Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / نواز شریف کیخلاف مقدمہ 13 اکٹوبر کو، دختر اور داماد کو ضمانت

نواز شریف کیخلاف مقدمہ 13 اکٹوبر کو، دختر اور داماد کو ضمانت

فرزندان کو اشتہاری مجرمین قرار دیا گیا
اسلام آباد ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے نااہل قرار دیئے گئے وزیراعظم نواز شریف انسداد بدعنوانی کی ایک عدالت میں پناما پیپرس اسکینڈل میں ملوث پائے جانے کے بعد حاضر نہیں ہوسکے جس کے بعد عدالت نے انہیں ماخوذ کرنے کیلئے سماعت کی اگلی تاریخ 13 اکٹوبر مقرر کی ہے جبکہ ان کی دختر مریم نواز اور داماد کیپٹن محمد صفدر کی ضمانت منظور کی گئی۔ 43 سالہ مریم نواز اپنے شوہر سابق فوجی کیپٹن محمد صفدر کے ساتھ گذشتہ شب لندن سے اسلام آباد پہنچیں تاکہ قومی احتسابی بیورو (NAB) میں حاضری دی جاسکے۔ کیپٹن صفدر کو ایرپورٹ پہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا کیونکہ ان کے خلاف غیرضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ دونوں نے علحدہ علحدہ طور پر جج محمد بشیر کی احتسابی عدالت میں حاضری دی۔ یاد رہیکہ نواز شریف کے دونوں بیٹے حسن اور حسین بھی عدالت میں حاضر نہ ہوسکے کیونکہ اس وقت وہ اپنی علیل والدہ کے ساتھ لندن میں ہیں جنہیں گلے کا کینسر لاحق ہے حالانکہ نواز شریف نے قبل ازیں دو سماعتوں کے دوران عدالت میں حاضری دی تھی لیکن بعدازاں وہ اپنی بیوی کے تیسرے آپریشن کے بعد فکرمند ہوگئے تھے اور لندن روانہ ہوگئے تھے۔ عدالتی عہدیداروں کے مطابق عدالت سے مریم اور صفدر کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے سماعت کی آئندہ تاریخ 13 اکٹوبر مقرر کی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ سماعت کو کم از کم پندرہ دنوں کیلئے ملتوی کیا جائے جہاں انہوں نے (حارث) عدالت سے یہ وعدہ بھی کیا کہ نواز شریف کو بھی حاضر کیا جائے گا جبکہ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اگلی سماعت کے دوران ہی ماخوذ کیا جائے گا۔ اسی طرح نواز شریف کے دونوں فرزندان حسن اور حسین کو اشتہاری مجرم قرار دیا کیونکہ وہ دونوں اب تک عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوئے۔ عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے کیسیس کی سماعت علحدہ اور حسن اور حسین کے مقدمہ کی سماعت علحدہ طور پر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ مریم نواز جنہیں نواز شریف کا سیاسی جانشین تصور کیا جارہا ہے، سخت سیکوریٹی کے دوران آج پہلی بار عدالت میں حاضر ہوئیں۔ انہیں غیرضمانتی گرفتاری وارنٹ کے خلاف 50,000 روپئے کا شخصی مچلکہ داخل کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ اسی دوران NAB کے عہدیداروں نے عدالت کو مطلع کیا کہ حسن اور حسین ملک چھوڑ کر لندن جاچکے ہیں اور عدالت میں حاضری سے قصداً گریز کررہے ہیں۔ مریم نواز نے اپنے شوہر کی گرفتاری کے خلاف عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صفدر مقدمہ کا سامنا کرنے کیلئے ہی لندن سے یہاں آئے ہیں اس کے باوجود بھی انہیں گرفتار کئے جانے کا کیا مقصد ہے جبکہ وہ اپنی مرضی سے یہاں آئے ہیں۔ لہٰذا ان کی گرفتاری سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف پارٹی سربراہ عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موصوف بھی کئی معاملات میں عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مفرور افراد آزاد ہیں اور جلسے منعقد کررہے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT