Wednesday , August 15 2018
Home / مذہبی صفحہ / نوررخ تاباںونورقرآں

نوررخ تاباںونورقرآں

یوں تو اس کائنات میں ربیع الاول کا مہینہ برسوں پہلے سے ہر سال آتا رہاہے لیکن حجازکی سرزمین پریہ مہینہ رحمتوں کی سوغات لیکر طلوع ہوا،مؤرخین کی تحقیق کے مطابق شمسی تاریخ ۲۲؍اپریل ۵۷۱؁ء اوربکرمی تاریخ یکم جیٹھ ۶۲۸ تھی۔کائنات عالم کو جس کا انتظارتھا اورجس مبارک ہستی کی آمدکی خوشخبری انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے عہد میں دیتے رہے وہ اس خاکدان گیتی پرنوروروشنی بکھیر تے ہوئے رونق افروز ہوئے ،عالم کا ظلمت کدہ ہدایت کے نورسے چمک اٹھا،کفروشرک ،ظلم وجورکی تاریکیاں کافورہوئیں، خزاں رسیدہ عالم میں نسیم سحرکے خوشگوارجھونکے روحانیت کی عطربیزخوشبوبکھیرنے لگے۔ مدت مدیدسے روحانی عالم کو باطل کی تاریکیوں نے گھیررکھاتھا، رحمت الہی کا دریا موجزن ہواتو پھر ہدایت کا نیردرخشاں طلوع ہوا،بستیاں انسانوں سے ضرورآبادتھیں لیکن انسانیت دم توڑچکی تھی، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکی آمدمبارک آب حیات کا کام کرگئی،انسانیت کوپھرزندگی اورحیات مل گئی۔ انسانیت جوذلت وخواری کی عمیق کھائیوں گرگئی تھی آپ ﷺ کی آمدنے پھرسے اسکے سر کو تاج شرافت سے مزین کیا،عورتیں بے سہاراتھیں ،غلام وباندی بے توقیری وتحقیر میں جی رہے تھے، مسکینوں، مظلوموں کا کوئی ہمدم ودمسازنہیں تھا،اخوت وبھائی چارہ دم توڑرہا تھا،آپ ﷺکیا تشریف لائے سب کی قسمت جاگ اٹھی۔اخوت ومحبت ،غمخواری وچارہ سازی کی حقیقی معنویت اجاگر ہوئی، فقرومسکنت کو شاہی نصیب ہوئی ،توہمات کے قلعے ڈھیرہوگئے،غلامی کی زنجیریں ،اوہام وخرافات کی بیڑیاں کٹ گئیں،اللہ سبحانہ نے بشارت دی ’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نورآیا ہے اورکتاب مبین جس کے ذریعہ اللہ سبحانہ ہدایت دیتاہے سلامتی کے راستوں کی جواس کی رضاوخوشنودی کی پیروی کرتے ہیں،اوراپنی توفیق سے حق کی تاریکیوں سے نکال کر نورکی طرف لیجاتا ہے اورراہ مستقیم کی طرف رہبری کرتا ہے ‘‘(المائدۃ:۱۵،۱۶)نورسے مراد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات قدسی صفات ہے ،یعنی بالنور، محمدا ﷺ الذی انار اللہ بہ الحق، واظہر بہ الاسلام، و محق بہ الشرک ، فہو نور لمن استنار بہ،اورکتاب مبین سے مراد قرآن حکیم ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا گیاہے ،انسانی ساری ضرورتیں ،حاجتیں جو ان کے اموردینیہ سے متعلق ہیںان پر ان کو خوب واضح کرتا ہے یہاں تک کہ حق وباطل میں فرق وامتیازکرسکیں ۔وہو القرآن الذی انزلہ علی نبینا محمد ﷺ یبین للناس جمیع ما بہم الحاجۃ الیہ من امردینہم،ویوضحہ لہم، حتی یعرفوا حقہ من باطلہ(تفسیرطبری:۱۰؍۱۴۴) سیدعالم ﷺ کا نورمبارک بھی ہے اوراللہ سبحانہ کا نورانی کلام ہدایت بھی جن سے دل کی آنکھیں روشن ہوسکتی ہیں،غبارآلودآئینہ دل صاف وشفاف ہوسکتاہے،دل کے زنگ کو یہی نور صیقل کرسکتے ہیں، قلب وقالب کو جو ان سے روشن کرنا چاہیں ان کیلئے روشنی کا سامان اسی میں رکھا ہے۔آپ ﷺکا نورنبوت بخشاہی اس لئے گیاہے کہ عالم انسانیت اپنے سینوں کو ان کی لائی ہوئی شریعت کے نورسے روشن کرلے،دل کی دنیا ایک الگ دنیاہے اس دنیاکو چاندوسورج اورروشن ستارے منورنہیں کرسکتے،اوروہ ننھے منے چراغ یا روشن فانوس جومٹی کے کچے پکے مکانوں اورمحلات میں روشن ہوکررات کی تاریکی کو دورکرتے ہیں دل کی دنیا میں ان کا بھی کوئی کام نہیں،مادی عالم کی طرح دل کی دنیا میںبھی خزاں و بہارکے موسم آتے ہیں ،ظاہرہے دلوں کی دنیا کی خزاں رسیدگی مادی عالم کی باغ وبہاری سے نہ کبھی چھٹی ہے نہ کبھی چھٹے گی۔دلوں کے عالم کو روشن کرنے کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک زنجیری سلسلہ ہے جوآپ ﷺ پر ختم ہورہاہے ،ہر دوراورہر زمانے میں آنے والے انبیاء کرام علیہم السلام جو نور و روشنی لے آئے تھے اس کو توبجھنا تھا ،ہر نبی ورسول کے دور میں وہ روشن ہوتی رہی اوربجھتی رہی ،دلوںکی دنیا کے کتنے ہی آفتاب ومہتاب درخشاں ہوکرنوروروشنی بکھیرتے رہے پھراچانک ان کی درخشانی ختم ہوتی رہی یہاں تک کہ دلوں کی دنیا میں دن کا اجالا ختم ہوکرتاریک رات چھاگئی،باطل کی اس تاریکی میں حق پوری طرح چھپ گیا اورباطل کی تاریکی تہہ در تہہ گہری ہوتی چلی گئی،توحیدکا نورجہاں اجالا بکھیررہا تھا وہاں چاندوسورج ،کوہ وجبل پوجے جانے لگے ،اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ پتھروں کو خدائی کا درجہ دیا جانے لگا،ان کے آگے زمیں بوس ہونے کونجات وکامرانی کا معیارٹہرالیا گیا۔ تورات، زبور، انجیل اوردیگرسارے آسمانی صحائف جوپاکیزہ نورانی تعلیمات سے مملوتھے اسکے پاکیزہ اوراق میں من چاہی من گھڑت باتیں شامل کرکے اسکی نورانی تعلیمات کو مسخ کردیا گیا تھا، حق کی روشنی جن کے ہاتھوں میں دی گئی تھی وہ خود اگر اس روشنی کواپنے ہاتھوں بجھادیںتو اس سے بڑھ کرنا سمجھی اورکیا ہوسکتی ہے۔ اب وہ تورات تورات نہیں رہی تھی ،وہ زبورزبورباقی نہیں رہی تھی اوروہ انجیل بھی اصل انجیل نہیں رہی تھی،دل کی دنیا کو تاریک کرلینے والوں نے کئی ایک اناجیل گھڑلئے تھے،یہ تو ہونا تھا ہوکررہا ،یہ تووہ روشنیاں تھیں جو آسمان سے دلوں کی دنیا کو روشن کرنے کیلئے آئی تھیں ،یہ روشنیاں جب سب گل ہوگئیں تو ان فرضی روشنیوں کا کیا ذکر جن کو شمارمیں لایا جاسکے۔باطل مذاہب جن کا آسمانی نورسے کوئی تعلق نہیں ان کو روشنی ہی نہیں مانا جاسکتا پردل کے کچھ اندھے وہ ہوتے ہیں جواس ظلمت کونوریقین کرلیتے ہیں، تو ان کے نہ روشن ہونے کا کوئی اعتبارنہ بجھنے کا،چونکہ اس باطل روشنی کے لانے کی نسبت جن افراد انسانیت کی طرف کی گئی ہے تاریخ کی حوالوں سے ان کے وجود ہی کا کوئی پتہ نہیں،فرضی قصے کہانیاں اور دیومالائی داستانیں جب اسکی بنیادہیں تواسکے باطل ہونے میں کیا کلام۔باطل خودایک تاریکی ہے اوراس باطل کے نمائندے بھی افسانوی دنیا کی باطل تاریکیوں میں گم ہیں، باطل کااندھیرا جن کا مقدر ہے وہ اس اندھیارے میں نوروروشنی کی تلاش میں سرگرداں ہیں ،اللہ سبحانہ نے سورئہ نورمیں ان کی تاریکیوں کا ذکر یوں فرمایا ہے’’وہ جو کفریہ اعمال کا مرتکب ہے اس کی مثال سراب کی سی ہے ،جیسے کسی چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت ہویہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب پہنچتاہے یعنی اپنی پیاس بجھانے کیلئے پانی سمجھ کر لپکتاہے (جب وہاں پہنچتے ہیں تو ان کو پتہ چلتاہے یہ تو ایک دھوکہ اورفریب ہے) تو وہاں کچھ نہیں پاتا، ہاں ! البتہ جب اللہ کو اپنے پاس پا تاہے تو اسکا حساب ہوچکا ہوتاہے( یعنی اسکی ناراضگی اوراسکا غضب ان کو دبوچ لیتاہے)اللہ بہت جلد حساب کر دینے والا ہے‘‘۔اسکے آگے ایک اورمثال یوں دی گئی ہے ’’ وہ کفارکے اعمال ایسے گہرے اندھیروں کی طرح ہیں جونہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانک لیا ہوپھر وہ موج بھی اکیلی نہیں بلکہ موج کے اوپرموج ہو مزیداسکے اوپر سیاہ گہرے بادل بھی ہوں تو گویا یہ تاریکی کے اوپر ایک تاریکی ہے،جب اس سے وہ اپنا ہاتھ باہر کرتا ہے تواسے کچھ سجھائی نہیں دیتا،سچ بات تو یہ ہے جس کو اللہ نے نورسے محروم کردیا ہواسکے لئے کہاں کوئی نورہوسکتاہے‘‘ (یعنی جس کواپنے جسم کا حصہ دکھائی نہ دے تواسے اورکیا دکھائی دے سکتاہے،گویا کفارومشرکین کے باطل اعتقادات باطل اقوال وافکاراورباطل اعمال قبیحہ ہدایت کی راہ میں سدراہ بنے رہیں گے اوروہ آخرت میں ان کے حق میں سراب ثابت ہوں گے) (النور:۳۹،۴۰) دلوں کی دنیا کوروشن کرنے کا جذبہ رکھنے والوں کیلئے ۔ قد جاء کم من اللّٰہ نور وکتاب مبینسے اکتساب فیض کئے بغیرکوئی چارئہ کارنہیں،نبوت مصطفوی کاچراغ تاقیام قیامت زمانی ومکانی ،حدودوقیودکے بغیر ہر ایک کیلئے روشن وتابناک ہے۔مادی عالم میں سورج غروب ہوتاہے تو تاریکی چھاجاتی ہے ،خورشیدخاورجب جگمگاتا ہے تو تاریکی چھٹ جاتی ہے اوراجالا پھیل جاتاہے،لیکن اس ہستی ء مکرم ،نورمجسم ،سیدعالم ﷺکواللہ سبحانہ نے داعی الی اللہ اور سراج منیر بنایا (الاحزاب:۴۶)اورروشن چراغ(بناکربھیجاہے)رسول اللہ ﷺ کو روشن چراغ کہنے کی یہ وجہ ہے کہ جس طرح رات کی تاریکی میں چراغ جلایا جاتا ہے اوراسکی روشنی سے راستہ دکھ جاتاہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے بھی(اسلام کی)روشنی اورہدایت حاصل کی جاتی ہے۔مرادیہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زبان سے تو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیتے تھے اوردل کے اعتبارسے روشن چراغ کی طرح تھے کہ تمام مؤمن آپ ہی کے نورسے استفادہ کرتے اورآپ ہی کے رنگ میں رنگ جاتے تھے(ایسا ہی بناکراللہ نے آپ کو بھیجا تھا)جیسے یہ عالم سورج کی روشنی سے اورایک گھرچراغ کی روشنی سے منورہوجاتا ہے ۔و سراجا منیرا سماہ سراجا لانہ یستضاء بہ و یہتدی بہ کالسراج یستضاء بہ ویہتدی بہ فی ظلمۃ اللیل یعنی انہ ﷺکان بلسانہ داعیا الی اللّٰہ و بقلبہ وقالبہ کان مثل السراج یتلون المؤمنون بألوانہ ویتنورون بأنوارہ کالعالم یتنور بنور الشمس والبیت بالسراج (تفسیر مظہری:۷؍۳۵۶،۳۵۷) آپ ﷺ کا داعی الی اللہ ہونا ظاہر کے اعتبارسے ہے اورسراج منیر ہونا وہ صفت خاص ہے جس کا تعلق آپ ﷺ کے قلب اطہرسے مربوط ہے۔قلوب کے چراغ قلب اطہرکے نورہی سے روشن ہوتے ہیں،قلب اطہر کوسراج منیرسے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ آ پ ﷺ کا نورآفتاب ظاہری یعنی دنیا کے آفتاب سے کہیں زیادہ روشن ومنورہے،شارحین نے اس میں یہ لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ سورج سے راست طورپراستفادہ ممکن نہیں لیکن سراج منیر(روشن چراغ)سے استفادہ ہر ایک کے بس کی بات ہے مگرشرط یہ ہے کہ خواہشات نفسانی کی ظلمتوں سے دل کو پاک کرلیا جائے اوراس نورکے فیضان کواپنے دل میں سمونے کیلئے خلوص دل کے ساتھ رضاء رب کواپنی منزل بنالیا جائے۔الغرض نورنبوت سے کتاب حیات کو جودرخشاں کرنا چاہے اسکے لئے سیدالانس والجان صاحب قرآن ﷺ کارخ تاباں بھی ہے، اور قرآن حکیم کی روشن ومنورآیات بھی ۔سچ یہ ہے کہ ہر دونورسے اکتساب فیض وہی کرسکتے ہیں جواپنے دل میں سچی طلب وتڑپ رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT