Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی منسوخی کا 40واں دن

نوٹوں کی منسوخی کا 40واں دن

اے ٹی ایم کے قریب طویل قطاریں،کاروبار بری طرح متاثر

حیدرآباد18دسمبر(سیاست ڈاٹ کام ) نوٹوں کی منسوخی کا آج 40 واں دن ہے اور اے ٹی ایم کے قریب وہی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش میں بیشتر اے ٹی ایمس کام نہیں کررہے ہیں اور جو اے ٹی ایمس کام کررہے ہیں وہاں لوگوں کی طویل قطاریں صبح ہی سے نظر آرہی ہیں۔کئی مقامات پر لوگوں نے نوٹوں کی منسوخی کے قدم کو غلط اور جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کو روزمرہ کی ضروری اشیا کی خریداری میں کافی مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ بینک صرف دو ہزار روپئے ہی جاری کررہے ہیں۔اتوار ہونے کے سبب آج بینک کو تعطیل ہے اور کئی اے ٹی ایم پر نقدی نہیں کے بورڈس لگائے گئے ہیں۔ 40ویں دنوں کے باوجود ویسی ہی قطاریں اور ویسی ہی مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے ۔ریزگاری کی کمی کا اثر چھوٹے کاروبار کرنے والے اور مزدوروں پر پڑا ہے ۔ بڑی کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے جہاں ایک طرف عام آدمی پریشان ہے وہیں دوسری طرف تاجر طبقہ اور چھوٹے کاروبار کرنے والے بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔اعلی قدر کی کرنسی نوٹوں کی منسوخی کا واضح طورپر اثر حیدرآباد کی مچھلی مارکٹس کے علاوہ چکن اور مٹن کی مارکٹس پر بھی پڑا ہے جہاں پر لوگوں کی تعداد میں کافی کمی ہوگئی ہے ۔نوٹ بندی سے پہلے ان مارکٹس میں اتوار کو عوام کا ہجوم ہوا کرتا تھا لیکن نوٹوں کی منسوخی پر لوگوں کی کمی ہوگئی ہے ۔ جو لوگ خریداری کیلئے آرہے ہیں ان کے پاس دو ہزار روپئے کی نوٹ ہے تاہم ریزگاری کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔شہر حیدرآباد کی بڑی مارکٹس میں دکانداروں کے پاس سوائپنگ مشینس کی کوئی سہولت نہیں ہے جس سے بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ان مارکٹس میں کاروبار کرنے والوں نے بتایا کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد سے اب تک دو ہزار روپئے کی کرنسی نوٹ لانے والوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ریزگاری کی کمی کے سبب ان کے کاروبار پر برا اثر پڑا ہے ۔انہوں نے کہاکہ نوٹوں کی منسوخی سے ان کا کاروبار نصف ہوگیا ہے اور گاہکوں کی کمی نے ان کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT