Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / نوجوانوں کو سیول سرویس کے میدان میں آگے آنے کا مشورہ

نوجوانوں کو سیول سرویس کے میدان میں آگے آنے کا مشورہ

آئی اے ایس اکیڈیمی کا افتتاح، جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست کا خطاب
حیدرآباد ۔ 28 اکٹوبر (سیاست نیوز) آئی اے ایس ہندوستان کا سب سے اعلیٰ عہدہ ہے۔ اس میں انتخاب سے آپ کی ملازمت شروع ہوجاتی ہے جبکہ کمرشیل پائلٹ کو ایک خطیر رقم خرچ کرکے مکمل کرنے کے بعد بھی آپ کو ملازمت کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ آج بچہ صرف دو کورس ہی جانتا ہے ڈاکٹر یا انجینئر جبکہ سب سے بااثر عہدے سیول سرویس کے ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے یہاں سنتوش نگر میں آئی اے ایس اکیڈیمی کے افتتاحی تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ ماضی میں حیدرآباد کے سکریٹریٹ میں نصف تعداد میں مسلم آئی اے ایس آفیسرس تھے آج بمشکل دو ، تین نظر آتے ہیں۔ 1948ء میں حیدرآباد سیول سرویس (ایچ سی ایل) امتحان ہوتا تھا جو سیول انڈیا سیول سرویس امتحان سے مشکل تھا اور کئی حیدرآباد سیول سرویس کے عہدیدار چیف سکریٹری کے عہدے تک ترقی کئے۔ انہوں نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج حالات ابتر ہیں۔ مسلم لڑکیاں پڑھ رہی ہیں۔ لڑکے پیچھے ہیں۔ انہوں نے سرپرستوں پر زور دیا کہ وہ لڑکوں کی پڑھائی پر بھی خاص توجہ دیں۔ سیول سرویس امتحانات کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ امتحان کسی بھی قسم کی فرقہ پرستی یا تعصب سے پاک ہے۔ اس کی مثال ڈاکٹر شاہ فیصل ہے جنہوں نے سیول سرویس میں ملک میں سرفہرست پہلا مقام پایا۔ جناب زاہد علی خاں نے دو خاتون پائلٹ مسز سلویٰ فاطمہ اور کرونادھوج ممبئی کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمرشیل پائلٹ کے لائسنس حاصل کئے اور ایربس اور بوئنگ طیارہ چلانے کی سند حاصل کرچکے ہیں۔ سیاست کی کاوشوں سے جہاں ایک کروڑ سے زائد ملت فنڈ کی اسکالر شپ دی جاتی ہے، وہیں پر دو لڑکوں کو ٹرپل آئی ٹی میں داخلے پر ڈھائی لاکھ روپئے فیس کی رقم دی گئی۔ انہوں نے آئی اے ایس اکیڈیمی کے قیام کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ جناب عظمت اللہ آئی اے ایس ریٹائرڈ نے کہا کہ اس امتحان کو آسان نہ سمجھیں یہ مشکل سے مشکل ترین ہے۔ انہوں نے ماضی کے مسلمان آئی اے ایس افسران کی خدمات کی ستائش کی جو کسی بدعنوانی اور رشوت خوری سے بہت دور تھے بلکہ ایک آئی اے ایس آفیسر جو اختیارات رکھتا ہے وہ جوڈیشیل پاور ہے، ناانصافی کے خوف سے کئی آئی اے ایس آفیسرس کو راتوں میں نیند نہیں آتی تھی۔ نئی نسل کو آئی اے ایس کیلئے منصوبہ بند طور پر تیاری کا مشورہ دیا۔ ابتداء میں ادارہ کے ایم ڈی عبدالغفار نے خیرمقدم کرتے ہوئے اغراض و مقاصد پیش کئے۔ مختلف انجینئرنگ کالجس کے شعبہ کے صدور، تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور ایم اے حمید نے شرکت کی۔ عبدالجبار نے مہمانان کو مومنٹوز پیش کئے۔

 

TOPPOPULARRECENT