Saturday , August 18 2018
Home / شہر کی خبریں / نور خاں بازار کی درگاہ پر ناجائز قبضہ کی شکایت

نور خاں بازار کی درگاہ پر ناجائز قبضہ کی شکایت

قابض شخص کی شکایت کنندہ پر برہمی ، وقف بورڈ عہدیدار معائنہ کے بغیر واپس
حیدرآباد ۔19۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو آج اس وقت تلخ تجربہ ہوا ، جب نورخاں بازار میں ایک اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں پہنچنے پر مبینہ قابض نے شکایت کنندہ پر برہمی ظاہر کی اور شکایت کنندہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ وقف بورڈ کے عہدیدار بھی کسی کارروائی کے بغیر خالی ہاتھ واپس ہوگئے کیونکہ قابض نے بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے اور عدالت نے وقف بورڈ کو مداخلت سے روک دیا ہے۔ مقامی شخص کی برہمی کا سامنا کرنے کے بعد چیف اگزیکیٹیو آفیسر سمیت دیگر عہدیدار کسی کارروائی کے بغیر واپس ہونے پر مجبور ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کٹل گوڑہ میں مسجد چیونٹی شاہ کی اوقافی اراضی کے معائنہ کے دوران مقامی افراد نے نورخاں بازار میں ایک درگاہ پر ناجائز قبضہ کی شکایت کی۔ شکایت کرنے والوں میں مقامی رکن اسمبلی کا ایک رشتہ دار بھی بتایا جاتا ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے قریب میں واقع اراضی کے معائنہ کا فیصلہ کیا اور وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیدار جب اس اراضی پر پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ شکایت کرنے والے غائب ہوگئے، ان میں سے ایک شخص جو عہدیداروں کے ساتھ موجود تھا، اسے دیکھ کر مقامی شخص نے سخت برہمی کا اظہار کیا ، جس پر وہ شخص وقف بورڈ کے عہدیداروں کو چھوڑ کر روانہ ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی شخص نے عدالت میں زیر دوران مقدمے کے دستاویزات پیش کئے اور کہا کہ وقف بورڈ کی نوٹس کو عدالت میں چیالنج کیا گیا ہے اور عدالت نے بورڈ کو مداخلت سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے ۔ عدالتی احکامات دیکھنے کے بعد وقف بورڈ کے عہدیدار واپس ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اوقافی جائیداد کے تحت ایک درگاہ موجود ہے اور وقف ریکارڈ میں صرف 8 گز درج ہے۔

TOPPOPULARRECENT