Thursday , November 23 2017
Home / پاکستان / نواز شریف کی وطن واپسی ،احتساب کے مطالبہ میں شدت

نواز شریف کی وطن واپسی ،احتساب کے مطالبہ میں شدت

اسلام آباد۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں کرپشن کو ختم کرنے کے حوالے سے جنرل راحیل شریف کے بیان پر سیاسی جماعتوں کے رد عمل میں جہاں دبی دبی زبان میں فوج کے ادارے میں بھی احتساب کی بات کی گئی ہے وہیں حکومت کے احتساب کے مطالبہ نے زور پکڑ لیا ہے۔جنرل راحیل شریف کا بیان ایسے وقت منظر عام پر آیا جب وزیر اعظم پاکستان نواز شریف لندن میں علاج کروانے کے بعد منگل کو واپس اسلام آباد پہنچے۔پاکستان کی سرکردہ سیاسی جماعت ’’پاکستان تحریک ِانصاف‘‘ کے سربراہ عمران خان نے راحیل شریف کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے جنرل راحیل شریف کے بیان پر اپنے رد عمل میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ادارہ اور ہر شعبہ کا احتساب ہونا چاہیے ۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات اور موجودہ حکومت کے ترجمان پرویز رشید نے جنرل راحیل شریف کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مقامی ذرائع ابلاغ سے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے۔اْنھوں نے کہا کہ احتساب کی آڑ میں سیاست اور سیاست کی آڑ میں کرپشن کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر اطلاعات نے اسی بیان میں احتساب کے لیے آزاد اور خود مختار اداروں کی ضرورت کا اعتراف کیا۔یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے دو ہفتے قبل قوم سے اپنے خطاب میں ایک کمشین تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک وہ کمیشن تشکیل نہیں پا سکا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ اگر یہ کمیشن بن جاتا تو راحیل شریف کو یہ بیان دینے کی ضرورت نہ پیش آتی۔انھوں نے کہا کہ احتساب کرنا فوج کا فیصلہ نہیں ہے۔پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے منگل کو کوہاٹ میں ایک عسکری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے اور مسلح افواج ہر سطح پر احتساب کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کی حمایت کرے گی۔پاکستان کے فوج کے سربراہ کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاناما دستاویزات سے افشا ہونے والی معلومات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچے بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد حزب اختلاف کی تمام جماعتیں حکمران خاندان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT