Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / نوٹوں کی تنسیخ کے اقدام کا وزیراعظم کی جانب سے دفاع

نوٹوں کی تنسیخ کے اقدام کا وزیراعظم کی جانب سے دفاع

اپوزیشن پارٹیاں غیرمتاثر، یوم سیاہ پر اپوزیشن کے جلسے اور جلوس ، بی جے پی اور کانگریس میں تکرار
نئی دہلی ۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزراء پورے ملک میں پھیل گئے تاکہ کالے دھن کے خلاف حکومت کی کارروائی کو اجاگر کرسکیں جبکہ نوٹوں کی تنسیخ کی آج پہلی سالگرہ منائی گئی۔ بی جے پی نے اسے مخالف کالادھن دن کے طور پر منایا جبکہ کانگریس زیرقیادت اپوزیشن نے یوم سیاہ مناتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ایک سال قبل وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹوں کی تنسیخ کا فیصلہ بڑے فخر کے ساتھ اپنی جذباتی تقریر میں سنایا تھا جس میں چند اشعار بھی شامل تھے۔ بعدازاں انہوں نے کئی جلسوں میں نوٹوں کی تنسیخ کے بارے میں جذباتی تقریریں کی تھیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا جس میں مہاراشٹرا کے احتجاجی جلسوں میں بی جے پی کی کلیدی حلیف شیوسینا بھی شامل ہوگئی جبکہ وزیراعظم نے آج کہا کہ عوام نے کالے دھن کے خلاف اپنی جنگ میں ایک فیصلہ کن فیصلہ کیا۔ کانگریس زیرقیادت اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد مصائب میں مبتلاء ہوئے۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے عوام بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف اقدامات کی تائید کے سلسلہ میں کسی کے بھی آگے نہیں جھکیں گے۔ نریندر مودی نے کالے دھن اور بدعنوانیوں کے خلاف جنگ کے ایک اقدام کے طور پر 1000 اور 500 روپئے کے نوٹ منسوخ کردیئے تھے کیونکہ ان کے بموجب دہشت گردی کو مالیہ فراہم کرنے استعمال کئے جارہے تھے۔ مودی نے سلسلہ وار کئی ٹوئیٹر پیغامات شائع کئے تھے اور کئی مختصر فلمیں بنائی گئی تھیں تاکہ اس اقدام کے فوائد کو منظرعام پر لایا جاسکے۔ معیشت کو باقاعدہ بنایا جاسکے اور غریبوں کیلئے مزید ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ معاشی نظام کو صاف ستھرا بنایا جاسکے لیکن اپوزیشن پارٹیوں نے ان کے تیقنات کا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے ملک گیر سطح پر نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے اور جلسے کئے۔ آر جے ڈی نے بہار اور ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں جلوس اور جلسوں کا اہتمام کیا۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے کئی پلیٹ فاموں سے اس اقدام کی مذمت کی۔ انہوں نے اپنی دستخط کے ساتھ برطانیہ کے فینانشیل ٹائمز میں ایک مضمون شائع کروایا۔ ٹوئیٹر پر پیغامات شائع کئے اور سورت کے عوام سے جہاں انتخابات مقرر ہیں، کئی طبقوں کے عوام سے ملاقاتیں کیں۔ مودی کی اصلاحات سے ہندوستان کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نوٹوں کی تنسیخ سے دو فیصد جی ڈی پی غائب ہوچکی اور لاکھوں محنت کشوں کی زندگیاں تباہ ہوچکی ہیں۔

انہوں نے اپنی تقاریر میں اشعار کا بھی استعمال کیا اور ملک کے کئی علاقوں میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک آنسو بھی حکومت کیلئے خطرہ ہے؍ تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا۔ آر جے ڈی کے سربراہ لالو یادو نے نوٹوں کی تنسیخ کی معقولیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے کالے دھن کو عطیم تر آسانی سے سفید دھن میں تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے۔ ڈی ایم کے کے کارگذار صدر ایم کے اسٹالن نے مدھورائی میں کہا کہ نوٹوں کی تنسیخ کا دن 8 نومبر ایک ایسا دن تھا جس نے 125 کروڑ ہندوستانیوںکو مایوس کردیا۔ دائیں بازو کی پارٹیوں نے سڑکوں پر جلوس نکالے اور کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی حکومت موت اور مصائب کی سالگرہ کا جشن منا رہی ہے۔ شیوسینا نے رام کند پر حکومت کی آخری رسومات ادا کیں۔ یہ دریائے گوداوری کے کنارے اشنان کرنے کا ایک گھاٹ ہے جو ناسک میں واقع ہے۔ اس واقعہ کی کئی تصاویر منسوخ شدہ نوٹوں کے ساتھ لی گئیں۔ حکومت نے بھی اپنے ہتھیار تیز کر رکھے تھے۔ مرکزی وزراء جو مودی کے فیصلہ کے دفاع میں سڑکوں پر آ گئے تھے، ان میں نرملا سیتارامن، سریش پربھو، نتن گڈکری، پرکاش جاودیکر اور منوہر پاریکر شامل تھے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے جو گجرات کے شہر جونا گڑھ میں تھے، ایک دستخطی مہم کا آغاز کیا اور یوم مخالف کالادھن منایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ’’نئے ہندوستان‘‘ کے نظریہ سے وابستہ ہیں۔ مودی نے کالے دھن اور کرپشن سے پاک نئے ہندوستان کا خواب دیکھا ہے۔ کانگریس نے اپنے احتجاجی جلسوں میں مطالبہ کیا کہ مودی اور ارون جیٹلی کو عوام سے اپنے اقدام کے سلسلہ میں معافی مانگنی چاہئے جبکہ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب جینئت سنہا نے کہا کہ نوٹوں کی تنسیخ کوئی اسکام نہیں بلکہ ایک کرشمہ ہے۔ دہلی میں بی جے پی اور کانگریس نے نوٹوں کی تنسیخ کے بارے میں باہم لفظی تکرار ہوگئی۔ بی جے پی نے اپنے کارکنوں کے ساتھ انسداد کالادھن جلوس نکالے تھے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزارت فینانس کے اعلیٰ عہدیدار کل 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی ایک سال قبل تنسیخ کے واقعہ کی تفصیلات سے ایک پارلیمانی کمیٹی کو واقف کروائیں گے۔ ششی تھرور نے جو سینئر کانگریس قائد ہیں، کیرالا میں کہا کہ بی جے پی کو گجرات انتخابات میں اپنے اقدام پر عوام کے جوابی وار کیلئے تیار رہنا چاہئے۔

 

TOPPOPULARRECENT