Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوان نسل کو پولیس ایکشن کے وجوہات و اسباب تلاش کرنے پر زور

نوجوان نسل کو پولیس ایکشن کے وجوہات و اسباب تلاش کرنے پر زور

یوم نجات فسطائی طاقتوں کی سازش، پولیس ایکشن اور اقدام پر اسلام الدین مجاہد و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز)پولیس ایکشن کے نام پر ریاست حیدرآباد کے خلاف 1948کواٹھایاگیا اقدام کیا صحیح تھا؟ کے عنوان پر تحریک مسلم شبان کے دفترواقع اعظم پورہ میںایک اجلاس منعقد ہوا ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے صدارت کی جس میں ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد‘ برکت علی خان‘ صلاح الدین پرویز‘ رحیم اللہ خان نیازی نے خطاب کیا۔ جناب محمد مشتاق ملک نے اپنے صدارتی خطاب میںکہاکہ آج ہندوستان بھر میںگائے ‘ مذہب‘ شریعت‘ پرسنل لاء کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ مارپیٹ اور عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں مگر کسی کی مجال نہیںکہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے مگر وقت کے حکمران کی مرضی سے انڈین یونین میںشمولیت اختیار کرنے کے روز یوم نجات کے طور منانے کا وطیرہ فسطائی طاقتوں کے ذہنوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی مورخ نے آصف جاہی دور حکومت کے دوران کسی بھی ظلم وزیادتی کی بات نہیں کی جبکہ آصفجاہ سابع نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس ریاست کے ہندو او رمسلمان میری دوآنکھیں ہیں ‘ مجھ پر جس قدر مساجد کی ذمہ داری ہے اسی طرح منادر ‘ گردواروں‘ گرجاگھروں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ کسی بھی ہندونے نظام ہشتم کے دور حکومت کو آج تک برا نہیںکہاپھر بھی پولیس ایکشن عمل میںآیا۔ نظام ہشتم نے حکومت ہند سے نہیںکہاتھا کہ وہ ہندوستانی فوج سے مقابلہ کے لئے تیار ہیںپھر بھی ریاست حیدرآباد پر فوج کا حملہ کیاگیا۔ انہو ںنے بتایا کہ انڈین یونین اور آصف جاہی حکومت کے درمیان میںایک معاہدے طئے پایاتھا مگر حکومت ہند نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی او رحیدرآباد اسٹیٹ پر حملہ کردیا۔

انڈین یونین کے اس حملے میں جو نقصان صرف غریب اور بے قصور مسلمانوں کو ہوا ہے۔ بے قصوروں کی املاک لوٹ لی گئی اور غریب مسلمانوں کو قتل کیاگیا ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے کہاکہ جہاں تک رضاکاروں کے متعلق بدگمانیاں پھیلائی جاتی ہے وہ سراسر غلط ہیں۔ جناب اسلام الدین مجاہد نے لکچر دیتے ہوئے کہاکہ تاریخ کا جائزہ او رمطالعہ حقیقت پسندی کے ساتھ کیا جائے تو آنے والی نسلوں کو گمراہی اور پستی سے بچایا جاسکتا ہے۔ سقوط حیدرآباد ‘ پولیس ایکشن یا چاہے کوئی بھی نام دیاجائے مگر ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں شامل ہونے کے واقعات پر مشتمل کوئی موثر تاریخی مواد اب تک تیار نہیں کیاجاسکا۔ انہوںنے کہاکہ آصف جاہ سابع تعصب سے پاک حکمران تھے جن کے خلاف انڈین یونین کو فوج کے استعمال کی کیا ضرورت پڑگئی یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔نوجوان نسل کو پولیس ایکشن کے وجوہات او راسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔انڈین یونین میںشمولیت سے قبل ریاست حیدرآباد ایک خود مختار حکومت تھی جس کی آبادی کا بڑا حصہ غیرمسلم برداران وطن پر مشتمل تھاجبکہ 13فیصد مسلم آبادی تھی او رماباقی دوسرے مذاہب کے لوگ تھے ۔

انہوں نے کہاکہ مگر چھ سو سالوں تک مسلمانوں نے اس خطہ پر حکومت کی اور اپنے دور حکومت میں ریاست کے اکثریتی طبقے کو اس بات کا احساس نہیںہونے دیا کہ وہ ایک مسلم حکمران کی رعایا ہیں۔ جہاں تک ریاست حیدرآباد کے آخر ی دور کی بات ہے تو 37سالوں تک آصف جاہ سابع نے ریاست حیدرآباد کے حکمران کے طور پر اپنی رعایہ کی خدمت کی اور انہیں ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے کاکام کیا۔انہوں نے کہاکہ 13سے 17ستمبر کے درمیان میں فوج اور خود ساختہ رضاکاروں کے درمیان میںتصادم کے نام پر مسلمانوں پر بے تحاشہ مظالم ڈھائے گئے۔انہوں نے کہاکہ آج تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے لوگوں کو غلط باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جو قابل مذمت ہے۔

TOPPOPULARRECENT