Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / نوٹ بندی جاں بحق مظلومین کی دیت

نوٹ بندی جاں بحق مظلومین کی دیت

وزیراعظم ہند نریندر مودی جی نے ۸ نومبر ۲۰۱۶؁ء کی شب ایک دھماکہ خیز اعلان کرتے ہوئے پانچسو اور ہزار کی نوٹ بند کردینے اور دو ہزار کی نئی نوٹ مارکٹ میں لانے کا فیصلہ سنایا، ابتداء تقریباً لوگوں نے وزیراعظم کے اقدام کی ستائش کی اور اس کے دوررس اور مثبت نتائج برآمدہونے کی اُمید ظاہر کی لیکن عوام کو پتہ نہیں تھا کہ اس اہم اور نازک فیصلہ کے پیچھے کوئی منصوبہ بند تیاری نہ تھی جس کے نتیجے میں روز بہ روز  عوام الناس کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوتے جارہا ہے ، لوگ پیسہ رکھتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء سے محروم ہیں ، علاج کروانے سے قاصر ہے، لاکھوں لوگ بینک کی قطار میں گھنٹوں انتظار کررہے ہیں ، ضعیف ، بیمار ، کمزور لوگ ناگہانی تکلیف کا شکار ہیں ، افسوس صد افسوس کہ سینکڑوں لوگ اس ناعاقبت اندیش فیصلے کے سبب دلبرداشتہ ہوکر ہمیشہ کی نیند سوگئے۔ کئی لوگ پریشان ہوکر خودکشی کرلئے ۔ غرض ہندوستان کاعام باشندہ اپنی زندگی میں اس قسم کی پریشانی نہ دیکھا ہو جس کا وہ اب سامنا کررہا ہے ۔ مختلف نوعیتوں سے صحافی ، دانشور اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں لیکن سوچنا یہ ہے کہ وزیراعظم نے 8 نومبر کا کیوں انتخاب کیا؟ ۔ آخر اس رات کو یہ فیصلہ سنانے کے پیچھے کیا محرکات ہیں ؟ کوئی اس جانب توجہ نہیں دے رہاہے جبکہ اسی رات دنیا کے سوپر پاور ملک امریکہ کے صدارتی انتخابات کا فیصلہ آنے والا تھا۔ صرف امریکہ نہیں بلکہ تمام ممالک کے سربراہان نئے صدر کے انتخاب کے بارے میں فکرمند تھے کیونکہ امریکہ کے یہ انتخابات ساری دنیا کی سیاست کا رخ متعین کرنے والے تھے۔ واضح رہے وزیراعظم کے بیرونی ممالک کے کامیاب دوروں پر یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ امریکہ کا منتخب صدر سب سے پہلے ہندستان کے وزیراعظم سے رابطہ کا خواہاں ہوگا ۔ مزید یہ کہ منتخب صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہندوستانیوں کے اجتماع میں شرکت کی اور بڑی فراخ دلی سے وزیراعظم کی تعریف کی ۔ شاید یہ تعریف اور توقعات نے وزیراعظم کی ہمت و حوصلہ کو بلند کیا ہو اور انھوں نے راتوں رات یہ فیصلہ لیا ہو کہ    ۸ نومبر کو حب دنیا کے سوپر پاور ملک کے صدر کا انتخاب عمل میں آئے اسی شب ہندوستان کے بے باک ، فعال ، مرد آہن وزیراعظم کے مدبرانہ فیصلہ سے تمام ممالک کے سربراہان چونک اُٹھیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ امریکی صدر کے بعد اگر کوئی ملک کا طاقتور سربراہ ہے تو وہ وزیراعظم نریندر مودی جی ہیں۔ شاید وزیراعظم کا خواب چکنا چور ہوگیا اور بجائے عروج کے انحطاط کا سبب بن گیا ، بمصداق ’’چوں قضاء آید طبیب آبلہ شود‘‘ جب موت کا وقت آتا ہے تو ڈاکٹر کی عقل سٹیاجاتی ہے ۔ کالے دھن کو واپس لانے میں حکومت ہند کی نیت و ارادہ سچے ہوتے تو وہ عام محنت کش آدمی سے کارروائی شروع کرنے کے بجائے حقیقی مجرمین سے آغاز کرتے ۔ عوام کی تکالیف کے علاوہ جن لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے وہ ناقابل معافی ہے ۔ یہ ناعاقبت اندیش فیصلہ وزیراعظم کو اخلاقی طورپر استعفیٰ دینے کیلئے کافی ہے ، نہ جانے آئندہ دنوں میں کتنی دقتیں اور مشکلات پیش آئیں گی ۔ بلاشبہ یہ ظلم ہے اور ارشاد الٰہی کے مطابق ’’ظالمین کامیاب نہیں ہوتے‘‘۔
موجودہ حکومت کے اقدامات سے یہ سمجھ میں آرہا تھا کہ یہ حکومت صرف پانچ سال اپنی میعاد کی تکمیل کیلئے نہیں آئی ہے بلکہ تادیر سریر حکومت پر براجمان رہنے اور ہندواور ہندوتوا کو فروغ دینے کا منصوبہ رکھتی تھی لیکن جب نیت میں کھوٹ و فساد ہو اور بددیانتی ، ناانصافی اور خیانت کے ساتھ عام آدمی پر ظلم حد سے تجاوز کرجائے تو اس کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہئے ۔ واضح رہے کہ حکومتیں عدل و انصاف پر چلتی ہیں اگرچہ حکمراں کافر و مشرک ہوں ۔ اگر حکمراں مسلمان ہوں لیکن وہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے ہیں تو ان کی حکومت تادیر قائم نہیں رہ سکتی ۔ یاد رہے کہ کفر وشرک والی حکومت عدل و انصاف کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے لیکن اسلام اور ظلم کے ساتھ حکومت و اقتدار برقرار نہیں رہ سکتا ۔ کاش موجودہ حکومت ، احتساب ومحاسبہ کا عمل پہلے خود سے پھر اپنی پارٹی کے ممبران سے شروع کرتی ۔ بعد ازاں منصوبہ بندی کے ساتھ عوام تک پہنچتی ۔ واضح باد کہ عام رعایا پر ظلم ناقابل برداشت ہے ۔
حضرت سیدنا ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : اے میرے بندو ! میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام کرلیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام گردانا ہے پس تم ایک دوسرے کے ساتھ ظلم کا معاملہ مت کرو۔
اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے :
٭ ظالمین پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہے (سورۃ  ھود : ۸)
٭ ظلم کرنے والے کا کوئی مددگار نہیں ( سورۃ الحج :۷۱)
٭ یقینا اﷲ تعالیٰ ظالمین کو ہدایت عطا نہیں فرماتا
( سورۃ المائدہ :۵۱)
٭ اور ظالمین سے کہا جائیگا : چکھو جو تم کیا کرتے تھے ۔
( سورۃ الزمر:۲۴)
٭ اور اﷲ تعالیٰ ظالمین سے محبت نہیں کرتا ۔
اسلامی حکومت میں احتساب و محاسبہ سب سے پہلے حاکم کی ذات سے شروع ہوتا ہے ، پھر حکومت کے ذمہ داران و عہدیداران احتساب کے پابند ہوتے ہیں اس کے بعد عوام پر عدل و انصاف کے ذریعہ حکومت کی جاتی ہے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب حضرت ابوھریرہ ؓ کو ’’بحرین ‘‘ کا والی مقرر کیا تو فرمایا کہ ان کے مال کا حساب کیا جائے۔ حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو یہ بات اثر کی فرمایا ، والی تو بناتے ہیں لیکن امانت داری پر اطمینان نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حکمراں بناتے وقت اور ذمہ داری سے سبکدوش ہوتے وقت والیوں کا حساب و کتاب کیا جائیگا ۔
پس جب حکومت ہند نے نوٹ بندی کا فیصلہ کرتے ہوئے ملک کے ہر باشندہ کو تکلیف و پریشانی کا شکار کردیا ہے حتی کہ کئی معصوم جانیں جاچکی ہیں اب مزید اقدامات کرنے سے قبل برسراقتدار حکومت کے تمام وزراء اور پارٹی قائدین کا محاسبہ ہونا چاہئے ۔ جب تک کالے دھن کی تفتیش کا عمل ارباب اقتدار سے نہ کیا جائے اس وقت تک عوام کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے ۔ اور یہی ان معصوم و مظلوم جاں بحق ہونے والے ہندوستانیوں کی دیت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT