Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی سے ’حکومت کی طاقت‘ کے مقابلہ ’عوامی طاقت‘ ، کو مرکزی اہمیت

نوٹ بندی سے ’حکومت کی طاقت‘ کے مقابلہ ’عوامی طاقت‘ ، کو مرکزی اہمیت

اپوزیشن جماعتوں کا مباحث سے فرار، ارکان پارلیمنٹ عوام میں شعور بیدار کریں ، وزیراعظم مودی کا خطاب
نئی دہلی۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج دعویٰ کیا کہ عوام نے نوٹ بندی کی تائید کی ہے اور ان کی حکومت کے اس فیصلے کے ذریعہ ’’جن شکتی‘‘ (عوامی طاقت) کو ’’مرکزی حیثیت‘‘ حاصل ہوئی۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو مرتبہ راجیہ سبھا میں موجود تھے، اس کے باوجود مباحث کے لئے اتفاق نہ کرنے سے اس کا حقیقی رول بے نقاب ہوچکا ہے۔ نریندر مودی نے اپوزیشن جماعتوں پر کڑی تنقید کی اور بی جے پی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پیشرو حکومتوں کے فیصلوں پر مباحث ہوئے جس سے سماجی کشیدگی بڑھی تھی لیکن اب بڑے اصلاحات جیسے کرنسی بندی پر بحث کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اجلاس کے بعد وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ ’’نقدی رقم سے پاک‘‘ اور ’’ڈیجیٹل معیشت‘‘ کے بارے میں بیداری پیدا کریں۔ اس مقصد کے لئے اسی انداز میں کام کیا جائے جس طرح انتخابات کے دوران فہرست رائے دہندگان میں عوام کے نام کی شمولیت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے لئے بلالحاظ سیاسی وابستگی کام کیا جاتا ہے۔ اننت کمار نے کہا کہ نریندر مودی کا یہ پیام تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کے لئے ہے۔ مودی نے کہا کہ جمہوریت میں جن شکتی (عوام کی طاقت) کو راجیہ شکتی (حکومت کی طاقت) سے بالاتر ہونا چاہئے۔ ان کی حکومت نے عوام کی طاقت کو مرکزی اہمیت عطا کی۔ ان کا اشارہ کرنسی بندی کے سبب عوام کو درپیش مشکلات کے باوجود تائید کی طرف تھا۔

انہوں نے یہ بات بھی یاد دلائی کہ اس وقت جبکہ ایک گھر کے لئے سالانہ 9 یا 12 سلنڈرس دیئے جائیں، بحث ہورہی تھی۔ ان (مودی) کی اپیل پر ہزاروں افراد نے ایل پی جی سبسڈی سے رضاکارانہ طور پر دستبرداری اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کرنسی بندی پر بحث میں دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے پارٹی ارکان سے کہا کہ عوام میں بیداری لانا ان کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس معاملے میں کافی ڈسپلن کا مظاہرہ کیا ہے۔ مودی نے کہا کہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے نوٹ بندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ نہیں کیا اور بہتر ہوتا، اگر وہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث کرتے اور حکومت کو مثبت تجاویز پیش کی جاتیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں ان کی موجودگی کے باوجود بحث کے لئے رضامندی ظاہر نہیں کی، حالانکہ اس سے پہلے وہ مودی کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کررہی تھیں، اس سے اپوزیشن کا موقف ’’بے نقاب‘‘ ہوجاتا ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے قرارداد منظور کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں پر تنقید کی اور اس مسئلہ پر حقیقی مقصد سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا۔ کرنسی بندی پر عوامی تائید کی ستائش بھی کی گئی۔ وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے اجلاس میں ان کی وزارت کو نقد لین دین سے پاک کے لئے اقدامات سے واقف کرایا۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر سابق چیف منسٹر گوا نے بتایا کہ ان کی ریاست میں کس طرح 60% لین دین رقمی ادائیگی کے بغیر ڈیجیٹل انداز میں ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT