Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / نوجوان ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈیافتگان کی مذہبی عدم رواداری پر تنقید

نوجوان ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈیافتگان کی مذہبی عدم رواداری پر تنقید

ایوارڈ قبول کرنے کا مطلب مذہبی تشدد پر تنقید سے گریز نہیں ‘ نوجوان مصنف مونیش بڈیگیر
نئی دہلی 19 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جاریہ سال کے ساہتیہ اکیڈیمی کے نوجوانوں کے انعام ( یوا پرسکار ) حاصل کرنے والے کچھ افراد نے کہا کہ ایوارڈز تقریب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مذہبی عدم رواداری کی مذمت نہیں کرتے ۔ مذہبی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کئی ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ یافتگان نے اپنے ایوارڈز واپس کردئے ہیں۔ ساہتیہ اکیڈیمی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کنڑا زبان کے مصنف مونیش بڈیگیر نے کہا کہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مذہبی عدم رواداری کی مذمت نہیں کرتے جو سارے ملک میں پھیل رہی ہے ۔ بڈیگیر 23 زبانوں کے ان مصنفین میں شامل ہیں جنہیں 18 نومبر کو منعقدہ ایک تقریب میں ساہتیہ اکیڈیمی کی جانب سے یوا پرسکار دیا گیا ہے ۔ کنڑا ادیب کو مختصر کہانیوں کی ان کی تصنیف ’’ مایا کولا ہالا ‘‘ کیلئے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔ ان کہانیوں میں سماجی و سیاسی پس منظر کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ ان کی کہانیوں مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس الجھن کا شکار تھے کہ انہیں یہ ایوارڈ حاصل کرنے تقریب میں شرکت کرنی چاہئے یا نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں مذہبی تصادم بڑھتا جا رہا ہے فرقہ وارانہ تشدد ہو رہا ہے ‘ کئی مصنفین نے دانشوروں کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے ایوارڈز واپس کردئے ہیں ایسے میں خود ساہتیہ اکیڈیمی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔ انہیں خود یہ الجھن تھی کہ وہ ایوارڈ حاصل کرنے تقریب میں شرکت کریں یا نہ کریں۔ انہوں نے 2002 میں اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر انہوں نے پورے عجز و انکسار کے ساتھ تقریب میں شکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فنکار جو ان کی طرح اپنی گذر بسر کیلئے فنون لطیفہ کو ذریعہ بناتے ہیں اس قدر بھاری انعامی رقم والے انعامات کو مسترد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ یوا پرسکار کا آغاز 2011 میں ہوا تھا اور اس میں 50 ہزار روپئے انعامیر قم دی جاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT