Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوان نسل کو ماضی کی تاریخ سے واقف کروانے کیلئے اردوکو عام کرنے پر زور

نوجوان نسل کو ماضی کی تاریخ سے واقف کروانے کیلئے اردوکو عام کرنے پر زور

ادارہ سیاست اردو ادب کا علمبردار ادارہ، ناظم الدین مقبول کی تصنیف کا رسم اجراء، جناب زاہدعلی خاں و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ نونہالوں کو ہماری حقیقی تاریخ سے واقف کروانے کے لئے اُردوکو عام کرنا ضروری ہے۔ بالخصوص انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے نونہالوں کے لئے ان اسکولوں پر اس بات کا دبائو ڈالا جانا چاہئے کہ مادری زبان کا ایک مضمون وہ لازمی طور پر پڑھائیں ۔موجودہ حالات کے پیش نظر اگر اُردو زبان کے متعلق ہم لاپرواہی برتیں گے تو ہماری آنے والی نسلیں اس کا خمیازہ بھگتیں گی۔ مرکز اور ملک کی آدھی سے زیاد ہ ریاستوں پر بی جے پی کی حکومت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سنسکرت اس ملک کی قومی زبان کے طور پر پہچانی جائے اس کے لئے منظم طریقے سے کام بھی کیاجارہا ہے ۔ ایسے حالات میںہم اگر خاموشی اختیار کریں گے تو اُردو کو پوری طرح ختم کرنے کی سازش کو عملی جامع پہنانے میں دیر نہیںلگے گی۔ اُردو کے ادیبوں ‘ شاعروں‘ افسانہ نگاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اُردو مادری زبان کے نونہالوں کے لئے مواد اکٹھا کریں اور میںوعدہ کرتا ہوں کہ شمع اور کھلونے جیسے شمارے شائع کرتے ہوئے نونہالوں میںنہ صرف اُردو کو فروغ دینے کاکام کیاجائے گا بلکہ مستقبل کی نسلوں کو ہماری حقیقی تاریخ سے واقفیت بھی حاصل ہوگی۔ ناظم الدین مقبول کی کتاب ’’ غالب کے دیس میں ‘‘ ایک جامع سفر نامہ ہے ۔ اور ایسے سفرناموں کی ترتیب آسان کام نہیں ہے مگر باذوق لوگ ہی اس طرح کا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جو آج کے اس دور میںبھی سفر ناموں کی تحریر کے ذریعہ قدیم تاریخ کو سمیٹ رہے ہیں۔ وہ آج یہاں اُردو ہال حمایت نگر میں ممتاز مصنف ناظم الدین مقبول کینڈا کی کتاب ’’ غالب کے دیس میں‘‘ کی رسم اجرائی تقریب سے صدارتی خطاب میں کیا۔ حافظ محمد جیلانی کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا اور پدم شری مجتبیٰ حسین ‘پروفیسر بیگ احساس‘ پروفیسر فاطمہ پروین‘ ڈاکٹر خواجہ ناصر الدین‘ جناب سید اسماعیل نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔ جناب جاوید کمال نے نظامت کے فرائض انجام دئے جبکہ جناب محبو ب خان اصغر نے شکریہ ادا کیا۔ جناب ناظم الدین مقبول نے بذریعہ فون سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان او رجناب مجتبیٰ حسین کا دل کی گہرائیو ںسے شکریہ ادا کیا۔جناب زاہدعلی خان نے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ بچپن میں ہم ابن بطوطہ کے سفر نامہ کا مطالعہ کیاکرتے تھے مگر ہمیںمعلوم نہیںتھا کہ حقیقت میںابن بطوطہ جیسی کوئی شخصیت ہے بھی یا نہیںمگر ہماری آنکھوں کے سامنے ناظم الدین مقبول جیسے لوگ موجود ہیںجو اپنی زندگی کے سفر کو کتاب کی شکل دیکر حیدرآباد کی قدیم تاریخ کو کتاب کے حوالے سے نونہالوں او رنوجوانوں تک پہنچارہے ہیں۔ آج ہندوستان میںحقیقی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کبھی تاج محل تو کبھی مغلوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مغلوں کے دور میںجس قدر ہندوستان نے ترقی کی اس کی مثال انگریزوں اور آزادی کے بعد کے ہندوستان میںہمیںنہیںملتی۔جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ میںنے بھی آدھی سے زیادہ دنیاکا سفر کیاہے ۔ ہر وزیراعظم اور صدرجمہوریہ کے ساتھ دنیاکا سفر کرنے کا موقع ملا مگر کبھی بھی اس سفر کو کتاب کی شکل دینے کا موقع نہیںملا۔ اُردو زبان کو سب سے بڑا نقصان پاکستان کی قومی زبان بنائے جانے کے بعد ہوا۔ مختلف لسانی تہذیبوں کے حامل پاکستان میںکہیں پر مکمل طور پر پنجابی بولی جاتی ہے تو کہیں پر سندھی یا پھر کہیں بلوچی مگر ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر مختلف لسانی تہذیب ہونے کے باوجود سارے ملک میںاُردو بولی او رسمجھی جاتی ہے۔جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ اب بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنے نونہالوں میںاُردو کے متعلق دلچسپی پیدا کریں ۔ انہو ںنے کہاکہ ناظم الدین مقبول جیسے لوگ اُردو کے لئے تڑپتا دل رکھتے ہیںاور اپنی مٹی سے بے پناہ محبت کی وجہہ سے ایسے کارنامہ انجام دے سکتے ہیں ۔ پاکستان میں’’ غالب کے دیس میں‘‘ کی اشاعت کے بعد بذریعہ پانی کا جہاز دوسوکتابیںہندوستان بھیج کر ان کتابوں کی رسم اجرائی میں شریک شرکاء میں مفت تقسیم کیا گیا۔ جناب مجتبیٰ حسین نے مصنف جناب ناظم الدین مقبول سے اپنی دیرینہ خلوص کا تذکرہ کیا، کہاکہ وہ مصنف کو اس وقت سے جانتے ہیںجب چپل بازار میںرہنے کے باوجود بنا چپل کے گھومتے تھے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ1981میں جب آندھرا پردیش حکومت نے خاندانی نس بندی مہم کے عنوان پر ایک مضمون لکھاتھا جس پر ناظم الدین مقبول کو انعام اول سے نوازا گیاتھا۔ محبو ب حسین جگر مرحوم نے اپنے ذرائع سے ناظم الدین مقبول کو تلاش کرکے انہیںدفتر سیاست طلب کیااور مضامین لکھنے کی پیش کش کی اور پہلے مضمون کے معاوضہ کے طور پر اس وقت 15روپئے بھی ادا کئے تھے۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ سیاست اُردو ادب کا علمبردار ادارہ ہے۔سیاست اور ہماری زندگی کی شروعات ایک ساتھ ہوئی اور آج سیاست اپنے شباب پر پہنچا ہے۔انہو ںنے کہاکہ ناظم الدین مقبول نے اپنی آنکھ سے ہمیںحیدرآباد دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ پروفیسر فاطمہ پروین نے بھی حیدرآباد کو اُردو ادب اور اُردو کی لسانی تہذیب کا امین شہر قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ ادیبوں کی پذیرائی میں ادارہ سیاست نے اہم رول ادا کیاہے۔ ڈاکٹر خواجہ ناصر الدین چیف ایڈمنسٹرٹیوآفیسر وی آر کے ویمنس میڈیکل یونیورسٹی نے کہاکہ وہ ادارہ سیاست کی تہذیب کا حصہ ہیں۔جبکہ اُردو ادب کی دنیا میںادارہ سیاست نے جو کام انجام دیا ہے اس کو کبھی فراموش نہیںکیاجاسکے گا اور کہاکہ ناظم الدین مقبول جیسے مصنف کی کتاب کی رسم اجرائی خود اس بات کا ثبوت ہے ۔انہو ںنے کہاکہ تمام ادبی تحریکات کے علمبردار اور قوموں کی تربیت کی تڑپ جس دل میںہے اس کا نام سیاست ہے۔جناب سید اسماعیل نے بھی بچوں میںاُردو زبان کے شوق کو بڑھاوا دینے پر زور دیا۔شہر کی سرکردہ شخصیتوں بشمول خواتین کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT