Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / نواز شریف کی سعودی شاہ سلمان کو منانے کی کوشش

نواز شریف کی سعودی شاہ سلمان کو منانے کی کوشش

اسلام آباد 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوگئے جن میں فوجی سربراہ بھی شامل ہیں تاکہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افواج روانہ کرنے کی اپیل کو مسترد کئے جانے کے بعد پیدا ہوئی رنجشیں دور کی جاسکیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف کا گزشتہ دو ماہ کے دوران تیل کی دولت سے

اسلام آباد 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوگئے جن میں فوجی سربراہ بھی شامل ہیں تاکہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افواج روانہ کرنے کی اپیل کو مسترد کئے جانے کے بعد پیدا ہوئی رنجشیں دور کی جاسکیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف کا گزشتہ دو ماہ کے دوران تیل کی دولت سے مالا مال مملکت سعودی عرب کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ نواز شریف وہاں یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے جہاں شیعہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فضائی حملے شروع کئے گئے تھے۔

نواز شریف کے ساتھ وزیر دفاع خواجہ آصف، فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف، اُمور حارجہ کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور معتمد خارجہ اعزاز احمد چودھری ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ یمن پر فضائی حملوں کیلئے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج تیار کی گئی تھی جس میں شمولیت کے لئے سعودی عرب نے پاکستان سے بھی زمینی افواج، لڑاکا طیارے اور بحری جہازوں کو روانہ کرنے کی اپیل کی تھی تاہم پاکستانی پارلیمنٹ نے اس سلسلہ میں ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہوئے یمن کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس لئے سعودی اپیل کو مسترد کردیا گیا جس سے سعودی قائدین ناراض ہوگئے تھے۔ حالانکہ صرف ایک ہفتہ قبل نواز شریف کے بھائی شہباز شریف بھی ایک وفد لے کر سعودی عرب گئے تھے لیکن اُن کا دورہ ناکام رہا کیونکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بہتر کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔

نواز شریف توقع ہے کہ شاہ سلمان سے ملاقات کریں گے۔ حالانکہ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتہ شاہ سلمان نے شہباز شریف سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بہرحال یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ نواز شریف کا دورہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب یمن میں سعودی عرب کی اتحادی افواج نے فضائی حملوں کا سلسلہ مسدود کردیا ہے اور اس طرح یمن بحران کی یکسوئی کے لئے بات چیت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ نواز شریف یمن بحران کے علاوہ سعودی ۔ پاکستان کے درمیان پاکستان کے انکار کے بعد ناخوشگوار تعلقات کو ایک بار پھر معمول پر لانے کے لئے بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے برعکس شاہ سلمان کو منانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT