Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ

نوٹ بندی اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ

سینئر جرنلسٹ ایچ کے دُووا کی کتاب میں سیاسی قائدین اور معاشی ماہرین کا اظہار خیال
نئی دہلی ۔6جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سیاسی اور تعلیمی دنیا کے شہرت یافتہ شخصیتیں ایک نئی کتاب میں نوٹ بندی کے تمام اُمور کا جائزہ لے رہے ہیں جو اس مباحث کو نئی جہت دیتی ہے کہ آیا یہ اقدام ملک کیلئے درست ہوا یا نہیں ۔ Demonetisation in the Detail کے عنوان والی کتاب 12مضامین کا مجموعہ جو سینئر جرنلسٹ ایچ کے دُووا کی ادارت میں سامنے آرہی ہے ۔ ایچ کے دُووا کے مطابق کسی بھی جمہوری ملک میں اپنی معیشت کو صاف ستھری بنانے کیلئے کبھی نوٹ بندی کا اقدام نہیں کیا ہے ۔ نوٹ بندی گھٹتے قواعد کے قاعدہ سے آزاد نہیں ہے جو ایسا لگتا ہے کہ پہلے ہی شروع ہوچکے ہیں ۔ معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کی مہم مشکل میں پڑسکتی ہے کیونکہ ڈیجیٹل کے معاملہ میں خلیج بدستور بڑی ہے اور اس میں کامیابی کیلئے کئی دہے لگ سکتے ہیں ۔ ایچ کے دُووا نے تعارف کے طور پر اپنی کتاب میں یہ باتیں لکھی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی نے جو بدتر نقصان پہنچایا وہ جاب مارکٹ ہے‘ بالخصوص غیر منظم شعبہ کی نوکریوں کو متاثر کیا ہے ۔ چھوٹے پیمانوں کی صنعتوں اور اجناس کی منڈیوں میں کام کی کمی نے مزدروں کو اپنے گاؤں چھوڑنے پر مجبور کردیا جو ویسے بھی روزگار سے محروم تھے ۔ کئی ماہ گذر جانے کے بعد بھی کالا دھن کی لعنت ایسا نہیں لگتا کہ ختم ہوچکی ہے ۔ کسی بھی پراپرٹی ڈیولپر کو حکام نے پکڑا نہیں ہے ‘ رقم پر مبنی سیاست کا ہنوز چلن عام ہے جسے ہم کرپشن کہتے ہیں ۔ ہندوستان کو پریشان کرنے والی دہشت گردانہ کوششوں میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ ایچ کے دووا کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں کئی سنجیدہ نوعیت کے آرٹیکلس شامل کئے گئے ہیں جو قارئین کو نوٹ بندی اور اس کے اثرات سے اچھی طرح واقف کراتے ہیں ۔ ممتاز ماہر معاشیات ارون کمار نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ اس اقدام سے سیاسی طور پر کچھ خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوا حالانکہ عوام کو بہت مشکلیں جھیلنی پڑی ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگار زویا حسن نے نوٹ بندی کو نریندر مودی کا ہتھیار قرار دیا جسے انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا ۔ سی پی آئی ایم لیڈر سیتارام یچوری اور دیگر سیاسی قائدین نے بھی اپنے تاثرات ظاہر کئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT