نور ناصر اسلامی مساوات

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے لئے کنبے اور قبیلے بنائے کہ تم ایک دوسرے سے تعارف پیدا کرو۔ یقیناً اللہ کے پاس تم میں وہی زیادہ بزرگ ہے، جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘ (سورہ حجرات۔۱۳) اس آیت کے سیاق و سباق میں مسلمانوں کو انسانی اور اسلامی حقوق اور آداب معاشرت کی تعلیم کے سلسلے میں بعض چیزوں کو حرام و ممنوع کیا گیا، جو باہمی نفرت و عداوت کا سبب ہوتی ہے۔ اس آیت میں ایک جامع تعلیم انسانی مساوات کی ہے، یعنی کوئی انسان دوسرے کو کمتر یا رذیل نہ سمجھے اور اپنے نسب و خاندان یا مال و دولت وغیرہ کی بناء پر فخر نہ کرے۔ کیونکہ یہ چیزیں درحقیقت تفاخر کی نہیں ہیں، پھر اس تفاخر سے آپس میں نفرت اور دشمنی کی بنیادیں پڑتی ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں اور خاندان و قبائل یا مال و دولت کے اعتبار سے جو فرق اللہ نے رکھا ہے، وہ تفاخر کے لئے نہیں بلکہ تعارف کے لئے ہے۔اسلام سے قبل اہل عرب میں جو برائیاں تھیں، ان میں ایک نمایاں برائی فخر و غرور اور طاقت و قوت کی تھی، یعنی اپنے حسب و نسب پر ایسا فخر کرتے کہ دوسرے کی ہتک اور ذلت ہو جائے۔ اسلام نے تعلیم دی کہ حسب و نسب پر فخر نہ کرو، بلکہ فخر کے لائق اگر کوئی ہے تو وہ متقی ہے۔ اسی لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’نکاح کے موقع پر لڑکی کی دینداری کو ترجیح دو‘‘۔لوگ طاقت و قوت کا ایسا مظاہرہ کرتے کہ کمزور انسان دب کر رہ جاتا، لیکن اسلام نے اس کے برخلاف مختلف طریقوں سے غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا، تاکہ مساوات قائم ہو۔ اس سلسلے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات موجود ہیں، جن میں آپﷺ نے باپ دادا پر فخر کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن تمہارا نسب نہیں پوچھا جائے گا۔ اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے‘‘۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں پوری انسانیت کو اخوت و مساوات کا لازوال درس دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی مرتبہ حاصل نہیں ہے‘‘۔ یقیناً اسلام کے بنائے ہوئے قانون میں کسی بھی انسان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی گئی، بلکہ سب کے حقوق و فرائض متعین کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT