Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / نوٹ بندی :ایک سال کی تکمیل پر اپوزیشن کا یوم سیاہ

نوٹ بندی :ایک سال کی تکمیل پر اپوزیشن کا یوم سیاہ

نئی دہلی 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) نوٹ بندی کے ایک سال کی تکمیل پر مختلف اپوزیشن جماعتوں نے 8 نومبر کو ’یوم سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا اور کہاکہ اس اقدام کے قومی معیشت پر مرتب ہونے والے نقصان دہ اثرات سے عوام کو واقف کروانے کیلئے ملک بھر میں احتجاجی جلوس اور جلسوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ اپوزیشن رابطہ کمیٹی کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ 8 نومبر کو کیا گیا (نوٹ بندی کا) اعلان اس صدی کا سب سے بڑا اسکام ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس کے خلاف ’یوم سیاہ‘ منارہے ہیں۔ آزاد نے نوٹ بندی کو این ڈی اے حکومت کا ایک انتہائی غیر منصوبہ بند اور جلد بازی میں کیا جانے والا فیصلہ قرار دیا۔ انھوں نے کہاکہ ’’کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ صدی کا سب سے بڑا اسکام ہے۔ 18 سیاسی جماعتیں عوام کو مشکلات اور پریشانیوں سے دوچار کرنے والے اس سرکاری اقدام کے خلاف تمام ریاستوں میں اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق احتجاج منظم کریں گے۔ اس سے پہلے حکومت کی کسی پالیسی کے سبب دنیا میں کبھی کبھی عوام ہلاک نہیں ہوئے تھے‘‘۔ غلام نبی آزاد کے ساتھ جے ڈی (یو) کے علیحدہ شدہ گروپ کے لیڈر شرد یادو اور ٹی ایم سی لیڈر ڈیریک اوبرائین بھی موجود تھے۔ اُ۔ھوں نے ’’ہر سیاسی جماعت اس یوم سیاہ کو علاقائی نام دے گی۔ اس کے علاوہ احتجاجی جلسے اور جلوسوں کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا‘‘۔ ڈیریک اوبرائین نے کہاکہ ان کی پارٹی مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف 8 نومبر کو ’’کالودیبس‘‘ منائے گی۔ بنگالی زبان میں یوم سیاہ کو ’کالو دیبس‘ کہا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’جدید ہندوستان کی تاریخ 8 نومبر کو ہوئے اس اسکام کو ہمیشہ یاد رکھے گی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT