Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی سے دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی ، ارون جیٹلی

نوٹ بندی سے دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی ، ارون جیٹلی

جی ایس ٹی کے مثبت نتائج ، کانگریس کو اہل قائدین منتخب کرنے کا مشورہ ، امریکہ کے دورہ سے قبل وزیر فینانس کا بیان

واشنگٹن ۔ /8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ نوٹ بندی کے نتیجہ میں جموں و کشمیر میں شورش پسندی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں تیزی سے کمی آئی ہے ۔ جہاں سنگباری کے واقعات بھی کم ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ 8 تا 10 ماہ کے دوران کوئی سنگباری کا بڑا واقعہ نہیں ہوا ۔ انہوں نے یہ ریمارکس اس وقت کئے جبکہ ان سے نوٹ بندی کے نتائج کے بارے میں پوچھا گیا ۔ سوچھ بھارت ، جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے فیصلوں سے بنیادی طور پر کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں اس پر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی نے دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑدی ہے اس وجہ سے جموں و کشمیر اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں شورش پسندانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں تیزی سے کمی آئی ہے ۔ دہشت گردی کے لئے فراہم کی جانے والی امداد بھی از خود بند ہوگئی ہے ۔ ارون جیٹلی امریکہ کی برکلے انڈیا کانفرنس سے ذریعہ ریڈیو کانفرنس اہم خطاب کررہے تھے ۔ امریکہ روانہ ہونے سے قبل انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا جہاں وہ کارپوریٹ ورلڈ سے ربط پیدا کریں گے اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بنک کانفرنس میں شرکت کریں گے ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اب آپ کے پاس دہشت گرد واقعات ہورہے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے سنگباری کرنے والوں کو 5000 ، 10,000 روپئے ادا کئے جاتے تھے لیکن جب سے نوٹ بندی ہوئی ہے جموں و کشمیر میں گزشتہ 10-8 ماہ سے ایسے واقعات کیوں نہیں ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اقدامات جیسے سوچھ بھارت ، گڈس اینڈ سرویس ٹیکس اور نوٹ بندی کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں ، ان کا بہتر اثر پڑا ہے ۔

جی ایس ٹی سے ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہیں توقع ہے کہ ہندوستان آنے والے دنوں میں پھر ایک بار پیداوار کی اپنی شرح کو حاصل کرلے گا اور عوام کے خواہشات کے مطابق ہی ترقی ہوگی کیوں کہ ہم کو یہ ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ ہمارے پاس نہ صرف ایک بڑی آبادی ہے بلکہ ملک کی حکومت انجام دینے کے لئے ہمارے پاس نوجوانوں کی بڑی آبادی بھی ہے ۔ وزیر فینانس کل سے ایک ہفتہ طویل دورہ پر امریکہ جارہے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ ہی کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے امریکی تھنک ٹینک سے ملاقات کی تھی ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ اب وقت تیزی سے دوڑرہا ہے ۔ ہمارے سامنے طاقتور معاشی گروپ والا ملک بننے کا موقع ہے ۔ ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ان اقدامات سے ملک کو طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے اور ملک کو درپیش مسائل بھی دور ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں سنجیدہ تجزیہ ہورہا ہے جس سے ظاہر ہوتا کہ ان تمام 3 پراجکٹس پر مختصر مدتی مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ اپنے دورہ امریکہ سے قبل جیٹلی نے کانگریس پارٹی کے بارے میں کہا کہ پارٹی کو اس وقت تک اپنی وسعت پذیری میں کامیابی نہیں ملے گی تاوقتیکہ وہ قابل اور اہل قائدین کو منتخب کرے ۔ کانگریس کو اپنے اصل موقف پر جانے کے لئے اچھے قائدین کا ہونا ضروری ہے ۔ زائد از ایک ماہ قبل ہی نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے برکلے میں خطاب کیا تھا جہاں ایک سوال کے جواب میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں خاندانی حکمرانی ایک سیاسی مسئلہ ہے لیکن یہ بھی کہا تھا کہ کانگریس پارٹی میں عوام کی بڑی تعداد کی کوئی خاندانی پس منظر نہیں ہے ۔ برکلے میں تقریر کے دوران راہول گاندھی نے پھیلاؤ کی سیاست پر بھی تنقید کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT