Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر تنقیدیں نظرانداز …..

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر تنقیدیں نظرانداز …..

معاشی اصلاحات کیلئے سخت فیصلے جاری رہیں گے : مودی
دہیج(گجرات)۔ 22 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر اپوزیشن کی تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ معاشی اصلاحات کے سلسلے میں اہم فیصلے جاری رہیں گے اور انہوں نے کہا کہ ان سخت فیصلوں کی وجہ سے معیشت اس وقت استحکام کی راہ پر ہے۔ جی ایس ٹی کے سلسلے میں تاجرین سے انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام کے تحت اندراج کی صورت میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ ان کے ماضی کے بارے میں کوئی پوچھ تاچھ نہیں کرے گا۔ مودی نے یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہرکیف تمام معاشی اصلاحات کو روبہ عمل لایا جائے گا اور سخت فیصلے کئے جاتے رہیں گے تاکہ ملک کی معیشت دوبارہ پٹری پر آسکے اور درست سمت پر گامزن ہوجائے۔ کئی ماہرین معاشیات نے متفقہ طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک کی معاشی بنیادیں مضبوط ہیں۔ وہ بظاہر حکومت کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کو جواب دے رہے تھے۔ ناقدین نے ملک کی معیشت کو ابتر قرار دیا ہے۔ نریندر مودی نے بتایا کہ اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں کوئلہ، برقی، قدرتی گیاس اور دیگر اشیاء کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بھی ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہے۔ ملک میں بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کل تک 30,000 کروڑ ڈالرس کا بیرونی زرمبادلہ ہوتا تھا، اب یہ 40,000 کروڑ ڈالرس تک پہنچ چکا ہے۔ ہم نے بہت اہم فیصلے کئے ہیں، اصلاحات کے میدان میں یہ فیصلے جاری رہیں گے۔ ملک کی مالی حالت مستحکم ہوگی اور ضروری اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ آنے والے دنوں سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے گا اور معیشت کو فروغ دیا جائے گا۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے گجرات میں حالیہ دورہ میں مودی پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ 2017-18ء کے پہلے سہ ماہی میں ملک کی پیداوار گھٹ کر 5.7% ہوگئی ہے۔ جی ایس ٹی کے بارے میں مودی نے کہا کہ تاجروں کی بڑی تعداد دن بہ دن نئے بالواسطہ ٹیکس نظام سے مربوط ہورہی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران 27 لاکھ سے زائد افراد نے خود کو بالواسطہ ٹیکس نظام سے مربوط کیا ہے۔ مودی ایک ماہ کے اندر تیسری مرتبہ گجرات کا دورہ کررہے ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ فیری سرویس پر سفر کیا۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا پراجیکٹ ہے۔ گجرات کیلئے انتخابی تواریخ کا اعلان کرنے میں تاخیر پر اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر تنقید کی تھی جسے مودی نے مسترد کردیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT