Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / نواز شریف کی نا اہلی برقرار ‘ نظرثانی کی درخواستیں مسترد

نواز شریف کی نا اہلی برقرار ‘ نظرثانی کی درخواستیں مسترد

Deposed Pakistani Prime Minister Nawaz Sharif waves to his supporters during a rally in Muridke, Pakistan, Saturday, Aug. 12, 2017. Sharif is currently holding on-the-road rallies across Punjab, in a move aimed at demonstrating his political strength amid tight security. Sharif criticized the country's judiciary for disqualifying him from office for concealing assets. (AP Photo/Anjum Naveed)

پاکستان سپریم کورٹ کی رولنگ ‘سابق وزیر اعظم پاکستان کو جھٹکا ‘ قانونی راستے ختم‘سیاسی واپسی کے امکانات متاثر
اسلام آباد 15 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو آج اس وقت ایک اور جھٹکا لگا جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے معزول وزیر اعظم اور ان کے افراد خاندان کی جانب سے پناما پیپر انکشافات کی وجہ سے ان کو نا اہل قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا ۔ نواز شریف ‘ ان کے بچوں اور وزیر فینانس اسحاق ڈار نے سپریم کورٹ کی جانب سے 28 جولائی کو معلنہ تاریخ ساز فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواستیں دائر کی تھیں۔ اس فیصلے میں عدالت نے 67 سالہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیدیا تھا جس کی وجہ سے انہیں وزارت عظمی چھوڑنی پڑی تھی ۔ پاکستان سپریم کورٹ نے اس وقت حکم دیا تھا کہ نواز شریف کے علاوہ ان کے فرزندان حسین نواز ‘ حسن نواز دختر مریم نوآز اور داماد محمد صفدر کے علاوہ وزیر فینانس اسحاق ڈار کے خلاف کرپشن کے مقدمات بھی درج کئے جائیں۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی قیادت والی ایک پانچ رکنی بنچ نے نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کی نظرثانی درخواست کی سماعت کی تھی ۔ اسی پیانل نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا ۔ جسٹس کھوسا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام نظرثانی درخواستوں کو مسترد کیا جاتا ہے ۔ عدالت کی جانب سے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کے پاس اب کوئی اور قانونی راستہ نہیں رہ گیا ہے کہ وہ اپنی نا اہلی کو چیلنج کرسکیں۔ اس فیصلے کے بعد اب ان کی سیاسی واپسی کے امکانات غیر یقینی ہوگئے ہیں۔ تاہم سیاسی طور پر اگر ان کی پاکستان مسلم لیگ ( نواز) آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلیتی ہے تو پھر وہ دستور میں ترمیم کرتے ہوئے ان کی تا عمر نا اہلیت کو ایک محدود مدت تک کیلئے تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ آج کی رولنگ ایسے وقت میں آئی ہے جبکہ اتوار کو نواز شریف کے پارلیمانی حلقہ کیلئے دوبارہ رائے دہی ہو رہی ہے ۔

 

یہ حلقہ لاہور میں ہے جہاں سے نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کو امیدوار بنایا گیا ہے حالانکہ وہ لندن میں کینسر کا علاج کروا رہی ہیں۔ نواز شریف کے افراد خاندان اور اسحاق ڈار کو اب کرپشن کے چار مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا جو قومی احتساب بیورو کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کئے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے یہ استدلال پیش کیا کہ سابق وزیر اعظم کو اس بنیاد پر کس طرح نا اہل قرار دیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس تنخواہ کا انکشاف نہیں کیا جو انہوں نے حاصل ہی نہیں کی ہے ؟ ۔ عدالت نے تاہم اس استدلال کو مسترد کردیا ۔ خواجہ حارث نے یہ استدلال بھی پیش کیا کہ نواز شریف کو اپنے اثاثہ جات کا اعلان نہ کرنے پر بھی نا اہل قرار دیا نہیں دیا جاسکتا اور صرف ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے تاہم عدالت نے اس استدلال کو بھی مسترد کردیا ۔ درخواست گذاروں کی جانب سے دیگر کئی فنی اعتراضات بھی پیش کئے گئے تاہم عدالت نے ان کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے 28 جولائی کو کئے گئے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ( نواز ) لیڈر و وزیر آئی ٹی انوشا رحمان نے کہا کہ عدالت نے نظرثانی درخواستوں کو مسترد کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ پارٹی کیلئے مایوس کن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے تھی جس میں نواز شریف کو اپنی تنخواہ کے عدم انکشاف پر نا اہل قرار دیا گیا تھا ۔ انہوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ اگر ایک سپریم کورٹ کے نگران کار جج مقدمہ کی سماعت کریں تو احتساب بیورو کی عدالت میں بھی شریف خاندان سے انصاف نہیں ہوگا ۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے صدر نشین عمران خان نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مافیا کے رول کو ختم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے مقدمہ کی سماعت کے دوران نگران کار جج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ مقدمات میں تاخیر ہو لیکن ان کی کوششیں سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستوں کے استرداد سے ناکام ہوگئی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT