Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / نوٹوں کی منسوخی طویل مدتی معاشی مددگار ثابت ہوگی

نوٹوں کی منسوخی طویل مدتی معاشی مددگار ثابت ہوگی

جعلی نوٹوں کے چلن کو روکنے اور ٹیکس چوری کے واقعات ختم کرنے میں آسانی، آدتیہ پوری
ممبئی۔23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایچ ڈی ایف سی بنک کے منیجنگ ڈائرکٹر آدتیہ پوری نے آج نوٹوں کی منسوخی کو ایک اچھا قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے معیشت کے حق میں طویل مدتی فائدہ ہوگا۔ بڑے کرنسی نوٹوں کی منسوخی ضروری تھی۔ آنے والے دنوں میں شرح کٹوتی کی راہ میں طویل مدتی مددگار ثابت ہونے کی توقع بھی کی جارہی ہے۔ جعلی نوٹوں کا چلن روکنے اور ٹیکس چوری کرنے والوں کو ناکام بنانے میں بھی یہ اقدامات موثر ہوں گے۔ انہوں نے اپنے بیک اکائونٹ ہولڈرس کو روانہ کردہ ایک نوٹ میں کہا کہ ہم ایچ ڈی ایف سی بینک کا احساس ہے کہ یہ ایک قابل ستائش مقصد ہے جو معیشت اور عوام کو طویل مدت کے لئے فوائد فراہم کرے گا۔ انہو ںنے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے  8 نومبر کو نوٹوں کی منسوخی کیل لئے کئے گئے اعلان کو ضروری قدم قرار دیا اور کہا کہ جعلی نوٹوں کے چلن کو ختم کرنے کے لئے سخت قدم لازمی تھا۔ یہ جعلی کرنسی دہشت گردوں کو فنڈس فراہم کرنے کا کام کررہی تھی۔ یہ کہتے ہوئے کہ کوشش اس بات کی کی گئی ہے کہ عوام کو اپنا کاروبار منصفانہ اور شفاف طریقہ سے انجام دینے کی ترغیب دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بزرگ بینکر نے مزید کہا کہ اگر صرف 10 فیصد آبادی ہی کم از کم ٹیکس ادا کرے تو یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ اس سے رشوت کا خاتمہ کرنے میں مدد مل جائے گی اور بینک خدمات پر آنے والے مصارف بھی گھٹ جائیں گے۔ اس عمل کے حصہ کے طور پر حکومت نے 500 روپئے اور1000 روپئے کے نوٹوں کے چلن کو 8 نومبر کی نصف شب سے ہی بند کردیا ہے۔ اس کی جگہ اب 2000 روپئے اور 500 روپئے کے نئے نوٹس متعارف کروائے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک الجھن سی پیدا ہوئی ہے

اور بینکوں کے سامنے اپنی ہی ڈپازٹ کردہ رقم نکالنے کے لئے طویل قطاریں لگ رہی ہیں۔ اس سے قبل ایک بڑی رقم کسی حرکت کے بغیر منجمد ہوچکی تھی۔پوری نے کہا کہ یہ ضروری تھا کہ اپنی جمع پونچی کو سرمایہ کاری میں استعمال کیا جائے۔ اس سے بینکوں کو اپنی کنجائش کے مطابق کام کرنے اور شرح سود کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہوئے مسابقت کے میدان میں اتر سکیں۔ ایک ماسٹر کارڈ اسٹیڈی کا حوالہ دیتے ہوئے پوری نے کہا کہ پرنٹنگ، ٹرانسپورٹنگ کمی اور پھٹے پرانے نوٹوں پر جی ڈی پی کا 1.5 فیصد خرچ آتا ہے اور یب یہ قدم ڈیجیٹل ہوجائے تو یہ نہ صرف کسٹمرس کے لئے بلکہ معیشت کے لئے بھی فائد مند ہوگا۔ آدتیہ پوری نے ڈیجیٹل سرویسس کے استعمال کو سہولت بخش بنایا اور کہا کہ اس سے سیمی اربن اور دیہی ہندوستان میں اپنے دونوں کو مدد ملے گی۔ ڈیجیٹل چیانلس کو تیزی سے قبول کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT