلیمان کو صادق اور امین ہونا بھی ضروری ہے تاہم یہ خصوصیات چونکہ نواز شریف کی شخصیت کا حصہ نہیں رہیں لہٰذا انہیں 28 جولائی 2017ء کو ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے بعدازاں نواز شریف کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کی حیثیت سے بھی نااہل قرار دیا تھا۔ آج کے تاریخی فیصلہ میں سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ ملک کے دستور کے مطابق اگر کسی کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو پھر وہ کسی بھی حالات میں بحال نہیں ہوسکتا۔ اس فیصلہ سے اب نواز شریف کا سیاسی مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT