Monday , November 19 2018
Home / Top Stories / نوٹوں کی تنسیخ کالے دھن کو سفید بنانے کا اسکام

نوٹوں کی تنسیخ کالے دھن کو سفید بنانے کا اسکام

نئی دہلی ، پنجاب اور ہریانہ میں کانگریس کے احتجاجی مظاہرے، شیوسینا کو کانگریس قائد کی تائید

نئی دہلی 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج الزام عائد کیاکہ نوٹوں کی تنسیخ ملک کا کالے دھن کو سفید بنانے کا سب سے بڑا اسکام ہے اور بی جے پی سے مطالبہ کیاکہ اِس بات کا اعلان کرے کہ اِس معاشی نقصان کا جو مودی حکومت کے اِس اقدام سے ہوا ہے، کون ذمہ دار ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹوں کی تنسیخ ’’آفات سماوی‘‘ کو معاشی انقلاب قرار دیا ہے اور کہا تھا کہ اِس سے کالے دھن، جعلی کرنسی، دہشت گردی اور نکسل ازم کو ختم کرنے میں مدد ملے گی لیکن حکومت کے مبینہ مقاصد میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کیا جاسکا۔ کانگریس نے آر بی آئی کی رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ 99 فیصد منسوخ کرنسی بینکوں میں ڈپازٹ کروائی گئی، غلط ہے۔ بی جے پی کو اب بتانا چاہئے کہ نوٹوں کی تنسیخ سے معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے اُس کا ذمہ دار کون ہے۔ نوٹوں کی تنسیخ کالے دھن کو سفید میں تبدیل کرنے کا ایک اسکام ہے۔ سرجیوالا کا یہ تبصرہ نوٹوں کی تنسیخ کی دوسری سالگرہ کے ایک دن بعد منظر عام پر آیا ہے۔ قبل ازیں دن میں یوتھ کانگریس ارکان نے سینئر پارٹی قائدین کے ہمراہ ایک احتجاجی دھرنا آر بی آئی کے دفتر کے روبرو دیا اور پولیس کے ہاتھوں گرفتار کرلئے گئے۔ حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں جمعرات کے دن ایک تلخ الفاظ کی جنگ میں ملوث تھے جبکہ مرکزی وزیر فینانس جیٹلی نے کہاکہ کئی ٹیکس دہندگان نوٹوں کی تنسیخ کا دفاع کررہے ہیں جبکہ صدر کانگریس راہول گاندھی نے کہاکہ نوٹوں کی تنسیخ سے ایک لاکھ 50 ہزار ملازمتیں اور ہندوستانی جی ڈی پی کو ایک فیصد کا نقصان ہوا۔

جیٹلی نے کہاکہ نوٹوں کی تنسیخ کے نتیجہ میں معیشت باقاعدہ ہوگئی۔ اس کے ٹیکس کا دائرہ وسیع تر ہوگیا۔ بی جے پی نے کانگریس سے سوال کیاکہ وہ ہر مخالف کرپشن اقدام کے خلاف احتجاج کیوں کررہی ہے جو مودی حکومت نے کئے ہیں اور الزام عائد کیاکہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں ترقی کے باوجود کانگریس منفی طرز حیات اپنائے ہوئے ہے۔ چندی گڑھ سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس نے آج پورے پنجاب، ہریانہ اور چندی گڑھ میں بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور کہاکہ اُس نے نوٹوں کی تنسیخ کے ذریعہ ہندوستانی معیشت پر منفی اثر مرتب کیا ہے۔ اُس کا یہ اقدام غلط نظریہ پر مبنی تھا۔ صدر پنجاب پردیش کانگریس سنیل جاکھر اور پنجاب کے کابینی سنگھ بلبیر سنگھ سدھو کی زیرقیادت آر بی آئی کے دفتر کے روبرو چندی گڑھ میں کل نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ یوتھ کانگریس کے ارکان نے سینئر پارٹی قائدین کے ساتھ ایک احتجاجی دھرنا نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف آر بی آئی کے دفتر کے باہر دیا تھا جنھیں پلیس نے گرفتار کرلیا۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایک دن قبل نوٹوں کی تنسیخ کے بارے شیوسینا کے تبصرے کو کانگریس قائد نے آج منصفانہ طور پر درست قرار دیا لیکن اُس سے پوچھا کہ وہ مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کا حصہ کیوں بنی ہوئی ہے؟

نوٹوں کی تنسیخ کیلئے بی جے پی سے معذرت طلبی : مایاوتی
لکھنؤ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے آج بی جے پی سے نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا اور کہاکہ اِس اقدام کے کوئی مقاصد حاصل نہیں ہوئے جبکہ عوام کے مصائب میں بے انتہا اضافہ ہوگیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 ء کو ایک ہزار اور 500 روپئے مالیت کے بینک نوٹ کو فوری اثر کے ساتھ منسوخ کردیا تھا۔ مایاوتی نے اپنے بیان میں کہاکہ نوٹوں کی تنسیخ کے دو سال بعد بھی بی جے پی نے جن مقاصد کا دعویٰ کیا ہے اُن میں سے کوئی بھی حاصل نہیں ہوسکا۔ اِس لئے بی جے پی کو چاہئے کہ وہ اِس اقدام کے لئے معذرت خواہی کرے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو حکومت کی ناکامی کے لئے اور عوام سے کئے ہوئے اپنے کسی بھی وعدے کی عدم تکمیل کے لئے یاد رکھا جائے گا۔ اُنھوں نے یقین ظاہر کیاکہ آئندہ انتخابات میں عوام وزیراعظم کو اِس کی سزا دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT