Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / نومبر 8 کے بعد سے گراوٹ ہی گراوٹ

نومبر 8 کے بعد سے گراوٹ ہی گراوٹ

ملک کے مختلف شعبوں میں نوٹ بندی کا اثر

حیدرآباد۔7۔ڈسمبر (سیاست نیوز ) ملک میں کرنسی کی تنسیخ پر ماہرین معاشیات کے تاثرات اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ہند ٹیکس میں کمی اور دیگر امور کو بہتر بنانے پر ہی اس کے مثبت اثرات برآمد ہو سکتے ہیں۔ ملک بھر میں تمام صنعتکار اور ماہرین معاشیات کرنسی کی تنسیخ کے اثرات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

معیشت:
کرنسی کی تنسیخ کے معیشت پر منفی اثرات رونما ہو رہے ہیںاور ہندستانی معیشت کے عدم استحکام کا شکار ہونے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ فوری طور پر تو ترقی کی شرح میں اضافہ کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں جس کی وجہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ سرمایہ کاری میں آنے والی گراوٹ کے سبب مالی سال 2017کے اواخر میں ترقیاتی شرح میں کمزوری ریکارڈ کی جائے گی جو کہ مجموعی اعتبار سے ملک کی معیشت کے لئے بہتر نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کارپوریٹ ٹیکس میں 25فیصد تک کی تخفیف اور انکم ٹیکس کی حد میں اضافہ کے ساتھ اگر مکان کی خریدی کے علاوہ دیگرتجارتی سرگرمیوں کیلئے دیئے جانے والے قرضہ جات میں کمی لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں حالات مستحکم ہو سکتے ہیں۔

ملازمتیں:
ملازمتیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کے سرکردہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلی عہدوں کے علاوہ سینیئر سھح پر ملازمت انجام دینے والوں پر کرنسی کی تنسیخ کا کوئی اثر نہیں ہے اور اس سطح کے ملازمین کی تخفیف کے متعلق کوئی کمپنی منصوبہ سازی نہیں کررہی ہے۔ اس کے برعکس تنخواہ کے علاوہ دیئے جانے والے اخراجات جو کہ عام طور پر نقد میں ادا کئے جا تے ہیں وہ متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں تنخواہ کے ساتھ ادا  کرنا پڑے گا۔ جن صنعتوں میں ملازمتوں پر منفی اثر پڑے گا ان میں کنسٹرکشن ‘ رئیل اسٹیٹ‘ انفراسٹرکچر‘ حمل و نقل کے علاوہ آٹوموبائیل صنعت شامل ہیں جہاں ملاممین کی تخفیف کے خدشات ہیں لیکن ہر سطح پر ملازمین کی تخفیف ان صنعتوں میں بھی ممکن نہیں ہے۔کرنسی کی تنسیخ کے ملازمتوں پر فوری اثرات کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر ملازمتوں میں کچھ منفی رجحان دیکھنے ملے گا لیکن مستقبل میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

صارفین کے خرچ:
صارفین کے خرچ میں آئی کمی کے متعلق تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں کرنسی کی قلت اور مالیاتی بحران کی صورتحال کے سبب قوت خرچ میں منفی رجحان پیدا ہوا ہے اور اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہو پائیں گے جب تک صارفین کی قوت خرچ میں بہتری نہیں آتی۔ کرنسی کی قلت کے سبب حالات مستقبل قریب میں اور زیادہ ابتر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نقد رقم کے لین دین سے پاک تجارت کو کس حد تک لوگ اختیار کرتے ہیں اس کی بناء پر ہی یہ کہا جا سکے گا کہ صارفین کی قوت خرچ میں اضافہ ہوگا۔حکومت ہند جن دھن کھاتوں کے کھاتہ داروں کو خرچ کیلئے کوپن جاری کرتی ہے تو ایسی صورت میں قوت خرچ میں بہتری ریکارڈ کی جائے گی۔

رئیل اسٹیٹ:
رئیل اسٹیٹ شعبہ میں 40فیصدتک کی گراوٹ ریکارڈ کی جا چکی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید 20فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی جو کہ ملک کی تاریخ میں سب سے برے حالات اس شعبہ کے تصور کئے جا رہے ہیں۔ شمالی ریاستوں کے شہروں میں 40فیصد گراوٹ اور جنوبی ریاستوں کے شہری میں 60فیصد تک کی گراوٹ کو مجموعی اعتبار سے 50فیصد گراوٹ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ کرنسی کی تنسیخ کے فوری اثرات کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ منفی اثرات سے متاثر رئیل اسٹیٹ رہا اور مستقبل قریب میں یہ صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔ ا س شعبہ کے مسائل کے حل کیلئے ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میںبھاری گراوٹ کے علاوہ شرح سود میں گراوٹ کے ذریعہ ہی رئیل اسٹیٹ کو بچایا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس شعبہ کو دوبارہ مستحکم بنانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

ای ۔کامرس :
ای ۔ کامرس شعبہ پر ابتدائی ایام میں منفی اثرات دیکھے گئے لیکن نقدی سے پاک لین دین کے فروغ نے اس شعبہ کی حالت کو کچھ بہتر بنایا ہے۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران ای۔کامرس فروخت کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں اس صنعت میں 10فیصد صارفین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ بتایا جات ہے کہ 15تا16فیصد لوگ جو ای ۔کامرس کے ذریعہ آن لائن خریداری کر رہے تھے ان کی تعداد 25فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کرنسی کی تنسیخ کے ابتدائی ایام میں فروخت میں 40تا50فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی اور اشیا ء کی واپسی 40فیصد تک پہنچ چکی تھی۔حکومت کی جانب سے الکٹرانک و کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کے فروغ سے اس صنعت کو بہتری کی توقع ہے۔

آٹوموبائیل:
کرنسی کی تنسیخ کا اثر اس صنعت پر بھی منفی ہورہا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود اس صنعت میں بڑی کمپنیاں منفی اثرات سے محفوظ رہیں کیونکہ سال کے آخری مہینوں میں گاڑیوںکی فروخت میں گراوٹ ہی ریکارڈ کی جاتی ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران ٹو وہیلر کی فروخت میں 5فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ کرنسی تنسیخ کے منفی اثرات ہوئے ہیں لیکن یہ صنعت ان اثرات سے بہت جلد باہر آجائے گی۔ کار ساز کمپنیاں اگر تیزیس ے نقد لین دین سے پاک تجارت کو فروغ دیتی ہیں تو ایسی صورت میں گہرے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

سیاحت:
ملک میں نومبر اور ڈسمبر سیاحوں کے مہینے تصور کئے جاتے ہیں لیکن کرنسی کی تنسیخ نے اس شعبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے بموجب 40فیصد سیاحوں میں تخفیف ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ملک کے میٹرو شہروں میں10فیصد سیاحوں سے جڑے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہوٹل اور ائیر پورٹ پر نقد کی قلت کے سبب یہ مسائل پیش آرہے ہیں۔مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کے لئے جاری کردہ مشورے میں ہندستان میں نقد کی قلت کا مسئلہ بتایا ہے جس کے سبب سیاحوں کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور ملک کے کئی سیاحتی مقامات ایسے ہیں جہاں کارڈ کے ذریعہ ٹکٹ کے حصول کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال سیاحت پر منفی اثرات نظر آرہے ہیں اور ڈسمبربھی بری طرح متاثر رہے گا۔

ہوابازی:
شہری ہوابازی صنعت بھی کرنسی کی تنسیخ کے عمل سے متاثر ہوئی ہے اور 20فیصد تک ہوائی مسافرین میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ جاریہ سال کے دوران سب سے بڑی گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔فضائی ٹکٹس کی خریدی میں کرنسی کی تنسیخ کے بعد بھاری گراوٹ دیکھی گئی ہے جو کہ بتدریج بہتر ہوتی جارہی ہے کیونکہ یہ گراوٹ آف لائن ٹکٹ خریدی کرنے والوں کی تعداد میں کمی کے سبب ریکارڈ کی گئی ہے اور اس صنعت میں آن لائن ٹکٹ خریدی کا رجحان تیزی سے فروغ پا چکا ہے جس کے سبب یہ حالات زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہ پائیں گے لیکن ائیر لائنس کی جانب سے پرکشش ترغیبات صنعت میں مزید بہتری پیدا کرسکتے ہیں۔

موصلاتی شعبہ:
کرنسی تنسیخ کے اثرات مواصلاتی شعبہ پر منفی دیکھے جا رہے ہیں موبائیل فون شپ میٹ میں 26فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ 23فیصد گراوٹ اسمارٹ فون میں ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسمارٹ فون کی فروخت میں 17.5اور عام موبائیل کی فروخت میں 25فیصد گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔

صرافہ بازار:
حکومت کے انتباہ کے بعد سونے کی تجارت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔منسوخ کرنسی میں سونے کی خریدی پر انتباہ کے علاوہ غیر مقیم ہندستانی گاہک بازار سے غائب ہیں۔اس شعبہ پر کرنسی کی تنسیخ کے شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اس صنعت کو فوری راحت حاصل ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں لیکن طویل مدتی اثرات کئی برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

زراعت :
زرعی شعبہ پر اس عمل کے کوئی خاص اثرات مرتب ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ زرعی شعبہ کو حاصل مراعات سے زرعی مزدور مطمئن ہیں جس کے سبب کوئی ناگہانی صورتحال پیدا نہیں ہو رہی ہے۔دیہی علاقوں کی معیشت کرنسی تنسیخ سے متاثر نہیں ہے اور روزمرہ کے معمولات زندگی بہتر نظر آنے لگے ہیں۔دیہی عوام کا کہنا ہے کہ نئے سال کے آغاز کے ساتھ حالات تبدیل ہوجائیں گے۔

اسٹیل:
تعمیراتی شعبہ اور رئیل اسٹیٹ تجارت میں شدید گراوٹ نے اسٹیل اور دھات کی تجارت پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں جس کے سبب یہ صنعت شدید متاثر رہے گی اور طویل مدت تک حالات کے بہتر ہونے کی کوئی توقع نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ اس صنعت میں تانبہ‘ پیتل‘ زنک وغیرہ شامل ہے اگر توقع کے برخلاف آٹو موبائیل صنعت پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ صنعت شدید متاثر رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT