Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / نواز شریف کو دھکا، رشوت کا مقدمہ درج کرنے جے آئی ٹی کی سفارش

نواز شریف کو دھکا، رشوت کا مقدمہ درج کرنے جے آئی ٹی کی سفارش

دونوں بیٹے اور بیٹی اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام، وزیراعظم اور ارکان خاندان ان کی آمدنی اور جمع شدہ دولت میں نمایاں فرق کا انکشاف
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو آج زبردست دھکہ لگا جب پناما گیٹ سے موسوم مالی اسکینڈل کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کرنے والے ادارہ نے اپنی قطعی رپورٹ میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی جب ان کی حقیقی دولت اور آمدنی میں نمایاں فرق پایا گیا۔ نواز شریف خاندان کی تجارتی معاملتوں کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) نے سپریم کرٹ میں آج اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سفارش کی کہ ایک حوا لہ (رشوت کیس) شریف اور ان کے بچوں حسن نواز اور حسین نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کے خلاف 1999ء کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی دفعہ 9 کے تحت درج کیا جائے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ شریف خاندان کے تمام چار مدعی علیہان کے اثاثہ ان کی آمدنی کے ذرائع سے کہیں زیادہ پائے گئے۔ ان کی طرف معلنہ اور معلوم ذرائع آمدنی اور اثاثوں میں بہت زیادہ فرق یا تفاوت ہے۔ مزید برآں پاکستان میں موجود نواز شریف کی کمپنیوں کی مالیاتی حالت اور صحت بھی اس خاندان کی طرف سے جم ع شدہ دولت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ علاوہ ازیں شریف اور ان کے چھوٹے بیٹے کی طرف سے سعودی عرب، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں قائم کردہ کمپنیوں سے قرض یا تحفوں کی شکل میں ملنے والی بھاری دولت میں ترسیل میں بے قاعدگی اور بے ضابطگی کو اجاگر کرتی ہے۔ ٹیم نے کہا ہے کہ اس تحقیقات کے دوران میں متعدد آف شور (بے نامی) کمپنیوں کا سراغ ملا ہے اور ان کا برطانیہ میں ان مدعا علیہان کے کاروباروں سے تعلق ثابت ہوا ہے۔ان کمپنیوں کو برطانیہ میں رقوم کی منتقل کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔پھر ان سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خرید کی گئی تھیں۔ان فنڈز کو برطانیہ ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں بھی منتقل کیا گیا تھا مگر مدعا علیہان ایک اور سات ان رقوم کے ذرائع کے بارے میں بتانے میں ناکام رہے ہیں۔رپورٹ کے ایک حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے گلف اسٹیل ملز کے معاملات سے متعلق وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کے بیانات کو مسترد کردیا ہے۔ طارق شفیع نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اپریل 1980ء میں الاہلی اسٹیل ( گلف اسٹیل ملز ) کے پچیس فی صد حصص ایک کروڑ بیس لاکھ درہم میں فروخت کیے گئے تھے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا تھا اور نہ اس کا کوئی ریکارڈ ملا ہے۔متحدہ عرب امارات کے حکام نے مزید کہا ہے کہ انھیں 2001ء اور 2002ء میں الاہلی اسٹیل ملز کی ا سکریپ مشینری کی دبئی سے جدہ حمل ونقل کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ مذکورہ دونوں برسوں کے دوران میں کوئی اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھیجی ہی نہیں گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT