Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی…تلنگانہ مالیاتی دیوالیہ کی سمت گامزن

نوٹ بندی…تلنگانہ مالیاتی دیوالیہ کی سمت گامزن

۔8000 کروڑ کے نقصان کا اندازہ، مرکزپر انحصار بے فیض، حکومت کے موقف پر عہدیدار حیرت میں
حیدرآباد ۔ 21۔ڈسمبر (سیاست نیوز) کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلہ کی بڑھ چڑھ کر تائید کی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس فیصلہ سے ریاست کے خزانہ اور آمدنی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ تاہم سرکاری محکمہ جات اس فیصلہ کے اثرات کے بارے میں فکرمند ہے۔ محکمہ فینانس نے حکومت کو نوٹ بندی کے فیصلہ کے سبب سرکاری خزانہ پر پڑنے والے بھاری نقصان سے آگاہ کردیا ہے ۔ حکومت نے اگرچہ 8 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی میں خسارہ کا اندازہ مقرر کیا ہے، تاہم سرکاری محکمہ جات نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر یہ صورتحال مزید برقرار رہی تو ریاست میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے بجٹ دستیاب نہیں رہے گا ۔ ماہرین کے مطابق تلنگانہ حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کے فیصلہ کی تائید کا خمیازہ اسے مالیاتی بحران یا دیوالیہ کی شکل میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔  سرکاری عہدیدار اس بات پر حیرت میں ہے کہ حکومت صرف اس فیصلہ کی تائید کر رہی ہے لیکن اس نے نوٹ بندی کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے کوئی احتیاطی قدم نہیں اٹھائے تاکہ سرکاری محکمہ جات کی آمدنی متاثر نہ ہو۔

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نہ صرف نوٹ بندی کی تائید کی بلکہ نریندر مودی کی جانب سے کیش لیس اکانومی کو تلنگانہ میں متعارف کرنے میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ سدی پیٹ کو تلنگانہ میں ایک ماڈل  ضلع کے طور پر تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو نقدی لین دین سے ہر سطح پر پاک ہوگا۔ حکومت کے یہ اقدامات اپنی جگہ لیکن سرکاری محکمہ جات کی تشویش اور اندیشے دوسری طرف برقرار ہیں۔ محکمہ فینانس کی جانب سے ریاست کی آمدنی پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں حکومت کو واضح طور پر آگاہ کرنے کے باوجود بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے مرکز پر انحصار کرتے ہوئے متبادل اقدامات کے بارے میں کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی جو آگے چل کر ریاست کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کیلئے  نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ فینانس ڈپارٹمنٹ پر نوٹ بندی کے فیصلہ کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ حکومت کو جو رپورٹ پیش کی گئی اس کے مطابق 31 مارچ تک سرکاری خزانہ کو 8 ہزار کروڑ کا نقصان ہوسکتا ہے۔ محکمہ فینانس کے ذرائع کے مطابق صرف محکمہ کمرشیل ٹیکسس کو 4 ہزار کروڑ کی آمدنی کا نقصان ہوگا جبکہ مزید 4 ہزار کروڑ لینڈ رجسٹریشن ، ٹرانسپورٹ ، اکسائیز اور اراضی کی فروخت سے حاصل  ہونے والی آمدنی کے نقصانات کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست میں پٹرولیم پیداواری اشیاء سے حاصل ہونے والی آمدنی مجموعی آمدنی کا 20 تا 25 فیصد ہے اور یہ آمدنی متاثر نہیں ہوئی ۔ تاہم دیگر تجارتی سرگرمیاں جیسے گارمنٹس ، سونے کی خریدی ، عوام  کی ضرورت کی اہم اشیاء اور دیگر سامان کی خریدی میں 50 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔

تلنگانہ حکومت نے جاریہ سال 43115 کروڑ روپئے کی ٹیکس وصولی کا نشانہ مقرر کیا ہے ۔ مالیاتی سال 2016-17 ء کے پہلے دو سہ ماہی میں ریاست کو نشانہ کا 45 فیصد ٹیکس حاصل ہوا۔ تاہم باقی دو سہ ماہی میں 55 فیصد ٹیکس کی وصولی کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ نوٹ بندی کے اچانک فیصلہ نے ریاست کے مالیاتی موقف کو اتھل پتھل کردیا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ریاست میں اراضیات کے رجسٹریشن اور گاڑیوں کی خریدی میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہے ۔ حکومت نے رجسٹریشن سے 4200 کروڑ اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ سے 2500 کروڑ روپئے کی آمدنی کا نشانہ مقرر کیا۔ دونوں محکمہ جات کو آئندہ پانچ ماہ میں فی کس 1000 کروڑ روپئے کے نقصان کا اندازہ کیا گیا ہے ۔ محکمہ اکسائز سے 4000 کروڑ کی آمدنی کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا جو شراب کی خریدی سے ہوگا ۔ تاہم نوٹ بندی کے فیصلہ نے اس آمدنی کو بھی متاثر کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاست میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات بری طرح متاثر ہوں گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت کے تمام محکمہ جات سے بجٹ اور اس کے خرچ کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہے تاکہ نوٹ بندی کے فیصلہ سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ کیا جاسکے۔ حکومت نقصان کی پابجائی کیلئے مرکز پر انحصار کئے ہوئے ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد اس سلسلہ میں مرکز کو رپورٹ روانہ کی جائے گی۔ نوٹ بندی کی تائید کے عوض میں تلنگانہ حکومت کو یقین ہے کہ مرکز صورتحال سے ابھرنے کیلئے فراخدلانہ امداد جاری کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT