Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / نوجوانوں کو تہذیب اور اقدار سے ربط برقرار رکھنا چاہیئے

نوجوانوں کو تہذیب اور اقدار سے ربط برقرار رکھنا چاہیئے

صوفی سنگیت اور لوک پروگراموں کی اہمیت برقرار ‘  چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کی ابھینوتھیٹر کی افتتاحی تقریب میں تقریر
جموں ۔6ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے آج ریاستی نوجوانوں سے خواہش کی کہ وہ اپنے تہذیب و تمدن ‘ تہذیبی ورثے اور روایتی اقدار سے اپنی سائنس و ٹکنالوجی کی جستجو کرنے کے دوران ترک تعلق نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی نوجوانوں کو اپنے تہذیب و تمدن ‘ تہذیبی ورثے اور روایتی اقدار سے ربط برقرار رکھنا چاہیئے ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ شعبہ سائنس و ٹکنالوجی میں جدوجہد ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ درخشاں مستقبل جدید ترین سائنس و ٹکنالوجی کی معلومات کے ساتھ ہی ساتھ تہذیبی و تمدنی ورثے اور روایتی اقدار سے آراستہ ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ میں جدوجہد جاری ہے لیکن اس روشن مستقبل کی جدوجہد کے دوران اپنی تہذیب و روایات کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے ۔ اس کے بغیر نوجوان معاشی طور پر خوشحال تو ہوجائیں گے لیکن انہیں یہ کبھی نہیںمعلوم ہوگا کہ وہ کیا ہیں ۔ انہوں نے تزئین جدید شدہ ابھینو تھیٹر کو جموں کے علاقہ میں تہذیبی سرگرمیوں کا اعصابی مرکز قرار دیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تہذیبی پروگرام عوام کی زندگیوں کا ایک حصہ بن جانا چاہیئے ۔ صرف ان کے انعقاد اور اس میں اہم شخصیات کی شرکت کافی نہیں ہے ۔

مفتی سعید نے صوفی سنگیت اور لوک روایات کی تعلیم کیلئے ریاست کے دونوں دارالحکومتوں میں اسکولس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ اس افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے آئے ہیں ۔ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ صوفی سنگیت اور لوک تہذیبی پروگرام کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مربوط کئے جانے چاہیئے ۔ ان دونوں فنون کو منظم کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہندی فلمی صنعت کا تعلق ہے اس نے کافی ترقی کی ہے لیکن روایتی تھیٹر اور ڈرامہ کی ملک میں اس سے اہمیت کم نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ سینما کی عظیم ترقی کسی طرح بھی شیکسپیر کی بلند قامتی کم نہیں کرسکتی۔ وہ ایک عظیم ڈرامہ نگار تھا ۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ ملک کے عوام کو متحد کرتے ہیں کیونکہ یہ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر عوام میںفرق و امتیاز نہیں کرتے ۔ موسیقار ‘ گلوکار ‘ اداکار ‘ تھیٹر کے فنکار انسان کو صرف انسان سمجھتے ہیں ‘ ہندو یا مسلمان نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے قول کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بابائے قوم کے بارے میں بہت مطالعہ کیا ہے لیکن سنجے دت کی فلم ’’ لگے رہو منا بھائی ‘‘ دیکھنے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے کہ انہوں نے گاندھیائی جذبہ کی بازیاب کی ہے ۔ تھپڑ کھانے اور اس کا جواب دینے کی طاقت رکھنے کے باوجود محبت اور خلوص سے اس کا جواب دینے کی اہمیت اُن پر واضح ہوگئی ہے ۔ دریں اثناء سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب دارالحکومت کی لڑکیوں نے دختران ملت تنظیم کے انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے مختلف اسکولس کی فیس طالبات فوج کی زیرسرپرستی تعلیمی سفر پر روانہ ہوگئیں ۔ محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ فوج بحیثیت عمومی تمام نوجوانوں اور بطور خاص خواتین کی تائید کو اہمیت دیتا ہے ۔ 30طالبات کا تفریحی تعلیمی سفر پر انتہا پسندوںکی دھمکی کی پرواہ کئے بغیر روانہ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT