Wednesday , December 12 2018

نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کیخلاف شیوسینا کارکن کی خودکشی

بی جے پی کو اُدھو ٹھاکرے کی جماعت کی تائید پر کانگریس کا سوال

ممبئی ۔ 19مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اسمبلی کے قائد اپوزیشن رادھا کرشنا وکھے پاٹل نے آج الزام عائد کیا کہ شیوسینا کے ایک کارکن نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خلاف احتجاج کے طورپر خودکشی کرلی ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے اسمبلی میں یہ مسئلہ اُٹھایا اور ادھو ٹھاکرے کے زیرقیادت جماعت ( شیوسینا ) کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ مرکز کی پالیسیوں کے خلاف اپنے ورکر کی خودکشی کے باوجود آخر کس لئے ہنوز وہ این ڈی اے حکومت کی تائید کررہی ہے ۔ وکھے پاٹل نے کہا کہ ’’راہول پھالکے نے جو ضلع ستارہ کے کراڈ تحصیل سے تعلق رکھنے والا شیوسینا کا ایک کارکن ہے 16 مارچ کو خودکشی کی تھی ۔ پھالکے نے سوشیل میڈیا پر اپنے آخری پوسٹ میں اپنی ( خودکشی کی ) وجوہات کی وضاحت کی تھی اور اس کے لئے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر عمل آوری کو مورد الزام ٹھہرایا تھا‘‘ ۔ وکھے پاٹل نے کہاکہ ’’یہ دونوں فیصلے مرکزی حکومت کی طرف سے کئے گئے تھے اور چند اپوزیشن جماعتیں آج این ڈی اے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کررہی ہیں ‘‘۔ کانگریس لیڈر نے استفسار کیا کہ شیوسینا آخر کیوں بی جے پی کی تائید کررہی ہے جبکہ اُس کا ایک کارکن اس قسم کے فیصلوں کاشکار بنا ہے ۔ شیوسینا مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی حلیف ہے ۔ اس کے سوال میں شیوسینا کے سنیل پربھو نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی صرف اُسی صورت میں تحریک عدم اعتماد کی تائید کریگی بشرطیکہ وہ قومی مفاد میں سازگار رہے ۔ پربھو نے کہاکہ ’’تحریک عدم اعتماد تلگودیشم نے پیش کی ہے لیکن یہ آندھراپردیش کو خصوصی درجہ دینے کے مطالبہ پر پیش کی گئی ہے ۔ بہار نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا لیکن اس کو کچھ نہیں ملا ۔ سینا اس قسم کی تحریک کی تائید نہیں کریگی ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT