Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا دوہرا دھکہ، قومی معیشت مکمل تباہ

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا دوہرا دھکہ، قومی معیشت مکمل تباہ

مودی حکومت نے اپنی فاش غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا، گجرات میں تاجرین کے اجلاس سے منموہن سنگھ کا خطاب

احمدآباد ۔ ممبئی بلٹ ٹرین سعی ٔ لاحاصل
نوٹ بندی، ایک منظم لوٹ اور لوٹ کھسوٹ کو قانوناً جائز بنانے کا اقدام
کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے مودی کا وعدہ ایک اور ’انتخابی جملہ‘ ثابت ہوگا
جی ایس ٹی کی ٹیکس دہشت گردی سے تاجرین میں خوف و اندیشہ کی گہری جڑیں پیوست

احمدآباد 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج کہاکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا دوہرا دھکا ملک کی معیشت کیلئے ایک سنگین ترین سانحہ تھا۔ اُنھوں نے مودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس نے بقول ان کے اس ’تاریخی فاش غلطی‘ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف کانگریس کے جارحانہ حملوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مودی حکومت کے پُرعزم ’بلٹ ٹرین‘ پراجکٹ کی بھی سخت مذمت کی اور اس کو ایک بے سود عمل اور ’سعی لاحاصل‘ قرار دیا۔ ہندوستان کی یہ پہلی تیز رفتار ترین ٹرین احمدآباد اور ممبئی کو مربوط کرے گی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاکہ وہ اپنے اُس قول کو دوہرا رہے ہیں جو پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ نوٹ بندی ایک تباہ کن پالیسی اور لاپرواہی پر مبنی اقدام تھا جس کا مقصد ’منظم لوٹ‘ اور لوٹ کھسوٹ کو قانونی اعتبار سے جائز بنانا تھا۔ نوٹ بندی کا اقدام مودی حکومت کے معلنہ مقاصد کی تکمیل میں ناکام ہوگیا۔ نیز گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) کو جلد بازی میں روبہ عمل لایا گیا۔ گجرات میں آئندہ ماہ اسمبلی انتخابات ہوں گے اور کانگریس نے مودی کو ان کی آبائی ریاست میں طنز و تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے منعقدہ اجلاس میں ایک مایہ نیاز ماہر معاشیات 85 سالہ منموہن سنگھ کو مقرر کیا تھا۔ اجلاس کے شرکاء میں اکثر متوسط اور چھوٹے تاجرین تھے جو جی ایس ٹی کے مسائل اور اُنھیں درپیش مسلسل دشواریوں کے سبب مودی حکومت کے خلاف نبردآزما ہوچکے ہیں۔

بعدازاں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسانوں کی آمدنی کو 2022 ء تک دوگنا کرنے مودی کا منصوبہ بھی محض ’ایک انتخابی جملہ‘ کی حیثیت سے ختم ہوجائے گا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاکہ بلند بانگ نعرے اور ڈرامہ بازی کسی بھی صورت میں عزم و حوصلہ اور بہتر انداز میں کام کرنے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ اُنھوں نے کہاکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے تاجر برادری میں ’ٹیکس دہشت گردی‘ کی گہری جڑیں پیوست کردی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاکہ ’’نوٹ بندی کسی بھی صورت میں ٹیکس چوری اور کالے دھن کی لعنت کے خاتمہ کا صحیح راستہ نہیں تھا‘‘ سابق وزیراعظم نے کہاکہ ’’نوٹ بندی محض سیاسی فوائد اُٹھانے کا حربہ ثابت ہوئی جبکہ اصل خاطی اور قصوروار بچ نکلتے ہوئے فرار اختیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ’’یہاں پھر میں اپنے قول کو دہراتا ہوں کہ یہ ایک منظم لوٹ تھی اور لوٹ کو قانوناً جائز بنانے کا طریقہ کار تھی‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ نوٹ بندی سے متاثرہ غریبوں، کسانوں، تاجروں، چھوٹے اور متوسط کاروباری افراد کو راحت پہونچانے کیلئے پارلیمنٹ میں میری طرف سے کی گئی درخواست پر عمل کرنے کے بجائے مودی حکومت نے ان پر غلط تزائین اور جلد بازی پر مبنی جی ایس ٹی مسلط کردیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاکہ ’’نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا دوہرا دھکا ملک کی معیشت کے لئے مکمل تباہی ثابت ہوا۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس فاش غلطی سے حکومت نے کوئی سبق نہیں سیکھا‘‘۔ سابق وزیراعظم نے انکشاف کیاکہ خانگی سرمایہ کاری میں شرح ترقی 25 سال کے عرصہ میں سب سے کم سطح پر ہے جو ہندوستانی معیشت کے لئے انتہائی تباہ کن سانحہ ہے۔ حکومت کی ٹیکس دہشت گردی کے سبب سرمایہ کاری میں تاجرین اعتماد کھوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT