Wednesday , December 13 2017
Home / پاکستان / نواز شریف کو نااہل قرار دینے میں پاکستانی فوج کا کوئی رول نہیں : باجوہ

نواز شریف کو نااہل قرار دینے میں پاکستانی فوج کا کوئی رول نہیں : باجوہ

دفاعی کمیٹیوں کے اجلاس میں ارکان پارلیمان سے
سوال و جواب کا سیشن
پی ایم ایل (این) کیخلاف سازشوں کا سلسلہ ہنوز جاری
پاکستان کے بجٹ کا 18 فیصد فوج کیلئے صرف
اسلام آباد ۔ 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے طاقتور و بااختیار فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو برطرف کئے جانے میں پاکستانی فوج ملوث ہے۔ انہوں نے واضح طور پرکہا کہ فوج کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔ یاد رہیکہ 28 جولائی کو پاکستان سپریم کورٹ نے پنامہ پیپرس کیس میں نواز شریف کے ملوث پائے جانے پر انہیں وزیراعظم کے عہدہ کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف بدعنوانی کے معاملات درج کئے جائیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹیوں کے ارکان کے ذریعہ پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی جنہوں نے کل جنرل ہیڈکوارٹرس (GHQ) کا دورہ کیا تھا۔ ارکان پارلیمان نے یوں تو اکثر و بیشتر پوچھے جانے والے سوالات کو ہی دہرایا تھا، بشمول سیکوریٹی آپریشنس، فوجی عدالتیں، دفاعی بجٹ، امریکہ کے ساتھ بات چیت، ہندوستان کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں حائل مسائل اور سیول۔ ملٹری تعلقات یہ تمام وہی موضوعات ہیں جن پر اکثر و بیشتر وضاحتیں پیش کی جاتی رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی بھی کوشش کی کہ پاکستانی افواج کا نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے میں کوئی رول ہے۔ باجوہ نے کہا کہ وہ خود بھی جمہوریت کے زبردست حامی ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر ایقان رکھتے ہیں۔

اسی دوران ایک دیگر رکن پارلیمان نے بھی جنرل باجوہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو نااہل قرار دینے میں فوج کا کوئی رول نہیں ہے جبکہ موجودہ وزیراعظم (عباسی) بھی اتنے ہی قابل اور باصلاحیت ہی جتنے کہ سابق وزیراعظم (نواز شریف) تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ پاکستان کی طاقتور اور بااختیار فوج کو فیصلہ سازی میں بھی کافی اختیارات حاصل ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ ملک کی آزادی کے 70 سالوں میں ملک میں جمہوری حکومت کی میعاد فوجی حکومت کی میعاد سے کم رہی۔ گذشتہ ماہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں نااہل قرار دیئے جانے کے واقعہ کو توہین آمیز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے سوچی سمجھی سازش رچی گئی ہے۔ دوسری طرف لندن میں مختصر توقف کے بعد موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ ہورہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف سازشوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جنرل باجوہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کے بجٹ کا 18 فیصد صرف دفاعی اخراجات میں ہی صرف ہوجاتا ہے لہٰذا اب بجٹ کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ دیگر ممالک سے بہتر تعلقات کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہر ملک کو اپنے داخلی مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ جب ملک کے عوام خوشحال اور بے فکر ہوں گے تو دیگر بیرونی ممالک سے بھی خوشگوار تعلقات استوار کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے پاکستان کی شبیہہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ خود اپنے گھر میں گڑبڑ ہو اور ہم دوسروں کا گھر سنوارنے کی کوشش کریں تو بات نامناسب معلوم ہوتی ہے۔ جنرل باجوہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ارکان پارلیمان کے کسی بھی سوال کا اطمینان بخش جواب دینے کیلئے کسی بھی کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو این اے (20) لاہور کے ضمنی انتخابات میں بی ایم ایل (این) کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی جہاں نواز شریف کے ذریعہ مخلوعہ نشست پر ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو کامیابی حاصل ہوئی۔ آج پاکستانی فوج کو بھی زبردست چیلنجس کا سامنا ہے اور اس سیشن کا مقصد ہی پاکستانی فوج کے کارناموں، کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی کو پیش کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT